مانندِ جوش غم نہ زیادہ اُبل کے چل
جنگی جنون جب ریاستوں کے اعصاب پر سوار ہو جائے تو وہ سب سے پہلے اپنے ضمیر کے قاصدوں کو خاموش کرتی ہیں۔ مگر یہ خاموشی خود بہت کچھ بولتی ہے۔ حالیہ پاکستان بھارت کشیدگی نے دو ممالک کی ریاستی افتادِ طبع کو بے نقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک طرف وہ ریاست جو عالمی حلقوں میں ”فوجی اثر کی حامل نیم جمہوریہ“ گردانی جاتی ہے، اور دوسری طرف وہ ملک جو اپنے آپ کو فخر سے دنیا کی ”سب سے بڑی جمہوریت“ کہلاتا ہے۔ مگر جب حرفِ اختلاف کی گنجائش کی بات آئے، تو نقشہ کچھ اور ہی بنتا نظر آتا ہے۔
پاکستان میں جنگی فضا کے باوجود ایک وسعتِ نظر محسوس کی گئی۔ سب سے پہلے پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے پہلگام واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، اور جنگ کا بیانیہ اپنانے سے شعوری طور پر گریز کیا۔ اس طرزِ عمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں پاکستانی معتبر صحافی، ادیب، فنکار، اور مفکرین بلا خوف و خطر ملی جُلی رائے کا اظہار کرتے رہے۔ ریاستی بیانیے سے متصادم آوازوں کو بھی ”غداری“ کے تمغے عطا نہیں کیے گئے، کیونکہ یہ آوازیں قیادت کے اصولی موقف سے متصادم نہیں بلکہ اُس کی توسیع ہی تھیں۔
”ہمیں اپنے بچوں کو بارود نہیں، مستقبل دینا ہے۔ جنگ کبھی حل نہیں ہوا کرتی۔“
(حامد میر، کیپیٹل ٹاک، جیو نیوز، 27 اپریل 2025 )
عائشہ صدیقہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا:
”حب الوطنی کا مطلب سوال اٹھانا ہے، سرتسلیم خم کرنا نہیں۔“
اداکار سلمان شاہد کی رائے بھی قابلِ غور ہے :
”فوجی پریڈ اور قومی ترانے سے بڑھ کر ایک فنکار کی حب الوطنی کا معیار یہ ہے کہ وہ انسانیت کے ساتھ کھڑا ہو۔“
پاکستان کی گلیوں میں آج بھی ”دکن مٹھائی“ ، ”بمبئی بریانی“ ، ”لکھنؤ پان شاپ“ ، ”مدراس چائے والا“ اور ”امرتسری ہریسہ“ جیسے ناموں کی رونق قائم ہے۔ نہ کوئی ہجوم آیا، نہ پتھر چلے، نہ نفرت انگیز نعرے گونجے۔ یہ قوم اگرچہ ماضی کی کوتاہیوں کی حامل ہے، مگر اس میں ابھی تک رواداری اور بنیادی اخلاقیات کی رمق موجود ہے۔
مقابلتاً بھارت کا منظر حیرت سے زیادہ، عبرت کا سامان نظر آیا۔ وہاں صرف نام ”کراچی“ رکھنے پر مہاراشٹر کے شہر احمد نگر میں موجود ایک ریستوران کو انتہا پسند ہندو تنظیموں نے نشانہ بنایا۔ بینرز پھاڑے گئے، کھڑکیاں توڑی گئیں، اور مالکان کو دھمکیاں دی گئیں۔ گویا ”کراچی“ اب صرف ایک جغرافیائی تعارف نہیں، ایک جرم بن چکا ہے۔ اس واقعے پر مقامی پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا، اور کسی سیاسی شخصیت نے مذمت کی زحمت نہ کی۔
اُدھر جاوید اختر جیسے مدبر شاعر بھی اس فضا میں مجبوراً حکومتی بیانیے کی زبان بولنے پر مائل نظر آئے۔ جاوید اختر جیسے ترقی پسند اور سمجھدار انسان جو کہ مدبرانہ او مدلل گفتگو اور اپنی حس لطافت کے باعث پہچانے جاتے ہیں، صرف اس لیے بے سرو پا کے الزام والے بیانیے کی تائید کرتے نظر آئے تاکہ بھارت میں زندہ رہ سکیں۔ ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے انھیں نشانہ نہ بنایا جائے۔ خاموش رہنا بھی مصلحت کے خلاف تھا، پاکستان مخالف بیانات دینا زندہ رہنے کا واحد حل تھا۔
