”سب رنگ“ ڈائجسٹ : باز گشت


اس دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے اپنے بچپن میں قصے کہانیاں نہ سنی ہوں اور اسے ان سے دلچسپی نہ ہو۔ درسی کتب میں آغاز ہی سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں شامل کی جاتی ہیں تاکہ بچے ایک طرف تو خوشی خوشی کہانیاں پڑھیں اور ساتھ ہی ساتھ زبان کے اتار چڑھاؤ سے بھی کماحقہ واقفیت حاصل کریں۔ پاپولر ادب نے کئی دہائیوں سے اُردو زبان و ادب پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ان مشہور رسالوں اور ڈائجسٹوں میں سیارہ، اُردو اور عالمی ڈائجسٹ شامل ہیں جو عوام الناس میں بہت مقبول تھے۔ اس دوران ایک نئے ڈائجسٹ ”سب رنگ“ کی اشاعت کا اعلان ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی مقبولیت آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگی۔ شکیل عادل زادہ نے عالمی ڈائجسٹ سے علیحدہ ہو کر 70 ء کی دہائی میں سب رنگ کا پہلا شمارہ شائع کیا۔ اس میں کہانیوں اور عوامی دلچسپی کے مختلف موضوعات پر تحقیقی مضامین اور فیچر شامل ہوا کرتے تھے لیکن پھر تیسرے ہی شمارے میں اس کے ٹائٹل میں ایک تبدیلی کر کے اسے مکمل فکشن اور ادبی ڈائجسٹ بنا دیا گیا اور ”سب رنگ“ کے ساتھ ایک جملے ”دنیا کی بہترین کہانیوں کا انتخاب“ کا اضافہ کیا گیا۔ یوں عالمی ادب کا بہترین فکشن اُردو کے سانچے میں ڈھل کر قارئین کے سامنے پیش ہوا جس نے تقریباً چالیس سال تک اپنے چاہنے اور پڑھنے والوں کے دلوں پر خوب راج کیا۔ احباب نے شکیل عادل زادہ کو مشورہ دیا تھا کہ مقبول ڈائجسٹوں کی موجودگی میں ایک نئے ڈائجسٹ کا آغاز درست نہیں اور اس کاروبار میں نقصان ہونے کا امکان زیادہ ہے لیکن انھوں نے ٹھان لی کہ وہ ضرور ایک ایسے رسالے کا آغاز کریں گے جو اپنے ہم عصر رسالوں سے مختلف اور معیاری ہو گا۔

اس ڈائجسٹ کے ایک شمارے کی تیاری کے لیے خاصی محنت کی جاتی تھی اور عالمی ادب کے شاہکار ڈھونڈ ڈھونڈ کر تراجم کروائے جاتے۔ عالمی افسانوی ادب پر گہری نظر رکھنے والے احباب اپنی پسندیدہ غیر ملکی کہانیوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اس مقصد کے لیے ایسے افراد اور معاونین مقرر کیے جاتے تھے جو ہر وقت معیاری کہانی کی تلاش میں رہتے تھے۔ اسی لیے شروع شروع میں ”سب رنگ“ کے شمارے اپنے وقت پر شائع ہو جاتے تھے لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا رہا کہ اگر معیاری کہانی دستیاب نہ ہوتی تو چھ چھ مہینوں اور سال بعد بھی اس کے شمارے شائع ہوتے رہتے۔ ترجمہ نگاری ایک فن ہے اور ترجمہ نگار ایک زبان سے دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس زبان کے روزمرہ اور محاورے کا بھی خصوصی طور پر خیال رکھتا ہے۔ ”سب رنگ“ کے لیے اعزاز کی بات یہ ہے کہ اس نے عالمی ادب کی بہترین اور خوبصورت کہانیاں شائع کیں اور ایک عرصے تک عوام کے بڑے حلقے کو اپنے سحر میں مدہوش رکھا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دور میں ایسے خوبصورت اور دلکش ڈائجسٹ چھپتے تھے اور اس کے ہر آنے والے شمارے کے لیے عوام شدت سے انتظار کرتے تھے۔ موپاساں، ٹالسٹائی، چیخوف، اوہنری، جیک لندن، آلڈس ہکسلے، ہیمنگوے، ہنری سلاسر، ایڈگرایلن پو، سمرسٹ مام کے علاوہ منٹو، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی اور بلونت سنگھ تک ملکی اور غیر ملکی ادیبوں کی شاہکار تحریریں ”سب رنگ“ کی زینت بنیں۔ ان تراجم میں زبان و بیان کی ندرت، کہانیوں کے متنوع موضوعات اور زبان و بیان کے نت نئے تجربات نے اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ کیا اور انہی خصوصیات کے بنا پر سب رنگ عوام کے ساتھ ساتھ خواص کا بھی پسندیدہ جریدہ بن گیا۔ سب رنگ نے جہاں اُردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا وہیں لوگوں کو کہانی لکھنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔ عوام کو عالمی ادب سے روشناس کروایا۔ کاملیت کے اصول پر کاربند ہو کر اچھا مواد چھاپنے کی جستجو تھی۔ غیر معیاری کہانی شائع کرنے سے ہمیشہ اجتناب کیا گیا اسی لیے اس ڈائجسٹ نے ایک کے بعد ایک نسل کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا اور آج بھی لوگ ”سب رنگ“ میں چھپنے والی کہانیوں کے دیوانے نظر آتے ہیں۔ اس رسالے کی اشاعت 2007 ء میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہو گئی۔ قارئین کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ اس کی اشاعت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے، لیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔

پھر 2020 ء میں ”سب رنگ“ کی محبت میں سرشار منڈی بہاؤ الدین سے تعلق رکھنے والے حسن رضا گوندل نے اس میں شائع ہونے والی غیر ملکی کہانیوں کے تراجم کو یکجا کرنے اور کتابی صورت میں شائع کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ کتاب بازار میں آئی تو ”سب رنگ“ کے دیوانوں نے ہاتھوں ہاتھ لی۔ سوشل میڈیا پر اس کے اشتہارات اور پرنٹ میڈیا میں کئی مشہور کالم نگاروں نے تعریفی کالم لکھے۔ پانچ جلدوں پر مشتمل شاندار ٹائٹل اور بہترین کاغذ کے ساتھ یہ کتابیں جہلم کے مشہور اشاعتی ادارے ”بک کارنر“ نے شائع کی ہیں۔ یقیناَ یہ کتابیں ”سب رنگ“ کے قارئین اور شوقین کے لئے ایک بہترین تحفہ ہیں۔ ان 5 جلدوں میں 150 سے زائد سمندر پار شاہکار افسانوں کے تراجم پیش کیے گئے ہیں۔ ان کہانیوں کی وساطت سے آپ ایک طرف دنیا کے بڑے بڑے افسانہ نگاروں اور ادیبوں سے متعارف ہوتے ہیں تو دوسری طرف ان کہانیوں کے ترجمہ نگاروں سے۔ جنہوں نے انہیں اُردو زبان کے قالب میں ڈھالنے کے لیے انتھک محنت کی اور ایسے تراجم کیے کہ قاری جب ایک دفعہ کہانی شروع کر لیتا ہے تو پھر اُسے ختم کر کے ہی اٹھتا ہے۔ ان پانچ جلدوں کے دیباچے میں شکیل عادل زادہ کی آپ بیتی بھی شامل ہے جس میں ڈائجسٹ کی اشاعت میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کی داستان بڑی خوبصورت انداز میں بیان کی ہے۔ امید کرتا ہوں کہ کہانی کے شوقین جلد از جلد اس قیمتی ادبی سرمائے سے مستفید ہوں گے۔

Facebook Comments HS