دنیا کی واحد خاتون مسلمان سربراہِ مملکت متحدہ جمہوریہ تنزانیہ کی صدر سامیہ صولوحو حسن


 

سامیہ صولوحو حسن کا تعارف

چند روز قبل گوگل پر کچھ دیکھ رہا تھا تو تنزانیہ کی خاتون صدرِ مملکت سے مبینہ طور پر پیرس ائرپورٹ پر پیش آنے والا ایک ناخوشگوار واقعہ توجہ کا مرکز بن گیا۔ میں نے بھی چاہا کہ اس پر قلم اٹھاؤں لیکن جب مزید چھان بین کی تو خبر جھوٹی نکلی۔ گویا ثابت ہوا کہ سماجی رابطوں اور یوٹیوب کی ہر ایک خبر یا ویڈیو درست نہیں ہوتی۔ البتہ ایک فائدہ ضرور ہوا کہ تنزانیہ کی صدر ’سامیہ صولوحو حسن‘ کے بارے میں جاننے کا موقع مل گیا۔ یہ اپنے ملک کی قیادت کرنے والی پہلی اور آج کی دنیا میں واحد مسلم خاتون سربراہ مملکت ہیں۔ یہ تنزانیہ کی چھٹی صدر ہیں۔ انہوں نے اس عہدے سے پہلے 2015 سے 2021 تک تنزانیہ کی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اپنے پیشرو جان میگوفولی کی موت کے بعد صدارت کے عہدے پر فائز ہوئیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

سامیہ صولوحو حسن 27 جنوری 1960 کو سلطنتِ زنجبار میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک استاد تھے۔ چار سال بعد ، سلطنتِ زنجبار اور ٹانگانیکا کے اتحاد سے تنزانیہ وجود میں آیا۔ سامیہ حسن نے اپنی ثانوی تعلیم 1977 میں مکمل کی اور ایک دفتر میں کلرک کے طور پر کام شروع کیا۔ جلد ان کی شادی زراعت کے شعبہ سے وابستہ حفیظ امیر سے ہو گئی۔ ان سے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے۔ انہوں نے ملازمت کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھی جو گھر گرہستی والی خاتون کے لئے ہر گز بھی آسان نہیں۔ یوں انہوں نے 1986 میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ منیجمنٹ سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایڈوانس ڈپلومہ کے ساتھ گریجویشن کیا۔ وہ 1988 میں زنجبار کی لوکل گورنمنٹ میں ترقیاتی افسر بنیں اور آگے چل کر ورلڈ فوڈ پروگرام میں پروجیکٹ منیجر بن گئیں۔ 1990 کی دہائی میں انہیں زنجبار میں غیر سرکاری تنظیموں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 1992 اور 1994 کے درمیان مانچسٹر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور معاشیات میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا۔

بطور سیاست دان

2000 میں سامیہ حسن تنزانیہ کی ایک مقبول سیاسی پارٹی ’چھاماہ چھاماہ پِندوزی‘ المعروف سی سی ایم پارٹی کی جانب سے خصوصی نشست پر زنجبار کے ایوان نمائندگان کی رکن بنیں۔ یہاں انہیں روزگار، خواتین اور بچوں کی وزیر مقرر کیا گیا۔

پھر سامیہ حسن نے بقول مولانا حسرتؔ موہانی، ’مشقِ سخن کے ساتھ چکی کی مشقت‘ جاری رکھتے ہوئے تنزانیہ کی اوپن یونیورسٹی سے 2015 میں کمیونٹی اکنامک ڈویلپمنٹ میں ایم ایس سی کیا۔ وہ 2010 سے 2015 تک ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ یونین افیئرز میں وزیر مملکت رہیں۔ پھر 2010 میں قومی اسمبلی کے لیے باقاعدہ انتخاب لڑا اور 80 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے جیت گئیں۔ اُس وقت کے صدر نے انہیں مرکزی امور کی وزیر مملکت مقرر کر دیا۔ 2014 میں وہ آئین ساز اسمبلی کی نائب چیئرپرسن منتخب ہوئیں جنہیں ملک کے نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا۔ سامیہ حسن صدارتی امیدوار جان میگوفولی کے ساتھ 2015 کے عام انتخابات میں سی سی ایم پارٹی کی جانب سے ملک کی نائب صدر کی امیدوار تھیں۔ اس عہدے کے لیے کئی اور ممتاز اور با اثر سیاستدانوں کو بھی آگے بڑھایا گیا تھا۔ پارٹی کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون رننگ میٹ تھیں۔ سامیہ حسن الیکشن جیت گئیں۔ انہوں نے 5 نومبر 2015 کو حلف اٹھایا۔ منتخب ہونے کے بعد وہ تنزانیہ کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ 2020 کے عام انتخابات میں میگوفولی اور سامیہ حسن دوبارہ منتخب ہوئے۔ سامیہ حسن نے میگوفولی کے انتقال کے بعد 19 مارچ 2021 کو اپنی دوسری میعاد کی بقیہ مدت کے لیے حلف اٹھایا۔

