ایماں کی حرارت والوں کی شرارت
مولانا طارق جمیل بلاشبہ ایک خوبصورت لب و لہجہ رکھنے والے مقرر ہیں۔ ان کے الفاظ دل میں اترتے ہیں، اور سامعین پر ایک وجد طاری ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک اچھا مقرر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ایک سچے مبلغ بھی ہیں؟ دین صرف بیان بازی سے نہیں، بلکہ اخلاص اور اصولوں کی پابندی سے پھیلتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر شخص کی رائے ہے، وہاں ہر مشہور چہرہ ایک ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔ اور اس ذمہ داری میں جذبات کی نہیں، فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ایک عالم دین اپنے میدان سے نکل کر سیاست کی بھول بھلیوں میں داخل ہوتا ہے، تو وہ دین کے تقدس کو ایک خطرناک کونے میں دھکیل دیتا ہے۔ اس سے نہ دین کو فائدہ ہوتا ہے، نہ ہی سیاست کو۔
مولانا طارق جمیل ایک عرصے تک دلوں کے امام بنے رہے۔ لیکن دلوں کی یہ امامت صرف اس وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک اس میں دنیاوی شہرت کی ملاوٹ نہ ہو۔ سیاست، خاص طور پر پاکستانی سیاست، کوئی معصوم کھیل نہیں۔ یہاں پر ایک غلط فقرہ بھی پچھلے سو خطبوں پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ کیا یہ عجیب نہیں کہ ایک ہاتھ میں دین، دوسرے ہاتھ میں دنیا، اور زبان پر وہ باتیں جو مروجہ سیاسی جماعتوں کی نرمی یا حمایت کا رنگ رکھتی ہوں؟ یہ سب کچھ مخلص مبلغ کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ مولانا کی جانب سے کی گئی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی مدح سرائی ہو یا ان کے مخالفین پر تنقید، یہ سب اس تصویر میں ایک بدنما دھبے کی طرح لگتا ہے، جو کبھی روشن دلوں کی روشنی تھی۔
تبلیغی جماعت جس سادگی اور انکساری سے جانی جاتی ہے، اس کے مرکزی چہروں میں اتنی دکھاوے کی چمک اچانک کہاں سے آ گئی؟ یہ سوال ہر سنجیدہ سامع کے ذہن میں اٹھتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تبلیغی جماعت کے اندر بھی آج اختلاف ہو، گروہ بندیاں ہوں، لیکن جس شخص کو لاکھوں لوگ دین کا نمائندہ مانتے ہوں، اس سے توقع اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا طارق جمیل اب صرف دین کے نمائندہ نہیں رہے بلکہ ایک ”برانڈ“ بن چکے ہیں، جو ہر اس جگہ دکھائی دیتا ہے جہاں شہرت، سرمایہ، اور کیمرہ ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں جو بھی شہرت کی معراج پر پہنچتا ہے، وہ اکثر خود کو سیاست میں آزمانا ضروری سمجھتا ہے، جیسے کہ یہ کوئی اگلا امتحان ہو۔ عمران خان، ابرار الحق، عامر لیاقت سے لے کر اب مولانا طارق جمیل تک، سب نے یہ سوچا کہ ان کے چاہنے والے سیاست میں بھی انہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ لیکن نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلا۔ شہرت کا نشہ شاید کوکین سے بھی زیادہ طاقتور ہے، اور جب اس میں مذہب کا تڑکا لگ جائے تو یہ ایک دو آتشہ صورتحال بن جاتی ہے۔ نہ یہ چھوڑتا ہے، نہ چھوڑنے دیتا ہے۔
مولانا کا ”مجھے کیوں نکالا“ والا رویہ کچھ نیا نہیں، لیکن ان سے یہ امید نہیں تھی۔ دین کا علم اٹھانے والا اتنا حساس اور ذاتی شکوہ لے کر کیوں کھڑا ہو؟ یقیناً، ہر انسان جذبات رکھتا ہے، لیکن ایک عالم دین کی شخصیت کو عوامی سطح پر ذاتی شکایات سے بلند ہونا چاہیے۔ کیونکہ ان کا مقام ایک امام کا ہے، نہ کہ کسی انتخابی امیدوار کا۔ تبلیغ کا اصل حسن یہی ہے کہ آپ اپنا پیغام ہر اس شخص تک پہنچائیں جو مسجد کے باہر کھڑا ہے۔ سیاست میں آ کر تو آپ خود ایک دروازہ بند کر لیتے ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں ہے کہ جب کسی شعبے کے نمایاں افراد اپنے دائرہ کار سے باہر نکل کر دوسروں کی زمین پر کھیلنے لگیں، تو اکثر تماشا ہی بنتے ہیں۔
مولانا طارق جمیل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے خود کو اسٹیج، ٹی وی، برانڈز، اور سیاسی حوالوں سے اس قدر جوڑ دیا کہ دین کا اصل رنگ ماند پڑ گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی نیت شاید خالص ہو، لیکن خالص نیت کا راستہ بھی خالص ہونا چاہیے۔ اگر راستہ گدلا ہو جائے تو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی مسافر تھک جاتا ہے۔ اسلام کا پیغام سادگی، اخلاص، اور مقصدیت پر مبنی ہے۔ اگر اس میں دنیا داری کی آمیزش ہو جائے تو پیغام بھی کمزور ہو جاتا ہے، اور پیغامبر بھی۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ آج کے مبلغین شہرت کے مارے ہو چکے ہیں۔ ان کا ہدف دل جیتنا نہیں، بلکہ ریٹنگز اور فالوورز بن چکا ہے۔ مولانا کی تقاریر سے جن لوگوں نے توبہ کی، جنہوں نے راہِ حق کو اپنایا، وہ آج ان کی سیاسی جھکاؤ کو دیکھ کر ششدر ہیں۔ کیونکہ وہ کسی سیاسی سپورٹر کی نہیں، ایک ہادی کی بات سننے آئے تھے۔
پاکستان کے عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہم دین کو فالو کر رہے ہیں یا دین کے ”برانڈ ایمبیسیڈر“ کو؟ کیونکہ دونوں میں فرق بہت گہرا ہے۔ اگر کوئی فنکار، کھلاڑی یا مبلغ اپنی اصل پہچان کو چھوڑ کر صرف کیمروں اور اسٹیج کے پیچھے بھاگ رہا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ وہ اب دین کے لیے نہیں، خود کے لیے جیتا ہے۔ مسجد تو بنا دی شب بھر میں، ایماں کی حرارت والوں نے، مگر یہ حرارت اگر شہرت کی روشنی میں جلنے لگے تو ایماں نہیں بچتا، صرف دھواں رہ جاتا ہے۔ اس لیے، اگر آپ واقعی دین سے مخلص ہیں، تو پھر دنیا کو دین کے مطابق ڈھالیں۔ دین کو دنیا کے حساب سے نہیں۔ کیونکہ وقتی فیم گزر جائے گا، لیکن اصل راستہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
اور اگر کسی اور مشہور شخصیت کو پھر بھی اپنے ”پندرہ منٹ“ کا شوق چرایا ہو، تو گزارش ہے کہ یہ کالم دوبارہ پڑھ لیں۔ کیونکہ من اپنا پرانا پاپی تھا، برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔


