فتح کے بعد کا امتحان: جنگ، امن اور سیاسی استحکام
اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان اپنے ازلی اور دیرینہ دشمن ہندوستان سے حالیہ مختصر لیکن شدید جنگ میں فتح یاب ہوا ہے۔ یہ ایک شاندار کامیابی تھی جس میں پاکستان کی مسلح افواج نے شجاعت، بہادری، بہتر جنگی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت بالخصوص ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بھرپور اور موثر استعمال کیا۔
یہاں یہ بات بہت حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے کہ آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دی۔ تمام سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان تحریک انصاف ہندوستان کی طرف سے شروع کی جانے والی ایک بے مقصد اور غلط مفروضوں پر مبنی جنگ میں مکمل طور پر یکجا تھیں۔ ان جماعتوں نے اپنے تمام تر اختلافات اور گلے شکوے بالائے طاق رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر سطح پر ہندوستانی حکومت کی پرزور مذمت کی اور افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی اور تعاون کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ جب بات ملکی سلامتی اور یکجہتی کی ہو تو پوری قوم اپنے اختلافات بھلا کر صرف اور صرف ملک کی سلامتی اور بقا کے لیے ہمیشہ یکجا ہوگی۔
الحمدللہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان سات اور آٹھ مئی 2025 کے درمیانی شب جب بھارت نے انتہائی بزدلانہ طریقے سے پاکستان میں شہری آبادی اور املاک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں قرار دیتے ہوئے حملہ کیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔ پاکستانی فضائیہ جو کہ ہمیشہ سے قوم کا فخر سمجھی جاتی ہے بھارتی جارحیت کا جواب دینے میں کوئی وقت ضائع نہ کیا اور حملے کے فوراً بعد دنیا کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی فضائی جنگ میں حصہ لیا۔ یہ ایک شدید لڑائی تھی جس میں ہندوستانی فضائیہ کے 82 اور پاک فضائیہ کے 44 جنگی جہازوں نے حصہ لیا۔
اس جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنی درخشاں روایات کے عین مطابق بھارتی فضائیہ کے چھ جنگی جہاز جن میں بھارتی عوام میں ایک نا قابل شکست دیوتا کا درجہ رکھنے والے تین رافیل طیارے بھی شامل تھے مار گرائے۔ پاکستانی فضائیہ کا جواب اس قدر شدید اور موثر تھا کہ اس کے بعد بھارتی فضائیہ صرف اور صرف اپنے دور دراز فضائی اڈوں اور ہینگرز تک محدود ہونے پر مجبور ہو گئی۔
فضائی جنگ میں پسپائی کے بعد بھارت نے اپنی جنگی ہزیمت کو مٹانے کے لیے نو اور 10 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے متعدد فضائی اور فوجی اہداف کو اپنے دور مار میزائلوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کے جواب میں پاکستان کی بری اور فضائی افواج نے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا جس کے دوران ایک انتہائی مضبوط اور مربوط جنگی حکمت عملی کے تحت ہندوستان کے طول و عرض میں واقع درجنوں جنگی ٹھکانوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔
پاکستانی افواج کی تمام تر کارروائی اس قدر خوفناک اور نتیجہ خیز تھی کہ ہندوستانی حکومت ایک مکمل جنگی شکست کو فوری جنگ بندی میں تبدیل کرنے کے لیے امریکی حکومت کی مدد لینے پر مجبور ہو گئی۔ پاکستان نے باوجود اس امر کے اس جنگ میں وہ واضح برتری لیے ہوئے تھا محض عالمی امن اور سلامتی کے لیے جنگ بندی کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی۔ پاکستان کی طرف سے اس وسیع القلبی کے جذبے کو صدر ٹرمپ نے بالخصوص اور عالمی برادری نے بالعموم بڑے پیمانے پر سراہا۔
اگرچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بظاہر ختم ہو چکی ہے لیکن بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی، بھارتی آئین کی شق نمبر 370 کی یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی کارروائی اور مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی ایک سے زیادہ قراردادوں جن میں ریاست جموں کشمیر کی عوام کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تھا سے انکار ابھی تک حل طلب مسائل ہیں۔ اس ضمن میں بلوچستان اور کے پی میں جاری دہشت گردی جس کو بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اب ایک بڑا تشویش ناک مسئلہ بن چکی ہے۔
