فوڈ سپلیمنٹ لیبل کیسے پڑھیں۔ گمراہ کن الفاظ اور چھپی ہوئی حقیقتیں
یہاں ہم میگنیشیم گلائسینیٹ کی مثال لے کر، سپلیمنٹ بنانے والی کمپنیوں کی مارکیٹنگ تکنیک، خاص طور پر ان کے لیبل پر درج معلومات اور چُھپی ہوئی تفصیلات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
میگنیشیم کی گلائسنیٹ شکل آج کل ٹرینڈ میں ہے، اسی چیز کو لے کر سپلمنٹ بنانے والی کمپنیاں گاہکوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ان کے لیبل کو پرکشش بناتی ہیں۔ ہمارے جسم کی روزانہ کی میگنیشیم کی ضرورت چار سو ملی گرام سے کچھ اوپر ہے، اب کمپنیاں بوتل کے لیبل پر جلی حروف میں ”میگنیشیم گلائسنیٹ چار سو ملی گرام“ لکھ دیتی ہیں جس سے گاہک کے ذہن میں فوری طور پر یہی خیال آتا ہے کہ اس کی ایک گولی ایک دن کی ضرورت کے لیے کافی ہو گی مگر جب آپ ”سرونگ سائز“ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ چار سو ملی گرام تب پورے ہوں گے جب آپ چار گولیاں کھائیں گے نہ کہ صرف ایک۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں چار سو ملی گرام ایلی مینٹل حالت میں چاہیے ہوتا ہے جو کہ کم سے کم دو ہزار ملی گرام میگنیشیم گلائسنیٹ سے حاصل ہوتا ہے، اب اکثر کمپنیاں اس پر ایلی مینٹل مقدار نہیں لکھتیں (اس سے مراد قابلِ استعمال خالص مقدار ہے ) بلکہ کل مقدار ہی لکھ لیتی ہیں۔ اس چیز کو معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اگر ایلی مینٹل مقدار درج نہ ہو تو پھر ”ڈیلی پرسنٹ ویلیو“ دیکھ لیں، اس سے اندازہ ہو گا کہ اس میں کتنی ایلی مینٹل حالت کی مقدار موجود ہے۔
تیسری بات یہ کہ میگنیشیم گلائسنیٹ کی سب سے عمدہ صورت کا پورا نام اس طرح ہوتا ہے۔ magnesium glycinate/bisglycinate chelated nonbuffered۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ پورا ایلی مینٹل میگنیشیم گلائسنیٹ سے ہی حاصل کیا گیا ہو جو کہ نسبتاً مہنگا ہے، اس لیے کمپنیاں صارفین کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اس کے اوپر بفرڈ لکھ دیتی ہیں تاکہ کسی کا دھیان اس طرف نہ جائے کہ اس میں سارا کا سارا مواد گلائسنیٹ ہے یا نہیں۔ اس کے مقابلے میں میگنیشیم آکسائیڈ سستا اور کم معیاری ہوتا ہے جس کو یہ کمپنیاں بفرڈ لکھ کر اس میں شامل کر دیتی ہیں۔ اب یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ بفرڈ لکھ کر کتنے فی صد میگنیشیم آکسائیڈ کو گلائسنیٹ کے ساتھ ملایا گیا ہے۔
چوتھی بات یہ کہ کچھ میگنیشیم گلائسنیٹ پاوڈر کی حالت میں آتا ہے جس کے ساتھ ایک سکوپ پڑا ہوتا ہے، اس پر لکھا ہوتا ہے کہ ڈیلی ویلیو یعنی چار سو ملی گرام حاصل کرنے کے لیے کتنے سکوپ درکار ہوں گے اور اس ڈبے سے کل کتنے سکوپ حاصل ہوں گے، یہاں بھی قیمت اور وزن کو لازمی دیکھنا چاہیے۔
تحریر کا حاصل یہ ہے کہ بہترین صورت میں میگنیشیم گلائسنیٹ حاصل کرنے کے لیے آپ کو اچھی طرح تحقیق کرنی ہوگی۔ آپ دیکھ لیں کہ جہاں TRAAC اور ALBION اور unbuffered اور elemental جیسے الفاظ موجود ہوں اور اس کے آگے سرونگ سائز اور ایک گولی میں موجود کل مقدار بھی واضح لکھی ہو، تو آپ اعتماد سے اس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اول تو بہت ہی کم کمپنیاں یہ پراڈکٹ بناتی ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کے لیبل پر زیادہ تفصیل ہوتی ہی نہیں ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

