سوشل میڈیا انفلواینسر ثناء یوسف ”رپیٹڈ ریجیکشن“ کے ردعمل کا شکار ہو گئی


انتہائی سفاکانہ طور پر قتل ہونے والی ایک خوبصورت سی لڑکی جو بمشکل اپنی زندگی کی 17 بہاریں ہی دیکھ پائی تھی قادر مطلق کے حضور پیش ہو گئی، ممکن ہے اپنے زخمی جسم اور روح کے ساتھ قادر مطلق سے سوال کرے کہ میرا قصور کیا تھا؟

میں نے تو فقط اپنی چوائس کا اظہار کیا تھا جس کی اسے اس قدر المناک سزا دی گئی، کیا میرے جسم یا میرے انتخاب پر میرا کوئی حق نہیں تھا؟

کیا اپنے راستے کا خود انتخاب کرنا میری غلطی ٹھہرا؟
کیا اپنی صلاحیتوں کو لائم لائٹ میں لانے اور خود کو دریافت کرنے کا مجھے کوئی حق نہیں تھا؟

چھوٹی سی عمر میں فطرت کی طالب علم بنی، اپنے اندر کے تجسس کی ٹوہ میں قدرتی پگڈنڈیوں پر چلنے لگی، قدرت کے حسین مناظر کو دریافت کرنے لگی، اپنی آنکھوں کو قدرتی مناظر سے مزین کرنے کے علاوہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترنے لگی۔

اکثر کھلی فضاؤں میں اڑتے بادلوں کو پکڑنے کی کوشش کرتی، پہاڑوں کی بلندیوں پر چاند ستاروں سے باتیں کرتی، چھوٹی سی عمر میں اس راز کو پا لیا تھا کہ زندگی کا حقیقی راز دریافت میں پنہاں ہے اور دریافت کے لیے اپنی ذات سے باہر جھانکنا پڑتا ہے۔

ابھی تو میں نے اپنی ذات سے باہر چند قدم ہی نکالے تھے کہ سماج کا حسد اور عدم تحفظ مجھے نگل گیا۔

بہت تھوڑی سی عمر میں، میں نے زندگی کی ان راہوں پر چلنے کا فیصلہ کیا جن پر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا، دریافت یا کھوج کا سب سے بڑا اصول ہی یہی ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے گرد قائم کیے گئے روایتی دائروں کو کاٹ دیا جائے، یہ دائرے مرد نے اپنے عدم تحفظ کو تسکین دینے کے لیے نجانے کب سے قائم کر رکھے ہیں، ہم پر تو بچپن سے ہی ایک مخصوص دائرے سے آگے بڑھ کر سوچنا ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔

پیدائش سے شروع ہونے والے روایتی دائروں کو بالآخر ایک دن اپنی ذات کے گرد سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئی۔

اپنی پوری شناخت کے ساتھ کیمرے کے سامنے آ گئی، جہاں بہت سوں نے ہمت بندھائی وہیں بہت ساروں نے میرے کردار پر سوال اٹھا دیے، ٹیکسی، رکھیل، طوائف، بدکردار اور نجانے کیا کچھ نہیں کہا گیا، میرا ننھا اور معصوم سا دل سماجی رویوں پر کئی پار

ٹوٹا، تنہائی میں کئی بار روئی لیکن میں نے نتائج سے بے نیاز ہو کر آگے بڑھنے کی ٹھان لی۔

ایک دن کامیابی کی اس مچان تک پہنچ گئی جس تک پہنچتے پہنچتے زندگی لگ جاتی ہے، مجھے چھوٹی سی عمر میں وہ سب نصیب ہو گیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، زندگی کے اس پورے سفر میں میرا مصمم ارادہ میرے بہت کام آیا جو نجانے کتنی بار ڈگمگایا لیکن میرا جنون جیت گیا اور میں ایک ایسی سوشل میڈیا انفلواینسر بن گئی جس کی بات کو بغور سنا جانے لگا۔

زندگی کی اس دوڑ میں، میں شاید بھول گئی تھی کہ میرا جنم ایک ایسی جگہ پر ہوا ہے جہاں ایک خاتون کو جسم بیچنے کی اجازت تو مل سکتی ہے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہرگز نہیں، خاتون کے جسم کو جنسی تسکین کے لیے نوچا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی قابلیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسے آدھی گواہی اور نامکمل شناخت کے ساتھ جھکی، سہمی اور سمٹی ہوئی روبوٹ تو سمجھا جا سکتا ہے ایک خود مختار اور مکمل انسان کا درجہ دینے سے مردوں کا رتبہ کم ہونے لگتا ہے۔

ایک آزاد، خود مختار، باشعور اور بلند فکر خاتون اس سماج کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، مرد غیرت کے نام پر ایک خاتون کی شناخت کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، شاید انہیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ ان کے کمزور پہلوؤں پر سوال نہ اٹھا دے، یہ ایک حقیقت ہے ہم بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں غیرت کے نام پر یہ سارے ہتھکنڈے مرد کی شکست کا واضح ثبوت ہیں۔

ایسی نڈر بیٹی اس منافق سماج کو ایک آنکھ نہیں بھاتی جو کھلے آسمان کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہے، بیٹی کا کھلکھلا کر ہنسنا، زور سے باتیں کرنا، آزادی سے چلنا پھرنا اور اپنے فیصلے خود لینا اس سماج کو قطعاً گوارا نہیں، کیونکہ آزاد خاتون مرد کو چند سیکنڈز میں ننگا کر سکتی ہے۔

ثناء یوسف قادر مطلق کی عدالت میں پیش ہو کر شکایت کرے گی کہ اے قادر مطلق مجھے تو نے کیسا جسم عطا کیا تھا جس پر میرا کوئی حق ہی نہیں تھا، میرا قصور بس اتنا سا تھا کہ میں نے اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود لینے کا اعلان کیا تھا۔

میں زندگی اپنے قرینے سے جینا چاہتی تھی لیکن میرے انکار کو اس سماج نے قبول نہیں کیا، میرے انکار پر میری جان لے لی گئی، اے قادر مطلق کیا میرے جسم پر میرا کوئی حق نہیں تھا؟

کیا مجھے اپنے حساب سے جینے کا کوئی حق نہیں تھا؟
اگر میری کوئی حیثیت ہی نہیں تھی تو پھر مجھے پیدا کیوں کیا؟

اے قادر مطلق میں تو تیرے حضور پیش ہو گئی، لیکن مجھے ایک شکوہ ہے کہ دنیا میں ہماری پہچان محض ایک جنسی کھلونے سے زیادہ نہیں ہے، ہمیں ہمارے ذہن یا شخصیت سے نہیں بلکہ دو ٹانگوں کے بیچ سے دیکھا جاتا ہے۔

یا تو ہماری وجہ سے اہل تقویٰ کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے یا ہماری موجودگی سے شیطان حاوی ہونے لگتا ہے، ہم کریں تو کیا کریں؟

Facebook Comments HS