یوکرین کا روس پر تباہ کن حملہ
یوکرین نے اتوار کو روس پر اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرون حملہ کر کے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس حملے میں سائبیریا میں پانچ اہم روسی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بیلایا ائربیس بھی شامل ہے، جہاں روس کے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیارے موجود تھے۔
یوکرین کی خفیہ ایجنسی ”ایس یو بی“ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں روس کے 41 جنگی طیارے، جن میں ارلی وارننگ اور بمبار طیارے بھی شامل ہیں، تباہ کر دیے گئے، یوکرینی دعوی کے مطابق، حملے سے روس کو 7 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے۔ حیران کن طور پر یہ ڈرون حملہ روس کی سرزمین کے اندر 1500 سے 4500 کلومیٹر کی گہرائی پر واقع پانچ مختلف اہم اسٹریٹیجک فضائی اڈوں پر کیا گیا، جو اب تک کی سب سے بڑی و دلیرانہ کارروائی تصور کی جا رہی ہے۔
حملے میں ڈرونز اچانک ایک کنٹینر سے بلند ہوئے اور لمحوں میں بڑی تباہی مچا دی، فرسٹ پرسن ویو یا ایف پی وی ڈرونز نے پانچ مختلف اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ائر بیسوں پر موجود جنگی اور جاسوس طیاروں کو نشانہ بنایا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق، اگرچہ پانچ میں سے تین ائر بیسوں پر ڈرونز کو ائر ڈیفنس سسٹم نے ناکارہ بنا دیا، تاہم مرمانسک اور ارکستسک ائر بیسوں پر حملے کے بعد جنگی طیاروں میں آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے ”آپریشن اسپائڈر ویب“ کی خود نگرانی کی، جس کی منصوبہ بندی ڈیڑھ سال قبل خفیہ ادارے نے شروع کی تھی۔ اتوار کی رات صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس ڈرون حملے کو ”انتہائی شاندار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ مکمل طور پر یوکرین کی ایک آزادانہ کارروائی تھی، جس کا نتیجہ ناقابلِ تردید ہے۔ یہ ہماری اب تک کی سب سے طویل فاصلے پر کی گئی کارروائی ہے“ ۔
اپنے ویڈیو خطاب میں صدر زیلنسکی نے مزید انکشاف کیا کہ اس حملے میں 117 ڈرونز استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق، ”روس کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے“ ۔
یوکرینی خفیہ ادارے ایس یو بی نے اتوار کو اعلان کیا کہ اس نے روس کے فوجی ہوائی جہازوں کو نشانہ بنایا، خصوصی کارروائی کے نتیجے میں دشمن کی اسٹریٹجک ایوی ایشن کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 7 ارب ڈالر ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی انتہائی خفیہ انداز میں کی گئی، جس میں ڈرونز کو ٹرکوں کے ذریعے روس کے اندر گہرائی تک اسمگل کیا گیا اور ائر بیسوں کے قریب خفیہ مقامات سے لانچ کیا گیا۔
عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق، ڈرونز کو ان ائر بیسوں کے قریب موجود مقامات سے لانچ کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور منظم کارروائی تھی، جس میں روس کے اندر موجود متعدد افراد بھی شامل تھے۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے امریکہ کو مطلع نہیں کیا گیا، تاہم امریکہ کی درپردہ حمایت ممکن ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے یوکرین پر حالیہ شدید حملے پر صدر پیوٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ماسکو پر مزید پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔
روس نے اس حملے کو ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے۔ یہ حملہ ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماسکو کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کیف کے پاس ایسی معلومات اور عسکری صلاحیت موجود ہے، جس کی مدد سے وہ روس کے انتہائی اندرونی علاقوں میں بھی حملہ کر سکتا ہے۔ اس حملے نے روسی قوم پر نفسیاتی طور پر بڑا اثر ڈالا ہے، کیونکہ جنگ اب صرف یوکرین کے میدانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ماسکو کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب دوسرے دن ترکیہ کے شہر استنبول میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی پر مذاکرات ہونا طے تھا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل روس نے یوکرین پر موجودہ جنگ کا سب سے بڑا حملہ کیا تھا، جس میں 300 ڈرونز اور 69 بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔
دونوں ممالک کی جانب سے بڑھتے شدید حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کی میز پر ہر فریق مضبوط پوزیشن کے ساتھ بیٹھنا چاہتا ہے۔ روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہ بنے، جوہری ہتھیار اور جدید ویپن سسٹمز حاصل نہ کرے، اور روس کے زیر قبضہ 20 فیصد علاقہ۔ خصوصاً ڈونیسک۔ اس کے پاس رہے۔ دوسری جانب یوکرین روسی افواج کے مکمل انخلاء اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی چاہتا ہے۔
امریکی دانشور پروفیسر جیفری ساکس کا کہنا ہے کہ اس جنگ کی بنیادی وجہ امریکہ کی وہ پالیسیاں ہیں جن کے تحت 1990 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی یورپ کی ریاستوں کو نیٹو میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکی کانگریس روس پر نہ صرف نئی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے بلکہ ان ممالک کو بھی نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جو روس سے تیل اور گیس خریدتے ہیں۔ اس اقدام سے چین اور بھارت جیسے ممالک پر بھی امریکی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو روس کے لیے مزید معاشی مشکلات کا باعث بنے گا۔
روسی معیشت کا 40 فیصد سے زائد حصہ اس وقت جنگ پر خرچ ہو رہا ہے۔ گزشتہ تین سالہ جنگ میں روس اور یوکرین دونوں کو شدید عسکری و معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ روس نے یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے، بشمول ڈونیسک، لوہانسک، زاپورژیا اور خیرسون کے کچھ حصے، پر قبضہ برقرار رکھا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں روس کو اب تک تقریباً 200 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچ چکا ہے، جس میں مغربی پابندیوں، توانائی کی برآمدات میں کمی، اور جنگی اخراجات شامل ہیں۔ دوسری جانب یوکرین کو بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صنعتی مراکز کی بربادی اور مہاجرین کے بحران کی صورت میں اب تک 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں اور دونوں ممالک کی معیشتیں تباہ کن بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔ جنگ اب محض سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک عالمی طاقت آزمائی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
یوکرینی حملہ جہاں روس کے دفاعی نظام پر سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے، وہیں اس نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ یوکرین اب صرف دفاعی نہیں، بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کر چکا ہے۔ یہ جنگ کس طرف جائے گی، یہ کہنا قبل از وقت ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اب جنگ کا میدان صرف یوکرین نہیں، روس بھی بن چکا ہے۔


