رف رف رفتن

سچا تخلیق کار وہ ہوتا ہے جو تحسین و تعریف سے مبرا ہوتا ہے، جو اپنی تخلیق سے محبت کرتا ہے، اور فن پارے کی تخلیقی جہتوں و عصری تقاضوں کو مکمل کرتا ہے۔ چاہے وہ فن پارہ کسی بھی صورت میں ہو۔ افسانوی مجموعہ ”رف رف رفتن“ کا مطالعہ مکمل ہوا، جس کے مصنف ” راشد جاوید احمد“ ہیں راشد صاحب سنجیدہ نقاد اور تخلیق کار ہیں۔ ان معدودے چند افراد میں شامل ہیں جو علمی و ادبی سرگرمیوں میں سنجیدگی سے شریک رہتے ہیں۔
” رف رف رفتن“ افسانوی مجموعے میں انسانوں کی کہانیاں ہیں، بظاہر سیدھی سادی لیکن پیچیدہ نفسیاتی گرہوں کی کیفیات و الجھنیں بیان کرتی ہیں۔ وہی الجھنیں و کیفیات جو جو انسان اپنے رویوں، برتاؤ، جذبات و افعال کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں لیکن ایک باریک بین تخلیق کار ان کو نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ بیان بھی کرتا ہے۔
ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ کسی قسم کا گہرا و گاڑھا فلسفہ بیان کرنے کی شعوری کوشش نہیں کی گئی ہے۔ جیسا کہ آج کل چلن عام ہو چلا ہے کہ کہانی افسانے یا نظم میں فلسفے یا عریانی کا تڑکا ضرور لگایا جائے یا پھر یاسیت اتنی زیادہ ہو کہ طبیعت و ذہن بوجھل ہو جائے اور نیند آنے لگے۔گزشتہ دنوں ایسے ہی افسانے مطالعے میں آئے کہ بوریت سوا ہو گئی۔
رف رف رفتن میں ایسا کوئی افسانہ یا کہانی نہیں ہے جس نے بے زار کیا ہو، بلکہ ابلاغ کی فراوانی کے دلکش پیرائے نے خوشگواریت کو جنم دیا۔ مجموعہ بیس افسانوں پر مشتمل ہے۔ ہر افسانے میں فنی تحرک اور داخلی و خارجی کیفیات کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی جزئیات کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے جو ذاتی طور پر مجھے بہت پسند ہے کیونکہ میں خود بھی کہانی لکھتے ہوئے لکھتی چلی جاتی ہوں۔ جیسے کہ اس نے ”قریب کی عینک لگا کر دیکھا“
” اس نے ہیڈ نرس کی کیپ اتاری“
” وہ صراحی سے پانی کا کٹورہ بھر کے لے آئی“
” آؤ کھانا کھائیں“
یہ جزئیات بے ساختہ تحریر میں شامل ہیں جو کہانی کار کے کہانی کہنے کی فطری صلاحیت کو عیاں کرتی ہیں۔
افسانہ ”گرے شرٹ“ عصر حاضر کی مصروفیات ہے۔
” وارفتگی دل“ معاشی فرائض و محبت کی کہانی۔ دور جدید کی یہ محبت نہ جانے کب مکمل ہو گی۔
” صرف ایک زمین“ اور ”واپسی“ ماحولیاتی تبدیلیوں اور وبا، کے متعلق افسانے ہیں، دونوں افسانے موضوع اور برتاؤ کے لحاظ سے مختلف پیرائے میں ہیں اور زبردست ہیں۔
” بارہ منٹ“ انسانی فطرت پر دلچسپ و دلگیر افسانہ ہے۔ خوفناک بھی کہہ سکتے ہیں۔
” عندلیب جاں“ عینی شاہد ”اور“ کار ناتمام ”میں انسانی رویوں کی شدت پسندی نظر آتی ہے جس کو افسانہ نگار نے خوب برتا ہے۔
افسانہ ”ایک نئی کہانی“ بہت سارے مثبت پہلو خود میں سمیٹے ہوئے ہے۔
انسانی برتاؤ و نفسیات گرہوں کو بیان کرتے یہ تمام افسانے دلچسپ و دل گیر ہیں۔ مصنف نہ صرف اچھے نقاد بلکہ ایک ایسے قلم کار ہیں جو کردار نگاری کی فنی مہارت سے کماحقہ واقف ہیں،
موضوعاتی تنوع کے ساتھ ساتھ ابلاغ کی قوت بھی برجستہ رکھتے ہیں۔

