تقسیم کرو اور حکومت کرو: ایک پالیسی، ایک زہر

تاریخ کی ورق گردانی سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ذہنی منصوبہ بندی تھی، جسے پہلے منگولوں اور بازنطینیوں نے اپنایا اور پھر انگریزوں نے برصغیر میں اس کو کمال مہارت سے لاگو کیا۔ انہوں نے صرف زمینوں کو نہیں بلکہ انسانوں کے اذہان، زبانوں، اور نظریات کو بھی تقسیم کیا۔ مسلمانوں کی طاقت کو توڑنے کے لیے ان ہی کے لوگوں

Read more

نادار لوگ: معاشرتی استحصال کا نوحہ

اردو ادب میں ناول نگاری کے معتبر ناموں میں عبداللہ حسین کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ وہ اردو کے نامور ادیب، صحافی، افسانہ نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ ان کا اصل نام محمد خان تھا، لیکن وہ عبداللہ حسین کے قلمی نام سے شہرت رکھتے تھے۔ ان کی وجہ شہرت معروف ناول ”اداس نسلیں“ ہے۔ نادار لوگ عبداللہ حسین کا ایک شاہکار تاریخی ناول ہے، جو 1947 ء سے 1974 ء کے درمیانی عرصے کے واقعات پر محیط ہے۔

Read more

اسد محمد خان کے افسانوں میں نو آبادیاتی جبر اور اس کے خلاف ثقافتی ردعمل

نو آبادیات سے مراد وہ استعماری طاقتیں ہیں جو کمزور قوموں پر غاصبانہ تسلط قائم کر کے نہ صرف ان کے وسائل پر قبضہ جماتی ہیں بلکہ ان کی ثقافت، تہذیب، تمدن، تعلیم، روایات اور اقدار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، یہاں تک کہ ذہنی غلامی مسلط کر دی جاتی ہے۔ برطانوی استعمار نے برصغیر میں اپنے تسلط کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا، ان کے تمدن کو کمتر اور خود کو مہذب ثابت

Read more

سہیل پرواز کی سرگزشت: اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے

سہیل پرواز جنھیں ان کے چاہنے والے آغا جی کے نام سے پکارتے ہیں، کثیر جہت تخلیقی شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، کالم نگار، ناول نگار، ادیب، ریڈیو، ٹی وی ڈراما نگار اور ٹی وی اداکار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ کچھ عرصے تک عسکری شعبے سے بھی منسلک رہے، اس دوران انہوں نے کشمیر پر ایک ڈاکیومنٹری سکرپٹ بھی لکھا۔ جسے پاکستانی عوام نے بہت پسند کیا۔ سہیل پرواز کے ناول ’ڈھاکہ میں آؤں

Read more