ایک اور سوشل میڈیا انفلوئنسر قتل
اسلام آباد کی فضاء کل سے سوگوار ہے۔ جب اسلام آباد میں کل 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو ان کے گھر کے اندر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انفلوئنسر کا تعلق چترال سے تھا۔ سوشل میڈیا پلٹ فارم انسٹاگرام پر ساڑھے چار لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔ جب کے ٹک ٹاک پر 7 لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے۔ مقتولہ نے 29 مئی کو اپنی سالگرہ منائی تھی اپنی سہیلیوں کے ہمراہ۔ جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی تھی۔
آئی جی اسلام آباد پولیس اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔
آئی جی پولیس نے میڈیا کو آگاہ کیا ہے کہ قاتل 22 سال کا نوجوان عمر حیات ہے۔ ملزم مرحومہ کے ساتھ دوستی اور بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ جبکہ مرحومہ مسلسل اس چیز سے انکار کر رہی تھی۔ جس کے انکار پر اس نے یہ ظالمانہ قدم اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر کہرام مچ جانے کے بعد پولیس نے 20 گھنٹے سے قلیل وقت میں ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ جو خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ اس کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی اور اس کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔
یہاں ہر نوجوان نسل بالخصوص نوجوان لڑکیوں کے لیے یہ بات سمجھنا ضروری ہے جب بھی کوئی مرد یا لڑکا آپ کو چھیڑے، آپ کو تنگ کرے یا فری یا بلا ضرورت رابطے کرنے کی کوشش کرے ہر صورت یہ بات اپنے والدین یا بڑوں سے شیئر کرنی چاہیے۔ وہ آپ کے محسن ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی لازماً رہنمائی کریں گے۔
دوسرا یہ کہ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے ایک خاص طبقہ تمام مردوں کو، جانور، وحشی اور درندہ صفت قرار دینا شروع کر دیتا ہے۔ میرے نزدیک ایسے لوگ انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ ایسے سنگ دل بے شرم لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ان کو کسی مذہب، قومیت یا لسانیات کے ساتھ جوڑنا آپ کی کم عقلی کو واضح کرتا ہے۔
ہمارے دین اسلام نے اس کی واضح سزا مقرر کی ہے کہ جو بھی کسی کا ناحق قتل کرے، زیادتی کرے اس کو سر عام سزا دینی چاہیے۔ یہی واحد حل ہے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے ورنہ کبھی زیب کی صورت میں، کبھی قندیل بلوچ کی صورت میں یا کبھی ثناء یوسف کی صورت میں ایسی چیزیں ہمارے سامنے آتی رہیں گی۔ مجرمین کو قرار واقعی سزائیں ہی ایسے واقعات کو ختم کر سکتی ہیں۔