تنزانیہ کی پہلی خاتون صدر

تنزانیہ کے عوام کی نظر میں ان کی اپنی پارٹی، سی سی ایم کے دھڑوں کی طرف سے انہیں صدر بننے سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور یہ ’محنت‘ اکارت گئی۔ دارالحکومت میں وہ آخری اعلیٰ سرکاری عہدیدار تھیں جنہیں میگوفولی کی موت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حلف برداری کے فوراً بعد نئی صدر سامیہ حسن نے اپنے اعزاز میں فوجی دستوں کا معائنہ کیا۔ اپنی حلف برداری کے بعد یہ افریقہ میں کسی بھی حکومت کی واحد خاتون سربراہ بن گئیں۔ جب سامیہ حسن صدر بنیں تو تنزانیہ میں کورونا کی وبا جاری تھی۔ انہوں نے ملک میں اس وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے قابلِ عمل پالیسیاں نافذ کیں۔ انہوں نے یہ بھرپور انتظامات بھی کیے کہ سابقہ صدر میگوفولی کے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں ساتھ ہی نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی دی۔ ان میں ریلوے لائن کا قیام، ایک ہائیڈرو پاور پلانٹ کی تعمیر اور تنزانیہ کے دیہی علاقوں میں بجلی اور صاف پانی کی دستیابی شامل ہیں۔

سیاحت کا فروغ

صدر تنزانیہ سامیہ صولوحو حسن نے 2021 کے اوائل میں صحافی اور فلمساز پیٹر گرین برگ کے ساتھ ایک فلم ’دی رائل ٹور‘ فلمائی جس کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا اور تنزانیہ میں سرمایہ کاری کے لئے لوگوں کو متوجہ کرنا ہے۔ سامیہ حسن نے ستمبر 2021 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا یوں وہ یہاں خطاب کرنے والی پانچویں افریقی خاتون بن گئیں۔ انہوں نے جنوری 2022 میں اپنی صدارتی کابینہ کو دوبارہ منظم کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ملک اور قوم کے مفادات کا خیال رکھیں گے۔

طرز حکمرانی اور خارجہ پالیسی

جب سامیہ حسن صدر بنیں تو انہیں عوام اور باہر کے مبصرین نے میگوفولی کے متبادل کے طور پر دیکھا جس نے ایک آمر کی شہرت حاصل کی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سامیہ حسن نے میگوفولی کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے اور دنیا میں تنزانیہ کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے آزادی اظہار رائے اور پریس کی آزادی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے۔ ان میں سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا، حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے بند کیے گئے اخبارات کو دوبارہ کھولنا شامل تھا۔ انہوں نے 2023 میں سیاسی ریلیوں پر سے پابندی بھی اٹھا لی جسے ان کے پیشرو نے اپوزیشن کو دبانے کے لیے نافذ کیا تھا۔

انہوں نے عالمی سطح پر اپنے پیشرو کی تنہائی پسندی کے بجائے لچک دار نظریہ اپنایا اور سرمایہ کاروں اور سیاحوں دونوں کو راغب کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے 2022 میں دبئی میں ہونے والی ایکسپو 2020 میں شرکت کی تا کہ تنزانیہ کی مصنوعات کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ نمائش اکتوبر 2021 سے مارچ 2022 تک جاری رہی۔ اسی وجہ سے ان کی دبئی کے ساتھ کاروباری شراکت داری کے معاہدے پر دستخط ممکن ہوئے۔ سامیہ حسن نے یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا۔

مستقبل

جنوری 2025 میں عام انتخابات کے لیے سیاسی پارٹی ’چھاماہ چھاماہ پِندوزی‘ المعروف سی سی ایم نے اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں سامیہ صولوحو حسن کو دوبارہ اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔

اُدھر 2022 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین کی طرف سے دنیا کے 100 سب سے زیادہ با اثر افراد میں سامیہ حسن کو شامل کیا گیا۔ دی نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر تنزانیہ سامیہ صولوحو حسن ’نرم بولنے والی‘ خاتون ہیں۔ الجزیرہ کی نامہ نگار کیتھرین وامبوا سوئی کے مطابق سامیہ حسن اپنے مشیروں سے مشورہ کرتی ہیں اور انہیں تعظیماً ماما سامیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تنزانیہ کی صدر سامیہ صولوحو حسن کے بارے میں لکھنا میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں۔ یہ صرف تنزانیہ کی صدر ہی نہیں بلکہ تمام عالم کی خواتین کے لئے روشنی کا مینارہ ہیں۔ ایک عام سے گھر میں پیدا ہوئیں پھر گھر گرہستی اور دفتر میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ مقدور بھر اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ ایسے سرکاری اداروں میں عوامی خدمات انجام دیں جہاں ’پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں‘ ہوتا ہے۔ سیاست کے پُر خار میدان اور اس اسلامی فوبیا دور میں یہ ایک پُروقار استعارہ ہیں اور متحدہ جمہوریہ تنزانیہ کے عوام کی زندگی بہتر کرنے میں کوشاں ہیں۔

Facebook Comments HS