شیڈول کاسٹ اور مسیحی اقلیت
غیر منقسم ہندوستان میں آخری مردم شُماری 1941 میں ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی مردم شُماری 1951 میں ہوئی۔ گو کہ پاکستان میں 9 کے قریب مذہبی گروہ بستے ہیں۔ جن میں مسیحی، شیڈول کاسٹ، ہندو جاتی، پارسی بہائی، سکھ، پارسی، کیلاشی بدھسٹ، احمدی۔ لیکن وزارت شماریات کے ریکارڈ میں ان میں سے 5 مذہبی گروہوں کے نام لکھے ہیں۔ جن میں مسیحی، شیڈول کاسٹ، ہندو جاتی، پارسی، بدھسٹ اور 1981 کی مردم شماری میں اس فہرست میں احمدیوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں شیڈول کاسٹ اور کیلاش کا خانہ نہیں ہے۔ وزارت شماریات کے ریکارڈ کے مطابق اس میں سے مغربی پاکستان کی آبادی کے اعتبار سے تین بڑی اقلیتوں کے اعداد و شمار کچھ یوں تھے۔ 1951۔ 1961۔ 1972 میں شیڈول کاسٹ کی آبادی بالترتیب 369831۔ 418011۔ 603369۔ تھی یہ مغربی پاکستان کی مجموعی اقلیتی آبادی کا بالترتیب 38 فیصد، 34 فیصد اور 30 فیصد تھی۔ پھر اچانک پتہ نہیں کیا ہوا۔ کسی ڈاکٹرائن کا اثر ہوا۔ یا ہندو جاتی زعما کے اثر و رسوخ نے کام دکھایا 1981 کی مردم شماری میں شیڈول کاسٹ کا خانہ ختم کر دیا گیا۔ جس سے ایک دم ہندو جاتی آبادی جو 1951۔ 19561۔ 1972 میں بالترتیب 160664۔ 203794۔ 296837 تھی۔ یہ مغربی پاکستان کی مجموعی اقلیتی آبادی کا بالترتیب 16 فیصد 17 فیصد اور 15 فیصد تھی۔ وہ یک دم 1276116 اور مجموعی اقلیتی آبادی کا 47 فیصد ہو گئی۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ 1998 میں 17 سال بعد جب پھر مردم شماری کے کاغذات میں شیڈول کاسٹ کا خانہ دوبارہ شروع کیا گیا تو شیڈول کاسٹ نے جیسے دوبارہ جنم لیا۔ 1998 کی مردم شماری میں 332342 دکھائے گئے۔ جو کہ مجموعی اقلیتی آبادی کا اب صرف 7 فیصد رہ گئے۔ یقیناً یہ دوبارہ نام لکھا جانا 1985 سے 1997 تک پانچ بار ہونے والے جداگانہ اقلیتی انتحابات کی وجہ سے ممکن ہوا ہو گا۔ کیونکہ اس نظام کی بدولت شیڈول کاسٹ ایم این ایز اور ایم پی ایز بنے۔ انھوں نے آواز اٹھائی اور یہ ممکن ہوا۔ لیکِن ماضی میں ہوئی کاغذی نسل کشی کو نہ درست کیا گیا بس پھر نئی گنتی شروع کی گئی۔ جو شیڈول کاسٹ ہندو جاتی میں گنے گئے وہ کاغذوں میں وہی رہ گئے۔ اس طرح وہ 2017 اور 2023 کی مردم شماریوں میں بالترتیب 849614۔ 1349487 اور مجموعی اقلیتی آبادی کا 11 فیصد اور 15 فیصد ہیں۔ اگر ہم صرف سرکاری اعداد و شمار کے حساب سے ہی دیکھیں تو جس تناسب سے ان کی تعداد تھی اگر اسی کا اوسط وہ مجموعی اقلیتی آبادی کا 34 فیصد ہی رہتے، تب بھی وہ 2982269 ہوتے۔ لیکن کسی مرد دانا نے کیا خوب کہا ہے، کہ استحصالی نظام کمزور طبقات کو اتنا کمزور اور ناتواں کر دیتا ہے کو وہ جینے کو ہی دنیا کی سب بڑی عیاشی سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لئے شیڈول کاسٹ سماجی و سیاسی لیڈروں نے 2023 کی مردم شماری میں اپنی تعداد کو ساڑھے 13 لاکھ دیکھ کر ہی باقاعدہ خوشی کے شادیانے بجائے ہیں۔ آور اپنی سیدھی سادی تقریباً 17 لاکھ کی کاغذی نسل کشی کو بھول چکے ہیں۔ اس وقت 2023 کی مردم شُماری کے مطابق مجموعی اقلیتی آبادی 8771380 ہے۔
جبکہ اس سے پہلی 6 مردم شماریوں میں مجموعی اقلیتی آبادی پہلے صرف مغربی پاکستان کے اور پھر پاکستان کے اعداد و شمار مندرجہ ذیل تھے۔ 1951 میں 970476۔ 1961 میں 1214135۔ 1972 میں 2027224۔ 1981 میں 2690788۔ 1998 میں 4821628۔ 2017 میں 7331246۔ 2023 میں 877180 ہے۔
اگر معروضی پاکستانی معاشرے میں شیڈول کاسٹ سماج کے محرکات کا بغور جائزہ لیا جائے تو۔ تو پاکستان میں بسنے والی شیڈول ذاتوں میں سے ایک آدھ کو چھوڑ کر آج بھی یہ دھرتی واسی انتہائی پسماندگی کی دہی زندگیاں گزار رہے ہیں جس کی بدولت ان کی آبادی کی کسی بھی پاکستانی گروہ خصوصاً مذہبی اقلیتوں میں سے سرکاری کاغذات میں اندراج نہ کروانے کی شرح سب سے زیادہ ہوگی۔ اس لیے اگر شفافیت سے 100 فیصد درست اعداد و شمار سامنے آ جائیں تو یہ مجموعی اقلیتی آبادی کا 34 فیصد سے بھی زیادہ ہوں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اس کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے تو سب سے پہلے نمبر پر وہ ہی غربت، پسماندگی لاشعوری پھر جو لوگ ان مسائل سے نکل چکے ہیں۔ اور ان میں اگر اہلیت ہے بھی تو، وہ اقلیتی انتخابی نظام شفافیت اور انصاف پر مبنی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر وقت ترجیحی فہرستوں میں اپنے نام ڈلوانے کی تگ دو میں زندگیاں تیاگ کیے بیٹھے ہیں۔ یا تھوڑے باشعور لوگ جو ان میں ہیں وہ این جی اوز کی ملازمتیں کرنے ہیں۔ وہ پروجیکٹ ٹو پروجیکٹ کام کرتے ہیں۔ اہل اور نیک نیت خواتین و حضرات بیچارے روز مرہ کے مسائل سے ہی نکل نہیں پاتے۔ پھر اس کاغذی نسل کشی سے جس طبقے کی عددی استعداد کار میں کاغذات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی سرکار، دربار تک رسائی بھی بہت زیادہ ہے۔ پھر چند ماہ پہلے تک تو ڈاکٹرائن بھی کچھ ایسا تھا۔ انھیں بڑھا کر پیش کرنا حکمرانوں کی نمبر ون ترجیح تھی۔ 1981 والی واردات پاکستانی مسیحیوں کے ساتھ 2017 میں دوہرائی گئی۔ مسیحی آبادی جو 1951۔ 1961۔ 1972۔ 1981 اور 1998 تک بالترتیب 432708۔ 583884۔ 907861۔ 1310426۔ 2092002 تھی اور پہلی تین مردم شماریوں میں مغربی پاکستان کی مجموعی اقلیتی آبادی اور اگلی دو مردم شماریوں میں مجموعی اقلیتی آبادی کا بالترتیب 45 فیصد 46 فیصد 45 فیصد 49 فیصد اور 44 فیصد تھی۔ وہ 2017 کی مردم شماری میں گھٹ کر مجموعی اقلیتی آبادی کا 36 فیصد رہ گئی جو کہ 2632048 تھی۔ وہی تناسب 2023 کی مردم شماری میں بھی قائم رہا اور 2023 کی مردم شماری میں یہ تعداد 3300788 ہے یہ تعداد مجموعی ہندو آبادی کا 38 فیصد ہے۔ جبکہ پہلی پانچ مردم شماریوں میں مسیحی آبادی اوسطاً مجموعی ہندو آبادی کا 46 فیصد رہی ہے۔ اس حساب سے مسیحی آبادی کو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی 4034834 ہونا چاہیے لیکِن سرکاری کاغذات حقیقت یہ بیان کرتے ہیں کہ ہندو جاتی آبادی جسے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہی 2023 میں 1403420 ہونا چاہیے وہ 3867729 ہیں۔ جبکہ شیڈول کاسٹ 1981 کی مردم شُماری کے زخم چاٹ رہیں ہیں اور عام مسیحی 2017 کے کاغذی کشی پر تب سے ہی چیخ پکار کر رہے جب کہ خاص مسیحی جو کار سرکار، دربار میں بھی ہیں چاندی کے بیوپار اور محرومیوں کے کاروبار کی بدولت استعداد کار بھی رکھتے ہیں، ان کی ترجیحات میں یہ شامل ہی نہیں ہے۔ رہ گئی سرکار اور دربار تو ان دونوں وارداتوں میں ایک چیز سامنے آئی ہے کہ ہندو جاتی کے نمائندوں نے انتہائی منظم طریقے سے اپنی مالی استعداد کے ذریعے اپنی عددی طاقت کو بڑھا کر اپنی ریاستی و حکومتی استعداد کار میں بھی بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں پچھلی دو دہائیوں سے مینار ٹی کے لئے مخصوص نشستوں کا جو نظام ہے۔ اس کے مطابق کل 38 سیٹیں اقلیتوں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔ جن میں 24 ایم پی ایز 10 ایم این ایز 4 سینٹرز ہوتے ہیں۔ شروع شروع میں عموماً اس کوٹے کا 90 فیصد مجموعی ہندو آبادی اور مسیحیوں میں برابر تقسیم ہوتا تھا۔ باقی 10 فیصد چھوٹے اقلیتی گروپس میں بانٹا جاتا تھا۔ لیکِن اب ہندو جاتی اقلیت اس کو ڈومینیٹ کرتی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ سیاسی نظام میں ابھی صرف 38 میں سے صرف 27 نشستیں اقلیتوں کو الاٹ ہوئی باقی 11 کے معاملات ابھی عدالتوں میں ہیں۔ ان 27 میں سے 2 شیڈول کاسٹ 8 مسیحی اور باقی سارے ہندو جاتی ہیں۔ باقی گیارہ کا بھی جس دن فیصلہ ہوا۔ یقیناً ان میں سے بھی اکثریت ہندو جاتی ہی ہوں گے۔


