اُجڑی دہلیزوں کی صلح
وہ بوڑھا شخص میرے آفس میں آیا تو ہاتھ میں ایک پرانی فائل اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔ خاموشی سے کرسی پر بیٹھ کر اس نے اپنی دردناک کہانی سنائی۔ دھوپ زوال پر تھی۔ سورج کے جھکتے سائے کچی اینٹوں والی گلیوں میں ایک لمبی تھکن کی مانند پھیل رہے تھے۔ بوڑھے شجر کے نیچے بیٹھا وہ شخص وقت کی گرد میں لپٹے کسی شکستہ مینار کی مانند لگتا تھا جسے اس کی اپنی بنیادوں نے چھوڑ دیا ہو۔ ماتھے کی جھریاں، آنکھوں کی بجھی چمک اور کانپتے ہونٹ ہر چیز اپنی خاموشی سے چیخ رہی تھی کہ وہ زندگی کے اس موڑ پر آ چکا ہے جہاں امیدیں دم توڑ دیتی ہیں اور رشتے محض ناموں کا بوجھ بن جاتے ہیں۔ مگر شاید قدرت کو ابھی کہانی کا انجام لکھنا باقی تھا۔
”صاحب،“ اس نے کہا، ”اپنی زمین، اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے نام لگوا دی تھی۔ سوچا تھا بڑھاپے میں سہارا بنیں گے۔ مگر ایک معمولی تلخی پر ایک دن مجھ سے بدتمیزی کی اور گھر سے نکال دیا۔ زمین تو چلیں بیٹوں کے نام ہے۔ میرا گھر تو آج بھی میرے نام ہی ہے۔ اپنا گھر ہونے کے باوجود آج میں رشتے داروں کے ٹکڑوں پر جی رہا ہوں۔ انصاف چاہیے صاحب۔ انصاف چاہیے۔“
میں نے گہری سانس بھری۔ ان آنکھوں میں برسوں کی محبت کا خون بول رہا تھا۔ میں نے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور کیس کے سکوپ بارے اپنے کلائنٹ کو بتا کر دو روز بعد عدالت میں کیس دائر کر دیا۔
عدالت کی راہداریوں میں جب ہم باپ کی داد رسی کی خاطر پیش ہو رہے تھے تو بیٹوں کی نظریں جھکی رہتی تھیں۔ شاید وقت کی ہتھوڑی ضمیر کے سنہرے دروازے پر ہلکی دستک دے رہی تھی۔
چند سماعتوں کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔
وہی بیٹے جو باپ کو اجنبی بنا بیٹھے تھے، ایک دن خود میرے آفس میں آ پہنچے۔ چہرے ندامت سے جھکے ہوئے، آنکھوں میں شرمندگی تیر رہی تھی۔ چھوٹے بیٹے نے دھیمی آواز میں کہا،
”سر، ہم اپنے ابا سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ ہم نے بہت بڑی زیادتی کی ہے۔“
یہ سن کر میں مسکرایا۔ انسان کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ جب اسے اپنی غلطی کا ادراک ہو جائے تو وہ پلٹنے کا حوصلہ پیدا کر لیتا ہے۔
میں نے بوڑھے باپ کو بھی آفس بلایا۔ جب وہ آیا تو کمرے میں ایک عجیب سا سکوت چھا گیا۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے برسوں کا بکھرا ہوا موسم ایک پل میں سمٹ آیا ہو۔ بیٹوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر باپ کے پاؤں پکڑ لیے۔
”ابا، ہمیں معاف کر دو۔ ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔“
بوڑھا باپ جس کا دل دکھوں کی دھوپ میں برسوں جھلسا تھا، اپنے بچوں کو یوں گڑگڑاتے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
”بس میرے بچو، میرے جیون کا خزانہ تم ہی ہو۔ مجھ سے دور نہ جانا۔“
میرے کمرے میں ایک ان کہی خوشبو پھیل گئی۔ جیسے کوئی اجڑا ہوا آنگن پھر سے مہک اٹھا ہو۔ صلح کے دستاویزات ترتیب دیے گئے۔ عدالت میں درخواست گزار دی گئی کہ معاملہ فریقین کے درمیان صلح سے طے پا گیا ہے۔
چند دن بعد میں نے دیکھا کہ وہی بوڑھا شخص، جو کبھی جھکی ہوئی کمر کے ساتھ آتا تھا، اب ہلکی سی بشاشت لیے اپنی نئی بہاروں کی خوشبو سمیٹتے ہوئے چلا آیا۔
”صاحب۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ میرے بچے میرے پاس آ گئے ہیں۔ اب یہ دنیا پھر سے روشن لگنے لگی ہے۔“
میں نے سوچا انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا مال یا زمین نہیں بلکہ اس کی اولاد ہے اور اولاد کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کے دل کا چراغ بجھنے سے پہلے ندامت کے پانی سے اسے پھر سے روشن کر دے۔
کہانی ختم ہوئی مگر ایک سبق چھوڑ گئی:
اسی سے ملتی جلتی ایک بدنصیب ماں کی کہانی آج بھی میرے دل پر نقش ہے۔ رشتے جائیداد کے سودے نہیں ہوتے۔ ماں باپ کی محبت اور دعائیں کبھی بھی کسی قانونی دستاویز کی محتاج نہیں ہوتیں۔ جائیداد کی منتقلی چاہے کسی کاغذ پر ہو، اولاد کے دلوں پر محبت اور احترام کی مہر ثبت نہ ہو تو ساری جائیداد بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔


