فکری تنوع، روشن خیالی اور نشاۃ ثانیہ۔ کیا اور کیسے


آج فیس بک پر ہمارے محترم دوست جناب جمشید اقبال کا فکری تنوع اور روشن خیالی اور اس کے رول ماڈل کے حوالے سے ایک شذرہ پڑھنے کو ملا۔ جمشید صاحب نے حسبِ معمول انتہائی بصیرت افروز اور فکر انگیز تجزیہ پیش کیا اور اس پر قارئین کو بھی دعوتِ اظہار دی ہے۔

اس موضوع پر کچھ کہنے سے پہلے ہم واضح کرتے چلیں کہ اگرچہ جمشید ہمارے بہت اچھے اور مہربان دوست ہیں، مگر ان کی کچھ باتوں سے ہمیں اختلاف بھی ہو ہی جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی وہ اختلاف مکالمے کے بعد اتفاق میں بدل بھی جاتا ہے۔ سو ذیل میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ حقِ دوستی ہر گِز نہیں۔ کیوں کہ، ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں۔ اس وضاحت کے بعد آتے ہیں اصل موضوع پر۔

جمشید صاحب نے پاکستانی معاشرے کے پسِ منظر میں اختلاف رائے پر عدم برداشت، تنوع اور روشن خیالی اور اس کے مقامی ماڈل کے حوالے جو نکات اٹھائے ہیں اور پاکستانی معاشرے کے فکری، سماجی اور سیاسی جمود کو جس بے لاگ انداز میں عیاں کیا ہے، اس پر ایک بامقصد اور شائستہ مکالمے کی از حد ضرورت ہے بلکہ کسی یوم تشکر اور یومِ تکبیر منانے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ پاکستان میں ”ترقی“ اور ”روشن خیالی“ کی بات تو ہوتی مگراس کے لازمی جزو یعنی تنوع کے احترام پر کوئی سنجیدہ مکالمہ نہیں ہوتا۔ مغربی مفکرین صرف عقل پر زور نہیں دیتے تھے، بلکہ مختلف نقطہ نظر کو سننے اور برداشت کرنے کی روایت بھی قائم کرتے تھے۔ آزادی رائے اور تنوع پر جان سٹوارٹ مل کی یہ بات نہایت قابلِ غور ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس کی حفاظت کرے۔ اگر ہم ہر اختلاف کو ”بغاوت“ یا ”مخالفتِ دین“ سمجھیں گے، تو ہم فکری نشوونما کا راستہ خود ہی بند کر دیں گے۔ کانٹ کے مطابق روشن خیالی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی عقل سے خود فیصلے کرنے لگے، نہ کہ مذہبی یا سماجی دباؤ کے تحت۔ پاکستانی معاشرہ اگر واقعی ”روشن خیال“ بننا چاہتا ہے تو اسے افراد کو آزادانہ سوچنے کی اجازت دینا ہوگی۔ اور یہ تنوع کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی تناظر میں مل کی یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ریاست کی قدر کا اندازہ اس میں بسنے والے افراد کی قدر سے ہوتا ہے اگر افراد کو آزادانہ سوچنے، بولنے اور جینے کی اجازت نہ ہو، تو وہ ریاست کسی روشن خیال سمت میں نہیں جا سکتی۔

جمشید صاحب کا یہ تجزیہ بھی بر محل ہے کہ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کو مخالفت سمجھا جاتا ہے اور وحدت کا مطلب یکسانیت یا یونی فارمیٹی لے لیا جاتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ پاکستانی معاشرے کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی عدم برداشت، اور پر تشدد سوچ خاص طور پر اس بات پر کھلی دلیل ہے۔

جمشید صاحب نے معتزلہ کی عقل پسندی کو بھی صحیح تنقیدی تناظر میں دیکھا ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ معتزلہ کی عقل پسندی عقیدے کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی سو وہ آزادانہ سماجی یا سائنسی مکالمے کی طرف نہیں گئی۔ عقل کا استعمال صرف الٰہیاتی دفاع میں کیا گیا، نہ کہ آزاد فکر کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کی یہ ”عقلیت“ کسی نشاۃ ثانیہ کو جنم نہ دے سکی۔

جمشید صاحب اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہمیں ایسے فکری نمونوں کی تلاش کرنی چاہیے جو قربِ زمانی و قربِ مکانی کی شرط پر پورا اتریں۔ اور اس سلسلے میں انہوں نے جو اکبر کے دربار اور صلحِ کُل کا ایک نہایت مضبوط اور نظر انداز کیا گیا حوالہ دیا ہے وہ بہت سے لوگوں کے لئے آئی اوپنر ہو سکتا ہے۔ اکبر کا دربار صرف مذہبی مکالمے کا مقام نہ تھا، بلکہ یہ وہ مقام تھا جہاں بین المذاہب احترام، تنقیدی سوالات، اور سماجی ہم آہنگی کو سرکاری سرپرستی میں فروغ دینے کی کوشش کی جاتی رہی۔ اور یہ وہی عناصر ہیں جو آج کے بہ ظاہر ترقی یافتہ دور میں ہمارے یہاں عنقا ہیں ہمیں ان کی جتنی ضرورت پوسٹ ضیاع الحق دور میں آج ہے اتنی شاید آج سے پہلے پری ضیاع الحق دور میں کبھی نہ تھی۔

اکبر کو تاریخ میں فقط ”دینِ الٰہی“ کی بنیاد پر مسترد کر دینا، دراصل تنقیدی شعور، اور فکری ہم آہنگی، اور تنوع، جیسی خصوصیات کا انکار ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نصاب، مدرسے اور یہاں تک کہ سو کالڈ ”لبرل“ حلقے بھی اس بات سے غافل ہیں کہ تنقید اور تنوع کے بغیر کوئی روشن خیالی ممکن نہیں۔ ہمارے اکثر لبرلز بھی اختلاف رائے برداشت کرنے کا یارا نہیں ِ رکھتے۔ ذرا سا فکری اختلاف ان کے اندر چھپی الباکستانی متشدد روح کو سامنے نکال لاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر کے ہاں جو تنقیدی فکر تھی، وہ آج بھی پاکستانی معاشرے کے لیے ایک ایسا ماڈل ہو سکتی ہے جو اسی مٹی میں جنما اور جو کسی صحرائے عرب، یا ارطغرل اور اردگان کے ترکیہ سے مستعار نہیں لیا گیا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک ہم تنوع کو بوجھ سمجھتے رہیں گے، نشاۃ ثانیہ صرف تقریروں کا موضوع بنی رہے گی۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ پاکستان جیسے کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی ملک میں ترقی کا خواب تنوع کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔ روشن خیالی صرف فلسفہ یا علم کا نام نہیں، بلکہ ایک رویہ ہے۔ جس میں دوسروں کو سننا، برداشت کرنا اور اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ جینا شامل ہے۔

آج ہمیں جس نشاۃ ثانیہ کی ضرورت ہے، وہ صرف مغربی ماڈل کی تقلید نہیں، بلکہ ایک مقامی فکری تحریک کی شکل میں ہونی چاہیے۔ جس کی جڑیں اکبر اعظم کے ”صلحِ کل“ کے فلسفے، ادیانِ عالم کے مکالمے، اور تنقیدی فکر پر مبنی طرزِ حکمرانی میں پیوست ہوں۔ اس سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف عقل پسندی کو فروغ دے بلکہ اختلاف اور تنوع کو بھی سمیٹے۔

اگر ہم واقعی ایک نئے فکری دور کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مل، کانٹ، اور اکبر اعظم کی فکری روایت کو جوڑ کر ایک مقامی روشن خیالی کی بنیاد رکھنی ہوگی ہمیں اکبر جیسے فکری بادشاہوں کو دوبارہ دریافت کرنا ہو گا اور ان کی مذہبی رواداری کو مشعلِ راہ بنا کر موجودہ بے لچک اور متشدد مذہبی سوچ سے کنارہ کشی کرنا ہو گی کہ یہی از سرِ نو فکری دریافت ہمارے سماج کو مذہبی اجارہ داری، دانشورانہ جمود اور فکری غلامی سے نکال سکتی ہے اور تب ہی ہم بحیثیت قوم آگے بڑھ سکتے ہیں، بہ صورتِ دیگر حالات جس سمت میں جا رہے ہیں، ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari