بجٹ سے جڑی توقعات اور خدشات
جون کے مہینے کا آغاز ہو گیا ہے۔ دفاتر میں ہم مالی سال 2024۔ 25 کے مالیاتی گوشوارے بنانے اور حساب کتاب کرنے میں مصروف ہیں۔ عمومی طور پر جون کے آخر میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں نئے سال کے بجٹ پیش کرتی ہیں۔ بجٹ محض کسی حکومت کی آمدن اور اخراجات کا گوشوارہ نہیں ہوتا، یہ حکومت بلکہ ریاست کی معاشی ترجیحات اور حکمت عملی کا عکاس ہوتا ہے۔ بجٹ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت تعلیم، صحت، دفاع، قرضوں کی ادائیگی، ترقیاتی منصوبوں وغیرہ کے لئے کیا ترجیحات رکھتی ہے۔ یہ سرکاری ملازمین یا عام شہری کی مشکلات سے کس قدر واقف ہے اور انہیں ریلیف دینے کے لئے کس قدر سنجیدہ ہے۔ عام طور پر بجٹ کو ہم اعداد و شمار کا گورکھ دھندا کہتے ہیں۔ یہ واقعتاً ایک پیچیدہ دستاویز ہوتی ہے۔ اس میں دیے گئے اعداد و شمار عام آدمی کی فہم سے بالاتر ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی بجٹ کو کامل طور پر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ تاہم اس صورتحال کے باوجود عام شہری ہو، کوئی بڑا بزنس مین، سرکاری ملازم یا سرمایہ کار، سب بجٹ کے منتظر ہوتے ہیں۔ آنے والے بجٹ سے عوام اور خواص کی بہت سی امیدیں اور خدشات جڑے ہوتے ہیں۔
ملازمت پیشہ افراد یہ جاننے کے بے تاب ہوتے ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ عام شہری کی دلچسپی اس بات میں ہوتی ہے کہ انہیں ٹیکسوں کا کتنا بوجھ اٹھانا ہے۔ تاجروں اور سرمایہ کاروں کو بھی بجٹ میں ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ جیسے معاملات میں دلچسپی ہوتی ہے۔ اسمبلی میں پیش ہونے والی مجوزہ دستاویز کو فنانشل بل کہتے ہیں۔ اس بل پر بحث ہوتی ہے۔ اپوزیشن اس کو ہدف تنقید بناتی ہیں۔ میڈیا اس کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے۔ سرکاری ملازمین اور دیگر متعلقہ تنظیمیں احتجاج کرتی ہیں اور اپنی تجاویز دیتی ہیں۔ اسمبلی میں کٹوتی کی تحریکیں پیش ہوتی ہیں۔ حکومت کو کچھ باتوں پر رضامندی دینا پڑتی ہے اور کچھ پر اپنی بے بسی اور لاچاری کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ ہر سال جب بجٹ پیش اور منظور ہوتا ہے تو اسمبلیوں میں ہمیں ہڑبونگ مچی دکھائی دیتی ہے۔ بجٹ کی کاپیاں پھاڑی جاتی ہیں۔ کاغذات اسپیکر کی طرف اچھالے جاتے ہیں۔ شور شرابا ہوتا ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس ہلے گلے میں بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل ہوتا ہے۔ بجٹ منظوری کے بعد ہر حکومت اپنے پیش کردہ بجٹ کو عوام دوست قرار دیتی ہے۔ جبکہ اپوزیشن، آنکھیں بند کر کے اس بجٹ کو عوام پر مزید بوجھ قرار دیتی ہے۔ یہ سلسلہ عشروں سے اس ترتیب کے ساتھ جاری ہے۔ اس سال بھی یقیناً یہی کچھ دیکھنے کو ملے گا۔ اگرچہ یہ ہلچل اور ہڑبونگ ہمیں دنیا کے بہت سے ممالک کی پارلیمان میں دکھائی دیتی ہے۔ تاہم پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی مخالفت اور تقسیم اس قدر زیادہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اچھے کاموں کی بھی تعریف نہیں کرتیں۔ عمومی رویہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے مخالف سیاسی جماعت کے اقدامات کو ہدف تنقید بنایا جائے۔
اس ساری صورتحال سے قطع نظر، وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بجٹ بناتے وقت عوام الناس کی مشکلات اور مصائب کو اپنے پیش نظر رکھیں۔ شہباز شریف حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ ملک کی معاشی سمت کو درست کیا ہے۔ اس دعوے ٰ کو درست ثابت کرنے کے لئے موجودہ حکومت کے پاس واقعتاً بہت سے مثبت اشاریے اور اعداد و شمار موجود ہیں۔ حکومت کے معاشی اقدامات یا کاوشوں کا ذکر کرنا اس کالم کا موضوع نہیں ہے۔ عرض یہ ہے کہ وفاقی حکومت ایسا بجٹ پیش کرے جو عوام پر لدھا ٹیکسوں اور اخراجات کا بوجھ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ صوبائی حکومتیں بجٹ بناتے وقت عمومی طور پر وفاقی حکومت کی طرف دیکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر وفاقی حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں جتنا اضافہ کرتی ہیں، اکثر و بیشتر صوبائی حکومتیں بھی اس کی تقلید کرتی ہیں۔ سو وفاقی حکومت پر صوبوں سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شہباز حکومت کا فرض ہے کہ اس مرتبہ ایک ایسا بجٹ بنائے جسے صحیح معنوں میں ”عوام دوست“ کہا جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ تاجروں اور سرمایہ کاروں سے تعاون کرتی ہے۔ بجٹ میں کاروباری طبقے کے لئے مراعات، سہولیات اور ٹیکس چھوٹ کے اعلانات کرتی ہے۔ البتہ سرکاری ملازمین عمومی طور پر لیگی حکومت سے نالاں رہتے ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی کی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافہ کرنے سے گریزاں رہتی ہے۔ ملازمین کا یہ تاثر زائل ہونا چاہیے۔ بالکل اس طرح پچھلے کچھ سالوں سے گزشتہ حکومتوں ( تحریک انصاف، پی۔ ڈی۔ ایم اور مسلم لیگ (ن) نے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ اس قدر لاد دیا ہے کہ غریب آدمی کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ مڈل کلاس تو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔
اس تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص اور صوبائی حکومتیں بالعموم عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ کچھ ماہ قبل علی پرویز ملک نے بطور وزیر خزانہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ملازمت پیشہ شہریوں سے ہدف سے زیادہ ٹیکس وصول کیے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تنخواہ دار ملازمین پر ٹیکسوں کا بوجھ کم سے کم رکھا جائے۔ یہ خبر نہایت خوش آئند ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لئے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی ہے۔ ہماری معیشت چونکہ آئی ایم ایف کی خوشنودی سے بندھی ہوتی ہے۔ حکومت نے اس امر کا اہتمام کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اس ضمن میں اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً یہ تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑا ریلیف ہو گا۔ چھوٹے گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ بھی کر دیا جائے تو کیا حرج ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ کے لئے ٹیکس ریبیٹ کے معاملے پر بھی غور ہونا چاہیے۔ اساتذہ کو ٹیکس میں کوئی ریلیف یا چھوٹ حاصل ہے تو اس کو جاری رہنا چاہیے۔ پچھلے کچھ ماہ سے اس معاملے پر ایک چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ جو نہایت نامناسب بات ہے۔
بہت اچھا ہو کہ وفاقی حکومت اور خاص طور پر تمام صوبائی حکومتیں تعلیم کے لئے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کریں۔ وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشنز مالی مشکلات کا شکار ہیں، وہ اس دباؤ سے باہر نکل سکیں۔ بالکل اسی طرح عام شہریوں کو ٹیکسوں میں ریلیف ملنا چاہیے۔ صحت کی سہولیات کے لئے بھی خصوصی بجٹ مخصوص ہونا چاہیے۔ بجلی، گیس، پٹرول کے بلوں نے عوام کی زندگی کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ان کی قیمتوں میں کمی لانی چاہیے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی کے لئے بھی اقدامات تجویز ہونے چاہئیں۔ صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس کی جانب بھی توجہ ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی جیسے مواقع دستیاب کرنے پر بھی توجہ ہونی چاہیے۔
معاشی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ شہباز حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ مہنگائی کو کم کیا ہے۔ ان کے دور میں زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹاک ایکس چینج نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ تاہم گزارش یہ ہے کہ جب تک عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات نہیں ملتی۔ انہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر نہیں آتیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں آتے، حکومت کی معاشی محنت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے، تب تک یہ عوام کو معاشی اعداد و شمار کی بہتری سے کوئی غرض نہیں ہے۔ لازم ہے کہ آنے والے بجٹ میں ایسے اقدامات ضرور کیے جائیں جن کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچے۔


