کوکھ سے جڑے روگ کی کہانی


وہ ایک پرکشش جسم کی حامل خاتون تھی جسے سجنا، سنورنا پسند تھا۔ اسے اچھا لگتا تھا کہ اس کا شوہر اس کے پہنے گئے کپڑوں کی تعریف کرے، اس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کو دیکھ کر پاگل ہو جائے اور اس کے جسم پر فدا رہے لیکن اب اسے یہ بوسے کسی بنیے کے قرض کی طرح وبال لگ رہے تھے جن کی ادائیگی میں شاید وہ خود خرچ ہو جائے لیکن قرض نہ اترے۔ اسے اس قربت سے گھن آنے لگی تھی۔ وہ اپنی جسمانی حرص کو کسی مہنگی شے کے مول میں ارزاں بیچ دینے کے خوف سے پریشان تھی۔ اسے لگتا تھا کہ اب وہ محبوب سے مقید ہو گئی ہے۔ وہ اپنا یہ حال بتانا چاہتی تھی لیکن مبارکباد دینے والوں نے اس کی جھولی میں پھول رکھ دیے اور اسے مجبوراً ان پھولوں کا نشہ کر کے اپنے دماغ کو سُن کرنا پڑا تاکہ وہ اپنی پھولوں والی گود کی لاج رکھ سکے اور مسکرا سکے کیونکہ اب وہ ایک لڑکی نہیں رہی تھی بلکہ ماں بن گئی تھی۔

امریکن کامیڈین اور اداکارہ گلڈا ریڈنر نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”زچگی دنیا کا سب سے بڑا جوا ہے، یہ شاندار زندگی کی طاقت بھی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ نفسیاتی پیچیدگیوں کا جال بھی۔ شاید ایسا جال کہ آپ نفسیاتی طور پر اس میں پھنس جائیں۔“ اور پھر اسی بات پر گزشتہ دنوں کانز فلم فیسٹیول میں ”DIE MY LOVE“ نامی ایک فلم نے کئی ایوارڈ اپنے نام کیے جہاں ایک ایسی لڑکی کی کہانی بتائی گئی جو ماں بننے کے بعد پوسٹ پریگنینسی کے دکھوں میں ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور اپنی ذہنی حالت کھو بیٹھی۔

احوال یوں ہے کہ فلم ”DIE MY LOVE“ ارجنٹائن کی مصنفہ Ariana Harwicz کے ایک ناول سے ماخوذ کی گئی ڈارک کامیڈی فلم ہے جس میں جینیفر لارنس نے مرکزی کردار نبھایا ہے۔

فلم کی کہانی گریس اور جیکسن نامی ایک جوڑے کے گرد گھومتی ہے جو ایک بچے کی پیدائش کے بعد ایک دور دراز فارم ہاؤس میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں شروع شروع میں سب کچھ آئیڈیل نظر آتا ہے اور ان کے درمیان گہری محبت ہے۔ مگر بچے کی پیدائش کے بعد گریس زچگی کے ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتی ہے جیکسن اپنے کام کی وجہ سے اکثر گھر سے باہر رہتا ہے اور گریس کو وقت نہیں دے پاتا ہے جس سے گریس کو بچے کی دیکھ بھال اور گھر کے کاموں میں دن بھر اکیلا رہنا پڑتا ہے۔ اس تنہائی اور نیند کی کمی کی وجہ سے اس کی ذہنی صحت تیزی سے خراب ہونے لگتی ہے اور اسے عجیب، عجیب سے خوف اور خیالات آنے لگتے ہیں۔ وہ چڑچڑی ہو جاتی ہے اور حتیٰ کہ ایک دن اپنی زندگی سے اس قدر اکتا جاتی ہے کہ اپنی یا اپنے وجود سے جڑی اس جان کی پرواہ بھی چھوڑ دیتی ہے۔ پھر ایک جگہ کہانی بدلتی ہے اور کہانی کے ساتھ بیماری بھی بدل جاتی ہے لیکن یہ سب کیسے ہوتا ہے وہ آپ کو فلم دیکھنے سے پتا چلے گا۔