مندرجہ بالا حل طلب مسائل، قضیوں اور ملک کی کمزور معیشت کی وجہ سے ملکی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہو چکی ہے جس کے فوری خاتمے کے لیے ملک میں قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ایک بڑے قومی مکالمے کی اہمیت سے اب مزید صرف نگاہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور بھارت کی حالیہ جنگ کے تناظر میں ملکی مقتدرہ اور اس کی قائم کردہ حکومت کی ذمہ داری اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس تمام تر صورتحال میں ضروری ہے کہ ملک میں وسیع تر سیاسی ہم آہنگی کے لیے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے ساتھ ایک پر معنی مکالمے کا فوری آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی رہائی کی راہ ہموار کی جائے۔ امید واثق ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی قیادت اس ضمن میں کی جانے والی تمام تر حکومتی اور ادارہ جاتی کاوشوں کو مکمل تعاون اور پذیرائی فراہم کریں گے۔
یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ سانحہ اے پی ایس پشاور کے فوراً بعد عمران خان نے اسلام آباد میں جاری اپنے دھرنے کو وسیع تر قومی مفادات اور سلامتی کے لیے یک طرفہ طور پر ختم کرنے کا فوری اعلان کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ سب کچھ کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات پر ہونے والی منفی اثرات اور اپنے حامیوں کی طرف سے ممکنہ مخالفت جس کا انہیں درحقیقت سامنا کرنا پڑا تھا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض قومی مفادات کو ترجیح دی تھی۔
ملک کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر وسیع تر ملکی مفادات اور قومی یکجہتی حاصل کرنے کی ذمہ داری اب مقتدرہ اور حکومت وقت پر آن پڑی ہے۔ امید ہے کہ وہ اس دفعہ ذاتی خواہشات، عناد اور پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر ایک وسیع تر سیاسی اور قومی یکجہتی حاصل کرنے کے لیے پرخلوص کوششوں کا آغاز کریں گے۔ جس کے لیے عمران خان اور ان کی جماعت کو ایک بار پھر قومی سیاسی دھارے میں شامل کرنا اشد ضروری ہے۔
پاکستانی مقتدرہ اور موجودہ حکومت کو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی قومی ادارہ یا حکومت چاہے وہ جتنے بھی مضبوط اور مربوط ہوں محض اپنے طور ملک میں مکمل سیاسی استحکام، معاشی بہتری، بھارت کے ساتھ دیرینہ حل طلب مسائل، اور ملک میں جاری دہشت گردی کی منظم لہر کو ختم کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ ایک اجتماعی قومی مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کے لیے مملکت کے تمام اداروں، سیاسی جماعتوں اور بالخصوص عوام کی جانب سے ایک منتخب اور نمائندہ حکومت کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام ماسوائے مٹھی بھر اشرافیہ گزشتہ 78 سالوں سے غربت، بھوک، افلاس، بے روزگاری اور آئین میں دیے گئے انسانی حقوق کی پامالی کا شکار ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال اب اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کے 40 فیصد بچے نامناسب خوراک اور غذائی قلت کے باعث جسمانی اور ذہنی گروتھ نہ ہونے کا شکار ہو چکے ہیں جو کسی بھی طور ایک انتہائی تشویش ناک بات ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مقتدرہ، حکومت وقت اور تمام سیاسی جماعتیں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف اپنے تمام تر اختلافات، رنجشیں اور پسند و ناپسند کو بلائے طاق رکھتے ہوئے صرف ایک نقطے یعنی ملک کی ہم آہنگی، یکجہتی اور معاشی و سماجی ترقی پر یکجا ہو کر ایک نئے سفر کا آغاز کرنے میں مزید دیر نہ کریں۔
یہاں اس بات کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تر حل طلب مسائل اور ملک میں جاری دہشت گردی ختم کرنے کا راستہ صرف اور صرف ایک مضبوط اور معاشی طور پر خوشحال اور آزاد پاکستان جس میں انسانی حقوق کی سربلندی کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کی بالادستی ہو میں مضمر ہے۔ لیکن اس بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ملک میں مکمل سیاسی استحکام جو کہ ایک وسیع سیاسی مکالمے اور اس کے نتیجے میں ایک آزاد اور خود مختار حکومت جو کہ عوام کے آزادانہ حق رائے دہی کے نتیجے میں قائم ہو کے بغیر محض ایک ادھورا خواب نظر اتا ہے۔
ایک بن جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے


