(3) جون 1947 ء کا تاریخ ساز اجلاس: تقسیم ہند کے 78 برس
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی، 712 ء میں سندھ میں محمد بن قاسم کی آمد کے ساتھ ہی مسلم حکمرانی کا آغاز ہو گیا جس کا اختتام 4 مئی 1799 ء کو سرنگاپٹم میں شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو کی شہادت کے بعد ہو گیا جب انگریزوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی آخری تلوار بھی ٹوٹ گئی تھی۔
قائد اعظم نے تشکیل پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان اسی روز قائم ہو گیا تھا جب یہاں کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ قائد اعظم نے تن تنہا انگریز، کانگریس، ہندووں اور ہندو نواز مسلمانوں کے خلاف قانونی طور پر چومکھی جدوجہد کرتے ہوئے انگریز اور دوسرے سب مخالفین پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ تقسیم ہند کا اعلان کریں۔ اگرچہ اس منصوبہ میں پاکستان کو جان بوجھ کر بہت سے مسلم اکثریتی علاقوں سے محروم کر دیا گیا تھا، تاہم قائد اعظم نے اب نہیں تو کبھی نہیں کے مصداق اس منصوبے کو تسلیم کر لیا۔ اور اس حقیقت کی بعد ازاں تصدیق ہو گئی کہ اگر اس وقت قائد اعظم اس منصوبے کو تسلیم نہ کرتے تو انگریزوں نے پورا ہندوستان، ہندووں کے حوالے کر کے یہاں سے نکل جانا تھا۔
بروز پیر صبح 10 بجے 2 جون 1947 ء کو وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ایک تاریخ ساز اور نہایت ہی اہم اجلاس کا آغاز ہوا۔ اس اجلاس میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ان کی ٹیم، قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی ٹیم اور پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کی ٹیم نے شرکت کی۔ جبکہ سکھوں کی طرف سے بلدیو سنگھ اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ان رہنماؤں کے سامنے اپنا منصوبہ پیش کیا۔
اگلے روز 3 جون 1947 ء کو آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ دونوں نے اصولی طور پر اس منصوبے کو منظور کر لیا۔ اسی روز شام کو آل انڈیا ریڈیو پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تاج برطانیہ کی طرف سے اپنے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس روز سورج قیام پاکستان کی نوید لے کر طلوع ہوا تھا۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس روز ہندوؤں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے مطالبے کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ اس دن کو یوم اعلان آزادی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
وہ پاکستان جس کے حصول کے لیے برصغیر پاک و ہند کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور جو اقبال کے خواب کی تعبیر تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے جس پاکستان کا مطالبہ کیا گیا تھا اور جس کے خد و خال کا اور جغرافیائی حدود کا تعین قائداعظم نے کیا تھا ویسا پاکستان مسلمانوں کو نصیب نہ ہو سکا۔ منصوبے کی رو سے بنگال اور پنجاب کی تقسیم، صوبہ سرحد اور ضلع سلہٹ میں ریفرینڈم اور بلوچستان میں عوام کی مرضی معلوم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔
9 جون 1947 ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا اور کافی غور و خوض کے بعد 3 جون 1947 ء کے منصوبہ کو بطور مجبوری منظور کر لیا گیا، کیونکہ یہ بات دستاویزات سے ثابت ہو چکی ہے کہ اگر مسلم لیگ ایسا نہ کرتی تو انگریز حکومت، ہند کی حکومت کانگریس کے حوالے کر کے یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لیتی۔ اور مسلمان ہندؤؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جاتے۔ اس کے فوراً بعد آل انڈیا کانگریس نے بھی مذکورہ منصوبے کی منظوری کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اس سیاسی ڈرامے کا اختتام ہوا جس کا آغاز برصغیر پاک و ہند میں انگریز کی آمد کے فورآً بعد ہوا تھا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔ اور پندرہ اگست کو ہندوستان کی آزادی کا۔ یوں صرف 72 دن کے بعد 14 اگست کو دنیا کے نقشے پر اس وقت کی سب سے بڑی مسلم ریاست پاکستان کے نام سے نمودار ہوئی۔
اے نگار وطن تو سلامت رہے، تا قیامت رہے۔

