تتلیوں کے موسم میں گلابوں کو نوچنے کا حوصلہ کون کر سکتا ہے؟

گل بدن کو کون سفاک مار سکتا ہے؟ تتلیوں کے موسم میں گلابوں کو نوچنے کا حوصلہ کون کر سکتا ہے؟ جگنو کی روشنی کو کون گل کر سکتا ہے؟ آبشاروں کے ترنم، گلہائے رنگ رنگ کے تبسم اور طائران خوش گلو کے تکلم کو کون درندہ صفت قتل کرنے کی ہمت کر سکتا ہے؟ اتنا سفاک کون ہو سکتا ہے۔ ساز و آواز، رقص و سرود کو یوں ان واحد میں ختم کرنے کی ہمت کس میں ہے؟ کوئل کی کو کو اور بلبل ہزار داستان کی نغمہ سرائی کا گلہ کون بدبخت گھونٹ سکتا ہے؟ خواب دیکھنے والی آنکھوں کو اس طرح کون ہمیشہ کے لیے بند کر سکتا ہے؟ محبتوں کی زمزمہ پردازی، قہقہوں کی بلند پروازی اور نرم و نازک جذبوں کی فرازی کو یوں چالبازی سے کون جلاد نما شخص موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے؟
ثنا یوسف کوئی دہشت گرد تھی نہ ان کی سہولت کار، اس نے کسی کے گلے کاٹے نہ راستے، کسی پر سب و شتم کی سنگ زنی کی نہ ملامت کے تیر چلائے ؛ پھر اسے یوں بے دردی سے کس جرم کی پاداش میں قتل کر دیا گیا؟ وہ بھی دارالحکومت کے قلب میں کس شقاوت قلبی سے اسے گولیوں سے بھون دیا گیا کہ سب کے قلب چھلنی، روحیں گھائل اور جذبات مجروح ہو گئے۔
ہم قوم نہیں، عجیب و غریب اور نت نئی چلتی پھرتی زندہ لاشوں کا گویا مجموعہ اضداد ہیں۔ سوشل میڈیا پر بے شمار تبصرے اس اندوہناک اور سفاک قتل کی کھلی حمایت میں دیکھنے کو ملتے ہیں، دوسری طرف لوگوں کی اکثریت راولاکوٹ میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے دہشت گردوں کو معصوم و بے گناہ قرار دے رہی ہے۔ لاتعداد ایسے شقی القلب بھی ہیں کہ جو غیرت کے نام پر اس اندھے قتل کو جائز کہہ رہے ہیں۔ وہ بچی جس نے ابھی زندگی کی محض سترہ بہاریں دیکھی تھیں، اسے کس بے دردی سے اس نام نہاد قومی غیرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
اس دیس میں نفرت کے نام پر یہ پہلا قتل ہے نہ آخری۔ ایسا تو کب سے ہوتا آ رہا ہے اور حرماں بخت و لاچار دختران نرم و نازک سخت گیر قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں لخت لخت ہوتی رہی ہیں۔ بقول شخصے یہ ملک و معاشرہ نہیں ایک بہت بڑا گٹر ہے، جس میں پچیس کروڑ نفوس سڑاند زدہ ماحول میں زندگی کے نام پر جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
اسلام تو عورت کے متعلق یہ کہتا ہے، وہ کہتا ہے، ایمان و غیرت کا تقاضا ہے کہ مرد اپنے گھر کی عورتوں کو کنٹرول کریں، گویا مرد ان کے آقا و مالک ہوئے اور عورتیں ان کی محکوم و مقہور رعایا جن کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں۔ ویسے تو یہ ملک و معاشرہ مردوں کے لیے بھی کون سا جنت کا نمونہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ عورت کے لیے تو جہنم زار ہے۔ میرے پاس اختیار ہو تو یہاں حوا کی بیٹیوں کی پیدائش پر ہی پابندی لگا دوں۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ ریاست کہاں ہے؟ ریاست کچھ دن ہمیشہ کی طرح اس سانحے پر بھی سیاست کھیلے گی اور پھر چل سو چل۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ فکر ساز اور راست باز و پاکباز کہاں ہیں، وہ اپنی روش سے باز آئیں گے تو کوئی سدھار پیدا ہو گا ناں!
جس ملک کے استاد اپنا مضمون چھوڑ کر کلاسوں میں مذہب کا چورن تقسیم کریں، سیاست دان سب کام چھوڑ کر طاقتوروں کی تابع فرمانی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں، دانش فروش دانش کے موتی بکھیرنے کے بجائے شخصیت پرستی کا منجن فروخت کرنے لگیں اور وارثان منبر و محراب اور مجاوران زیارت و خانقاہ درس انسانیت اور احترام آدمیت کی جگہ فرقہ پرستی کو فروغ دیتے ہوئے، ایسے سانحات کے لیے مذہب کے نام پر من گھڑت و خود ساختہ تاویلات گھڑنے لگیں تو وہاں ایسے حوادث میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔

