ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات
ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے لیکچر پر تاثرات ”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ تاریخ: 30 مئی 2025 (حسینہ معین ہال) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی
”اردو ناول کی عالمی منظرنامے میں غیر موجودگی: حقیقت یا خیال؟“ کے موضوع پر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا لیکچر اردو ادب کے عالمی تشخص کے حوالے سے ایک نہایت بصیرت افروز اور فکری اہمیت کا حامل بیان ہے۔ اس میں انہوں نے نہ صرف اردو ناول کی موجودگی پر سوال اٹھائے بلکہ عالمی ادبی منظرنامے میں طاقت کے توازن، تسلط اور تعصب پر بھی تنقیدی نگاہ ڈالی۔
ڈاکٹر نیر نے اس عمومی تاثر کو رد کیا کہ اردو ناول عالمی سطح پر ترجمہ یا پذیرائی سے محروم رہا ہے۔ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار 1862 سے اب تک 1100 سے زائد مصنفین کے 3500 سے زیادہ ناول اس بات کی شہادت ہیں کہ اردو ادب ایک مضبوط تخلیقی روایت رکھتا ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے آگ کا دریا، اداس نسلیں، بہاؤ اور بستی جیسے شاہکاروں کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا کہ اردو ناول صرف علاقائی اثرات کا حامل نہیں بلکہ اس میں فکری، تہذیبی اور تاریخی گہرائی بھی موجود ہے جو عالمی مکالمے میں شامل ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر نیر کا قصے کی روایت اور مغربی ہیرو کے تصور سے ہٹ کر اردو ناول کے اسلوب پر تبصرہ قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا کہ ”اردو ناول میں ہیرو نہیں بلکہ ایک کردار ہوتا ہے“ دراصل مغربی ادبی سانچوں سے باہر نکل کر اردو بیانیے کی انفرادیت کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے عالمی ادبی منظرنامے کو ایک نظریاتی اور طاقت پر مبنی نظام قرار دیا، جہاں گلوبل ساؤتھ کے ادب کو شعوری طور پر حاشیے پر رکھا جاتا ہے۔ ان کی بات چیت میں نگوگی وا تھیونگو جیسے افریقی مصنفین کا حوالہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کے کئی خطے، جن کی زبانیں اور روایات مغربی نہ ہوں، انہیں عالمی ادب میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں۔
یہ لیکچر اردو ادب کے قارئین، نقادوں اور مترجمین کے لیے نہ صرف ایک فکری چیلنج ہے بلکہ ایک دعوتِ فکر بھی ہے کہ وہ اردو ناول کو صرف ”مقامی“ نہیں بلکہ ”عالمی“ تناظر میں دیکھیں، اور اس کے بیانیے، جمالیات اور مزاحمتی خصوصیات کو بھرپور طریقے سے متعارف کرائیں۔

