روبوٹ رابعہ


ناصر کی شادی رابعہ سے ہوئی۔ خاندان کی تاریخ میں ایک نئی مثال، ایک ایسا باب جو خوش رنگی اور تکلف کی تمام جہتوں کو چھو آیا۔ شہر کے مایہ ناز شادی ہال میں جب وہ تقریب منعقد ہوئی، تو یوں لگا جیسے کئی صدیوں پر محیط تہذیب ایک شام کے لیے یکجا ہو گئی ہو۔ فانوسوں کی مدھم روشنی، طاؤس جیسے پیٹرن والے قالین، مہندی کے رنگ میں رچے ہوئے ہاتھ، اور تصویریں۔ جو بعد میں فوٹوگرافر نے البم کی شکل میں دی تھیں۔ سب کچھ گویا وقت کے آئینے میں جما ہوا تھا۔

وی سی آر کی کیسٹ پر محفوظ مناظر میں وہی سیاہ و سفید جذبات۔ خوشی کی ایک متحرک فلم جو اب تھوڑا سا دھندلا چکی ہے، مگر آنکھوں کے پیچھے کہیں مسلسل چلتی رہتی ہے۔

کمرے میں نیلے پردے جھولتے تھے۔ وہی نیلا جو شاید کسی دور دراز ساحل کی شاموں کا عکس تھا۔ گرین ٹی کی خوشبو۔ جس میں چینی مٹی کے برتنوں اور بارش میں بھیگی ہوئی زمین کی مہک شامل تھی۔ رفتہ رفتہ فضا میں تحلیل ہوتی جاتی بارش؟ ہاں، جیسے فیض کی کسی نظم کے سطریں برسنے لگی ہوں۔ لمحے رکے ہوئے تھے، اور لفافوں پر لکھے گئے نام گویا کسی خاندانی شجرے کی بکھری شاخیں۔

تین ماہ بیت گئے۔ ایک موسم، ایک زندگی، ایک غزل جس کے اشعار اب نئے ساز پر دہرائے جا رہے تھے۔ اور حیرت یہ تھی کہ ہر دفعہ ایک نیا مفہوم جنم لیتا، حالانکہ وقت وہی تھا جیسے پرانی غزل جس کی تشریحات ہر بار پڑھنے کے ساتھ بدلتی رہیں۔

پھر پریگننسی کی خبر آئی۔ ناصر کی مسکراہٹ میں وہی چمک نہ تھی جو پہلے تھی۔ شاید وہ اندر سے ڈر گیا تھا ذمہ داری سے تبدیلی سے یا شاید خود سے۔

علی کی پیدائش خاموش دھماکہ تھا۔ رابعہ ماں بنی اس کے چہرے پر روشنی بجھنے لگی۔ نیندیں چھن گئیں مسکراہٹیں بھی۔ ناصر رات گئے گھر آتا اسے سسرال کی باتیں بچے کے رونے اور گھر کی ٹوٹتی سانسیں سننے کو ملتیں۔ آہستہ آہستہ محبت کی وہ فاختائیں چھت سے اڑ گئیں۔

ایک روز علی پر چیختی ہوئی رابعہ کو دیکھ کر ناصر نے فیصلہ کر لیا۔ یہ ماں اب میرے بیٹے کے لیے ناکافی ہے۔

سائبرنیٹک لیب کا کمرہ آئینے کی طرح صاف تھا۔ اندر ایک مرد بیٹھا تھا۔ وہ مرد جو محبت سے زیادہ کارکردگی چاہتا تھا۔

”ہم آپ کی بیوی کی مکمل تقلید کر سکتے ہیں۔ چہرہ، حرکات، آواز، یہاں تک کہ خوشبو بھی۔“ انجینئر نے کہا، جیسے وہ خدا کا نمائندہ ہو۔

ناصر نے تصویریں، وڈیوز، آڈیوز سب پیش کر دیے۔

جب روبوٹ سامنے آیا ناصر کی سانس رک گئی۔ یہ وہی رابعہ تھی لیکن لبوں پر وہ لرزش نہ تھی جو انسانوں کو خاص بناتی ہے۔

