مجھے چپ رہنے کا کہتے ہیں لیکن قوم ترقی کرتی جا رہی ہے
کچھ دن پہلے ہمارے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب نے استاد کی عظمت کو سراہا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنے اساتذہ کی بدولت ہوں ،مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کو تنقیدی ریسرچ کے اندر اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔ مگر میرے کچھ سوال ہیں جو میں نہایت ادب سے آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آج کل کے معاشرتی و سیاسی ماحول میں اگر کوئی فرد سچ بولنے یا سوال اٹھانے کی جرأت کرے، تو اسے فوراً خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ’’چپ رہو، کچھ نہ بولو، یہ قوم ترقی کر رہی ہے‘‘ جیسا جملہ اُس کی زبان پر تالا ڈالنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ترقی ہو رہی ہے تو اس پر سوال اُٹھانے سے گھبراہٹ کیوں؟ اگر سفر درست سمت میں جاری ہے، تو تنقید کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ خاموشی کی دھمکی سے۔’’چپ رہو، کچھ نہ بولو!‘‘ یہ جملہ اکثر اُن لوگوں کو سننے کو ملتا ہے جو سوال کرتے ہیں، سوچنے کی ہمت رکھتے ہیں یا معاشرے کی کسی خرابی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تنقید کو منفی سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقی ترقی کی بنیاد ہی سوال، شعور اور تنقیدی سوچ پر ہوتی ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ قوم ترقی کر رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کس طرح کی ترقی؟ اگر چند سڑکوں کی تعمیر، اونچی عمارتوں کا بننا یا میٹرو ٹرینیں چلنا ترقی کی علامت ہے تو پھر شاید ہماری سوچ محدود ہے ۔ اصل ترقی وہ ہوتی ہے جہاں عام آدمی کو انصاف ملے، ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے، جہاں صحت کی سہولت ہر فرد کو دستیاب ہو، اور سب کو آزادیِ اظہار کا حق حاصل ہو۔ جبکہ ہمارے ملک میں تنقید کرنے والے کو اکثر دو تین خطاب دے دیے جاتے ہیں جن میں سے ’’منفی سوچ‘‘ رکھنے والا، ’’ملک دشمن‘‘ یا ’’ناشکرا‘‘ کہہ جاتا ہے۔یہاں اگر کوئی حکومتی پالیسی پر تنقید کرے تو اسے ’’مخالف ایجنڈا‘‘ چلانے والا سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی سوشل میڈیا پر بدعنوانی، ناانصافی یا غربت کی بات کرے تو اسے "ملک دشمن” قرار دے کر بدنام کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی استاد تعلیمی نظام پر سوال اٹھائے تو اسے باغی سمجھا جاتا ہے، اگر کوئی صحافی کرپشن بے نقاب کرے تو اسے غیر محب وطن کہہ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی نوجوان بے روزگاری کی بات کرے تو اس پر الزام لگتا ہے کہ وہ ملک کے اچھے پہلو کیوں نہیں دیکھتا۔ دوسری طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اظہارِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جہاں لوگ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں، سوالات اٹھا سکیں، تنقید کر سکیں اور متبادل رائے دے سکیں، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ایسے میں ذہین، باشعور نوجوان یا صحافی صرف دو ہی راستے دیکھتا ہے: یا تو خاموشی اختیار کرے یا خطرات مول لے۔ دونوں صورتوں میں نقصان معاشرے کا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب اہلِ فکر و قلم خاموش ہو جاتے ہیں تو پھر جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈا راج کرتا ہے۔
جناب والا : جب کہا جاتا ہے کہ ’’قوم ترقی کر رہی ہے‘‘ تو لازم ہے کہ یہ سوال کیا جائے کہ ترقی کا معیار کیا ہے؟ کیا صرف انفراسٹرکچر — یعنی پل، سڑکیں، انڈر پاسز، یا میٹرو سسٹم — ہی ترقی کا پیمانہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو مشینوں کے ملک سب سے ترقی یافتہ ہوتے، انسانوں کے نہیں۔ترقی کا اصل معیار انسانی ترقی ہے ایسے میں بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔کیا ہر بچے کو معیاری تعلیم مل رہی ہے؟کیا غریب کو بروقت علاج کی سہولت دستیاب ہے؟کیا مزدور کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ مل رہا ہے؟کیا عورت محفوظ ہے؟کیا اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھا جاتا ہے؟کیا عدالتیں آزاد ہیں؟؟کیا صحافت آزاد ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ میں ہے تو پھر ہمیں اپنے ترقی کے دعووں پر نظرِثانی کرنی ہو گی۔
قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، نئی سڑکوں یا مہنگے منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ تعلیم، انصاف، انسانی حقوق، برداشت اور آزادیِ رائے جیسے بنیادی اصولوں پر عمل سے ہوتی ہے۔قومیں تنقید سے بنتی ہیں، چاپلوسی سے نہیں۔ اگر ہر مخالف آواز کو ’’منفی سوچ‘‘ قرار دے دیا جائے، اگر ہر سوال کرنے والے کو ’’بدنیت‘‘ یا ’’غدار‘‘ کہہ کر چپ کرا دیا جائے تو پھر معاشرے میں صرف ایک ہی بیانیہ باقی رہ جاتا ہے ۔حکومتی یا بالادستی گروہ کا۔یہ رویہ جمہوری قدروں کے منافی ہے اور خطرناک حد تک آمرانہ سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ تنقید وہ آئینہ ہے جس میں ایک قوم اپنے عیب دیکھ سکتی ہے، انہیں مان سکتی ہے اور اصلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔ لیکن جب آئینہ توڑ دیا جائے تو صرف خود فریبی باقی رہ جاتی ہے۔
جس سے معاشرے پر اس رویے کے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ عوام خوف زدہ ہو جاتی ہے، صحافی محتاط ہو جاتے ہیں، استاد محدود ہو جاتا ہے، طالب علم خاموش ہو جاتا ہے، اور نتیجتاً سچ دفن ہو جاتا ہے۔جب سوال پوچھنا گناہ بن جائے، تو نئی سوچ، جدت اور تحقیق کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ معاشرہ تقلید اور اندھی عقیدت کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔چونکہ معاشرے میں کوئی بولنے والا نہیں ہوتا، اس لیے طاقتور ظلم کرتا ہے اور کمزور سسکتا ہے، مگر سُننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم حقیقی ترقی کرے، تو ہمیں یہ رویہ ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں سوالوں کا خیرمقدم کرنا ہوگا، تنقید کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا، اور اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں، بلکہ بہتری کا راستہ سمجھنا ہوگا۔
قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو خاموش نہیں رہتیں ، ’’بولتی‘‘ ہیں، دلیل سے، ادب سے اور شعور کے ساتھ۔ ایک خاموش قوم مردہ قوم ہوتی ہے۔ زندہ قوم وہ ہوتی ہے جو سوال کرتی ہے، سچ بولتی ہے، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتی ہے۔ صرف انفراسٹرکچر کی ترقی کافی نہیں ہوتی، اصل ترقی شعور، برداشت، عدل، تعلیم اور آزادیِ اظہار سے آتی ہے۔ کیونکہ سوال کرنا جرم نہیں بلکہ ترقی کی پہلی سیڑھی ہے۔