اُن کے چند ایسے بیانات جو ریاستی بیانیے سے میل کھاتے دکھائی دیے، اس بات کا غم دے گئے کہ شاید یہ اُن کا اصل خیال نہیں، بلکہ اُس فضا کا دباؤ ہے جو نریندر مودی کی حکومت نے پیدا کر رکھی ہے۔ ایک ایسی حکومت، جس کے نظریاتی سرخیل وہی ہیں جو مہاتما گاندھی جیسے عدم تشدد اور امن کے پیکر کو قتل کرنے والے نتھو رام گوڈسے کے پیروکار ہیں۔
نصیرالدین شاہ کی آواز آج بھی سُنائی دیتی ہے :
”میرے بچوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر وہ سچ بولیں گے تو ان کی شناخت ہی ان کے خلاف استعمال کی جائے گی۔“
شبانہ اعظمی، جنہوں نے فن کو سرحدوں سے بالاتر جانا، اور جب پاکستان سے متعلق نرم لہجہ اختیار کیا، تو اُن کی تقریبات منسوخ کی گئیں، اور انھیں ”ملک دشمن“ ٹھہرا دیا گیا۔
آزادیِ اظہار کسی ریاست کی جمہوریت کا اصل پیمانہ ہے۔ ووٹ تو مطلق العنان بادشاہتیں بھی دلواتی ہیں، ریفرینڈم تو آمریتیں بھی کرواتی ہیں، لیکن سوال اٹھانے کی اجازت محض وہی دیتا ہے جو جمہور کے مفہوم کو دل سے مانتا ہو۔
رام چندر گوہا، معروف بھارتی مؤرخ، اعتراف کرتے ہیں :
”ہماری جمہوریت کے جسم میں دل تو ہے، پر دھڑکنیں اب ناپید ہیں۔“
اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان، تمام تر کمزوریوں کے باوجود، نسبتاً بہتر جگہ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ جمہوریت کا تاج وہی سجاتا ہے جس کی گلیوں میں اختلاف کے قدموں کی چاپ گونجتی ہو۔ پاکستان نے اس بار، بغیر کسی دعوے کے، یہ ثابت کیا کہ قومیں صرف آئین سے نہیں، ظرف سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔
اور یہ شعر، بھارت کی کم ظرفی، اوباش پن اور غیر جمہوری اقدار پر پورا اترتا معلوم ہوتا ہے :
”کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ
مانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل ”
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود ہندو شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے رکن رہے ہیں، اور دوسری جانب انھیں ”گجرات کے قصائی“ کا خطاب بھی مل چکا ہے، اور مزید یہ کہ مغربی ممالک میں ایک طویل عرصے تک ان کا داخلہ ممنوع رہا، اور سب سے زیادہ حیران و پریشان کن بات یہ ہے کہ وہ بھارت کے طویل عرصے سے مقتدر و منتخب وزیراعظم ہیں!
جس قوم کے فنکار، شاعر اور ادیب تک جنگ کے حامی نظر آئیں، میڈیا کو سچ دکھانے کی آزادی نہ ہو، سچ بتانے اور دکھانے پر میڈیا پر قدغن لگا دی جائے، اختلاف رائے موت کے مترادف ہو، اور عوام سچ جاننا ہی نہ چاہیں، اس قوم میں کچھ تو غلط ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب ان سب واقعات نے دو قومی نظریے کو بھی تقویت بخش دی ہے۔
ایسے میں ان چند لوگوں کو نظر انداز کرنا بھی غیر دیانتداری ہوگی جنہوں نے بھارتی ہوتے ہوئے بھی، اپنی ریاست، حکومت اور میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈہ کے باوجود سچائی کا راستہ اختیار کیا اور اپنے رویے اور بیانات میں دیانت برتی۔
اس جنگ نے جہاں خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں بھارت کے ایک ”جمہوری ریاست“ ہونے پر بہت بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایک بات جو کافی حد تک درست نظر آتی ہے وہ یہ کہ موجودہ بھارت مہاتما گاندھی کا ہرگز نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ نتھو رام گوڈسے کا بھارت بن چکا ہے!