صبح کی روشنی کچن کی سفید سنگِ مرمر کی سِل پر پھسلتی آئی۔ روبوٹ رابعہ نے نہایت  قرینے سے چمکتے ہوئے چینی کے برتن میز پر سجا دیے، جن میں نارنجی روشنی کا عکس جھلملا رہا تھا۔ پین کیکوں سے بھری پلیٹیں، تازہ نچوڑا ہوا مالٹے کا رس اور چائے کی خوشبو جیسے ماضی کے خوش کن لمحے کو مجسم کر رہی تھی۔

اصلی رابعہ نے چائے کا کپ اٹھایا مگر اس کے ہاتھ سے ایک قطرہ فرش پر گر گیا۔ اُس لمحے جیسے وقت رک گیا ہو۔

”امی! آج پین کیک بنائیں!“ علی کی آواز روبوٹ کی طرف تھی۔

رابعہ کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی تلخی پرانی غزل کی ادھوری بحر میں اٹکی ہو۔ وہ کبھی پین کیک نہیں بنا پاتی تھی۔ کبھی وقت نہیں ملا، کبھی جذبہ اور اب جیسے اختیار ہی نہیں رہا۔

روبوٹ نے علی کو چمچ سے کھلایا۔ زاویہ، رفتار، ترتیب، سب ویسے ہی جیسے اصلی رابعہ برسوں سے کرتی آئی تھی۔ مگر وہ کپکپاہٹ وہ محبت کی بے ترتیب تھرتھراہٹ کہیں دکھائی نہ دی۔

کچن کے دروازے کے پیچھے کھڑی رابعہ نے سنا وہی کہانی جو وہ سناتی تھی، وہی انداز، حتیٰ کہ آواز کے زیر و بم بھی۔ مگر کہانی کے آخر میں لرزش نہ تھی۔ نہ وہ دم توڑتی ٹھنڈی سانس، نہ تھپکیاں جو نیند کے دیوی کو دعوت دیتی تھیں۔

ناصر روبوٹ کو چارج کر رہا تھا دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے چونک کر دیکھا اصلی رابعہ واپس آ چکی تھی۔ چہرے پر شکستہ روشنی، آنکھوں میں برسوں کے ان کہے سوال۔ بال منتشر، ہونٹوں پر وہ کپکپاتی بے زبانی۔

”تم نے سمجھا تھا یہ مشین میری جگہ لے لے گی؟“

ناصر کی نظریں جھک گئیں۔ رابعہ کی آواز میں وہ لرزش تھی جو سافٹ ویئر میں کوڈ نہیں کی جا سکتی تھی۔ وہ شکوہ جو محروم دل کی زبان جانتی ہے۔

”تم بھول گئے۔ تمہارے ہاتھوں میں میرے بالوں کی خوشبو۔ وہ شام میں بخار میں تپ رہی تھی تم نے میرے گال کو چھوا بخار اڑن چھو ہو گیا۔“

ناصر نے دیکھا۔ روبوٹ کی اسکرین پر ایک دھند سی ابھری: [جذباتی تنازعہ: حل نہ ہو سکا]

علی نے روبوٹ کی طرف دیکھا پھر اپنی روبوٹ رابعہ کی گود سے نکل کے رابعہ امی کے قدموں سے لپٹ گیا۔ ”امی! واپس آ گئیں؟“

ناصر نے روبوٹ کو لے جانے والی گاڑی کی طرف دیکھا نیلی روشنیوں میں لپٹی مشین، جو بس ایک بے جان تاثر رہ گئی تھی۔ وہی چہرہ وہی آواز پر ماورائے روح!

گاڑی چلی گئی۔ رابعہ کے وجود سے سارا غبار چھٹ گیا۔ ناصر نے اسے تھام لیا۔
”سوری۔“ وہ سرگوشی میں بولا، ”میں نے زندگی پر مشین کو ترجیح دی۔“
رابعہ کی تھکی سی مگر مسکراہٹ فاتحانہ تھی ”اب سمجھ آ گئی نا؟“

روبوٹ رابعہ چلی گئی۔ علی نے اصلی امی کی گود میں سر رکھا۔ ناصر نے پہلی بار اسے دیکھا کہ وہ عورت جو مشینوں سے بہتر تھی کیونکہ وہ نامکمل تھی، مگر حقیقی۔

دونوں بھولی امیدوں کے ساتھ ایک دوسرے میں جذب ہو گئے وہ پرانی غزل جس کے بول نئے ہوں۔

Facebook Comments HS