ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی کتاب ”نئے خواب، نیا نصاب“ پر تبصرہ
آپ کو ”مسٹر چپس“ ناول کا یہ فقرہ ضرور یاد ہو گا: ”Youth and age often combine well۔“
اس کا ایک بہترین ثبوت ہمارے پاس ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی مشترکہ کاوش ”نئے خواب، نئے نصاب“ کی صورت میں ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی نژاد کینیڈین ماہر نفسیات، تھیراپسٹ، مصنف، شاعر اور سیاح ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کے اور ایک پاکستانی نوجوان طالبہ مقدس مجید کے درمیان خطوط پر ہونے والی گفتگو کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب ایک سنجیدہ فکری مکالمہ ہے جو نوجوانوں بالخصوص مشرقی معاشرہ کے نوجوانوں کے نفسیاتی، ذہنی اور سماجی مسائل پر مفصل اور جرات مندانہ انداز میں روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں زندگی کے ان تمام پہلوؤں پر مدلل انداز میں بات کی گئی ہے جن پر ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں لب کشائی کرنا دشوار ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ مکالمہ صرف ان قارئین کے لیے ہے جو سوال کرنے اور سوچنے سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ یہ تجربے اور عمر کی بھٹی سے بہت کچھ حاصل کر چکی بڑی نسل کے نمائندہ اور سوالوں، الجھنوں کے جواب اور حل دریافت کرتی موجودہ نسل کے درمیان رابطے کا ایک پل ہے۔
یہ ایک فکری و تنقیدی کتاب ہے جو ہمارے دیرینہ مسائل جیسا کہ ناقص تعلیمی نظام، معاشرتی ڈھانچے، صنفی تقسیم، پیچیدہ ذہنی و نفسیاتی امراض، مذہبی استحصال اور اخلاقی تضادات پر نہایت بے باک انداز میں سوال اٹھاتی ہے۔ یہ کتاب صرف ایک تنقید نہیں بلکہ ایک فکری بیداری کا اعلان ہے، جو قاری کو آئینہ دکھاتی ہے اور ان زخموں کو لفظوں سے کریدتی ہے جنہیں ہم برسوں سے ”نظام“ کے نام پر سہتے چلے آ رہے ہیں۔
”خواب اور نصاب“ اس کتاب کا مرکز ہے۔ کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کے درمیان ہونے والے خطوط کے تبادلے کا متن ہے، ان خطوط میں مقدس مجید سوالات کرتی ہیں اور ڈاکٹر خالد سہیل اپنے علم، مشاہدے اور تجربے کی بنا پر ان سوالات کے جوابات دیتے ہیں۔ دوسرے حصے میں دونوں مصنفین کے کچھ چنیدہ کالمز اور مضامین شامل ہیں۔ ان کا موضوع بھی کتاب کے مرکزی خیال سے ہم آہنگ ہے۔
کتاب کا عنوان بذاتِ خود ایک جدلیاتی جملہ ہے : نئے خواب، نیا نصاب۔ یہ دو عناصر کسی بھی معاشرے کی فکری، سیاسی اور سماجی تشکیل کے بنیادی ستون ہیں۔ خواب دیکھنے کی اجازت اگر صرف چند طبقات یا کسی مخصوص جنس تک محدود ہو، اور نصاب صرف مخصوص نظریات کے تحفظ کا ذریعہ ہو، تو قومیں ذہنی غلامی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی اس کتاب کا بنیادی مقدمہ ہے۔ بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے ساتھ نصاب اور سوالات کی تبدیلی معاشرے کی بالیدگی کا ثبوت ہوتا ہے۔ ہماری نسل کے سوالات بدل چکے ہیں۔ ان کے سوالات جوابات کھوجتے ہیں اور ان کو جوابات تک پہنچنے کے لیے نئے نصاب کی ضرورت ہے۔
نئے خواب نیا نصاب میں مختلف موضوعات پر بہت کھل کر بات کی گئی ہے۔ اس میں پاکستانی تعلیمی نظام جو ایک ’پری فیبریکیٹڈ‘ نظام ہے کے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ خود سوچنے، سوال اٹھانے، اور زندگی کے تنوع کو قبول کرنے کے بجائے طلبہ کو رٹا مارنے والی مشینیں اور روبوٹس بناتا ہے۔ اس انداز تدریس و تعلیم کو ”ذہنی زومبیز“ تیار کرنے والا کارخانہ کہا گیا ہے۔ ایسی تعلیم جس میں نہ جمالیات ہے، نہ انسانی ارتقا، نہ فرد کی انفرادیت کی گنجائش۔
