افسانہ: خالی کرسیاں
رات کا کوئی پہر ہو گا۔ آسمان پر چاند مستعار لی ہوئی روشنی ہر سو بکھیر رہا تھا۔ گھر کے آنگن میں گھاس کا بستر لگا تھا۔ لان کے چاروں اور پھولدار پودے خوشبو کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ اسی لان میں تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ گھر میں کوئی روشنی نہ جلتی تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
گھر کے اندر کوئی ذی روح تھا یا نہیں، اس بابت کچھ کہا نہیں جاسکتا تھا۔ گھر کا بیرونی دروازہ جو لان کی طرف کھلتا تھا، اس کا ایک پاٹ کھلا تھا۔
لان میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ان کرسیوں پر جو تعداد میں تین تھیں، تین لوگ بیٹھے تھے۔ اندھیرے کی وجہ سے ان کی شکلیں ظاہر نہ ہوتی تھیں۔ چاند کی روشنی میں وہ بات نہ تھی کہ ان کے چہرے دیکھے جا سکتے۔ یہ محض اندازہ ہے کہ وہ ایک ہی عمر کے ہوں۔ اپنی وضع قطع سے وہ تینوں مرد معلوم ہوتے تھے۔ وہ باہمی گفت و شنید نہ کرتے تھے۔ ان کے درمیان خاموشی ہی واحد رابطہ تھی۔ خاموشی جو محسوس کی جا سکتی تھی۔ خاموشی جو زبان رکھتی تھی۔ کیا وہ لفظ ادا کیے بنا گفتگو کرتے تھے؟
ایسا ممکن ہے کیونکہ ان کے درمیان ایک انرجی تھی جو ندی کی طرح بہہ رہی تھی۔ اس انرجی کی فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ موجود تھا۔ کبھی فریکوئنسی ہائی اور کبھی لو ہوتی تھی۔ اس فریکوئنسی میں کبھی اداسی اور کبھی خوشی کا گمان ہوتا تھا۔
میں گھنٹوں ان کے پاس کھڑا رہا۔ میں ان کی گفتگو کو ڈی کوڈ کرنا چاہتا تھا۔ کبھی کبھار تو مجھے گمان ہوتا کہ وہ مجھ سے بھی گفتگو کر رہے ہیں۔ لیکن یہ احساس کچھ ہی لمحوں تک رہتا تھا۔ میں سمجھ نہ پا رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ مجھے صرف کچھ ہونے کا ادراک ہوتا تھا مگر میں معنی سے ناآشنا رہا۔
رات کا اندھیرا گھٹ رہا تھا۔ صبح کا اجالا ہونے کو تھا۔ مجھے ان کے چہرے دیکھنے میں دلچسپی ہوئی۔ لیکن جیسے جیسے صبح کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں میرا سر منوں وزنی ہو رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میں برسوں سے جاگ رہا ہوں۔ میں نے خود کو نیند کی آغوش میں جاتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ تینوں وجود جو میرے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے، دھندلا رہے تھے۔ ان کی شکلیں اب سایوں کی طرح پھیل رہی تھیں، پھولوں کی خوشبو میں تحلیل ہوتی محسوس ہوتی تھیں، یا شاید خوشبو ہی ان کی آخری آواز بن کر ہوا میں گونج رہی تھی۔ جب میری بیگم نے میرے کندھے کو ہلایا، صبح ہو چکی تھی۔
بیوی نے استفسار کیا آپ لان میں کیوں لیٹے ہوئے ہیں، آپ کمرے سے باہر کب گئے؟
میرے سر میں شدید درد تھا۔ میں اٹھا اور کرسیوں کی جانب نگاہ کی۔ کرسیوں پر کوئی موجود نہ تھا۔
بیگم نے کہا جواب تو دیجیے ارے! آپ کو تو شدید بخار ہے۔
میں اٹھا اور چلنے کی کوشش کی میرے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ میں نے پیچھے مڑ کر ان کرسیوں کی جانب بار بار نگاہ کی مگر وہ کرسیاں بدستور خالی ہی رہیں۔ بیگم کا سہارا لیے میں کمرے میں جانے میں کامیاب ہو گیا اور گھنٹوں بخار میں تڑپتا رہا۔ ہر تھرتھراہٹ میں وہی خاموشی دہرائی جا رہی تھی، ہر پسینے کے قطرے کے ساتھ وہی نامعلوم اداسی اور خوشی کی لہریں میرے جسم سے ٹکرا رہی تھیں۔