تاہم اس ریویو میں آگے کیا پتا چلے گا وہ تھوڑا دھیان سے سننے والا گیان ہے۔

پوسٹ پریگنینسی پیریڈ جسے ہمارے ہاں عرف عام میں ”چھِلا“ بھی کہا جاتا ہے بچے کی پیدائش کے بعد چھ ہفتوں سے لے کر ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہنے والا ایک دورانیہ ہے جس میں خواتین کو جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کی تبدیلیوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٪ 40 سے ٪ 80 نئی ماؤں کو ”بے بی بلیوز“ کا سامنا ہوتا ہے جو کہ ایک عارضی کیفیت ہے اور عام طور پر بچے کی پیدائش کے 3 سے 5 دن بعد شروع ہوتی ہے اور چند دنوں سے دو ہفتوں تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اس کی علامات میں موڈ میں تبدیلی، رونے کی خواہش، بے خوابی اور چڑچڑاپن شامل ہیں۔

ایک اور مرحلہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا بھی ہے جو کہ زیادہ سنگین حالت ہے۔ یہ تقریباً ٪ 13 سے ٪ 19 ماؤں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بچے کی پیدائش کے بعد پہلے کچھ ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے لیکن اگر علاج نہ کیا جائے تو مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے اور بعض اوقات ایک سال تک بھی۔ اس میں اداسی، خوشی کا فقدان، بھوک اور نیند میں تبدیلی، تھکاوٹ، چڑچڑاپن، بے چینی، اور کبھی کبھی خود کو یا بچے کو نقصان پہنچانے کے خیالات شامل ہوتے ہیں۔

ایک آخری اور خطرناک شکل پوسٹ پارٹم سائیکوسس ایک بہت ہی نایاب لیکن انتہائی شدید ذہنی بیماری ہے جو تقریباً ٪ 0.1 ( 1000 میں سے 1 ) ماؤں کو متاثر کرتی ہے جو کہ اس فلم ”Die، My Love“ میں دکھائی گئی ہے۔ اس میں حقیقت سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ وہم (hallucinations) ، فریب (delusions) ، شدید موڈ سوئنگز ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے جس کے لیے فوری طور پر کیئر کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس فلم کی کہانی میں کچھ ایسا ہی فلمایا گیا ہے لیکن اہم سوال کہ فلم ”Die، My Love“ کیوں دیکھنی چاہیے اور اس میں ایسا خاص کیا ہے تو بات کچھ یوں ہے کہ ایسی نفسیاتی ڈراما فلمیں ایک سینما فلم لور کے لیے اس لیے خاص ہیں کہ یہ محض کہانی سنانے سے بڑھ کر انسانی نفسیات کے تاریک اور غیر معروف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ فلمیں غیر روایتی بیانیے اور تجرباتی سنیما کے ذریعے ناظرین کو کردار کی بگڑتی ہوئی ذہنی کیفیت کا حصہ بناتی ہیں جس سے فلم کی کہانی محض ایک کہانی نہیں رہتی بلکہ فلم میں موجود کردار محسوس ہونے لگتے ہیں اور پھر Jennifer Lawrence جیسی اداکارہ کی شاندار ایکٹنگ آپ کو اس بات پر سوچنے پے مجبور کر دے گی کہ زچگی صرف ایک رومانوی تجربہ نہیں بلکہ ایک جسمانی اور نفسیاتی چیلنج ہے جو فقط عورت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

خاص کر پاکستان جیسے ملک میں یہ مسائل اور بھی زیادہ ہیں جہاں ایک نئی ماں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی پرانی زندگی میں واپس آ جائے اور بچے کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام کاموں کو بھی سنبھالے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت وہ نئی ماں جواب میں آپ کو کیا کہنا چاہ رہی ہوتی ہے؟

 

Facebook Comments HS