کتاب کا ایک اہم زاویہ عورت اور اس کی معاشرتی حیثیت کا تنقیدی جائزہ ہے۔ مصنفین کہتے ہیں کہ تعلیم، میڈیا، مذہبی بیانیے اور ثقافتی رویے عورت کو مسلسل ”sexualize“ کرتے ہیں۔ اسے صرف ایک جسم کی صورت دیکھتے ہیں، نہ کہ ایک مکمل انسان کے طور پر۔ روایتی پسماندہ معاشرے میں عورتوں کے محدود کردار اور حیثیت پر بات کی گئی ہے۔
کتاب میں یہ بحث بھی شامل ہے کہ کس طرح مذہب کو ذاتی آزادیوں، سوچنے کے عمل، اور عورت کے وجود کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں سوال صرف مذہبی شدت پسندی کا نہیں، بلکہ ”سماجی مذہبیت“ کا ہے جو روز مرہ کے فیصلوں میں بھی جھلکتی ہے۔
اسی کتاب میں کو ایجوکیشن پر سماج کے منافقانہ رویے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ طلبہ و طالبات کی ایک ساتھ تدریس کو نہ صرف مشکوک بنایا جاتا ہے بلکہ اخلاقیات کی ساری چھری صرف لڑکی پر چلتی ہے ہے۔
کتاب کا اسلوب سادہ ہے، جملے تیکھے اور بے تکلفانہ ہیں۔ مصنفین کا انداز ناصحانہ ہرگز نہیں ہے، وہ خطیب نہیں، جھنجھوڑنے اور جگانے والے لکھاری ہیں۔ ان کے جملوں میں طنز، استعارہ، علامت اور سوال کی ایسی کاٹ ہے جو قاری کو محض متاثر نہیں کرتی بلکہ مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھے۔ وہ پیچیدہ فلسفیانہ نکات کو عام فہم زبان میں بیان کرتے ہیں، کہیں کہیں فکشن کا سہارا لیتے ہیں اور کہیں ماضی سے تاریخی حوالے شامل کرتے ہیں۔ ابتدائی کچھ خطوط میں مقدس مجید زیر بحث موضوع سے ہٹ کر اپنا مطمح نظر بیان کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، چند غیر متعلقہ واقعات سناتی ہیں مگر کچھ آگے بڑھنے کے بعد ان کی گفتگو موضوع کی جہت میں ہی رہتی ہے۔
کتاب میں زہریلے سماجی رویوں پر بے باک تنقید ہے۔ صنفی، معاشرتی اور فکری تناظر کا خوبصورت امتزاج اور عام قاری کے لیے قابلِ فہم زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔
کہیں کہیں تلخی حد سے بڑھ جاتی ہے جو شاید روایتی ”پازیٹو سائیکالوجی“ کے ذہنوں کو پسند نہ آئے۔
کتاب ہمیں مجموعی طور یہ پیغام دیتی ہے کہ معاشرے کو اگر واقعی بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے ”خواب“ دیکھنے کی اجازت دینا ہوگی، سوال اٹھانے والوں کو غدار یا گستاخ کہنے کے بجائے ان کی بات سننا ہوگی۔ تعلیم کو صرف معیشت یا مذہب کی بقا کے لیے نہیں، انسانیت کی بقا کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔
اس کتاب کی اشاعت نے ایک اور روایت کو جنم دیا ہے جس میں دو مختلف خطوں اور تہذیبوں میں رہنے والے، جن کی عمر اور جنس میں فرق ہے بہت کشادہ ذہنی سے خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس نے اس مفروضہ کو بھی جھٹلا دیا ہے کہ ایج گیپ کی موجودگی میں بات ایک دوسرے کو درست انداز سے سمجھانا مشکل ہے۔
”نئے خواب، نئے نصاب“ صرف ایک کتاب نہیں، یہ پاکستان کے نوجوان ذہنوں کی طرف ایک پکار ہے کہ وہ خواب دیکھیں، سوال اٹھائیں، روایات کی زنجیروں کو چیلنج کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں تعلیم، عورت، انسانیت، اور تنقید جرم نہ ہو۔
اس کتاب کا مطالعہ ہر اس ذہن کے لیے مفید ہے جو سوال کرنا پسند کرتا ہے اور جو سوچنے سے خوف زدہ نہیں ہے۔

