تحریک انصاف کا سرپرست اعلیٰ اور اسٹیبلشمنٹ سے نظر التفات کی درخواست


تحریک انصاف کے بانی سے سرپرست اعلیٰ بننے والے عمران خان نے ایکس پر ایک پیغام میں ملک کو درپیش مسائل کی درست نشاندہی کی ہے لیکن اس کے ساتھ ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ انہیں قومی مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف اسی صورت میں تعاون کریں گے اگر اسٹیبلشمنٹ ان سے بات کرے اور ان کے سیاسی مطالبے مان لیے جائیں۔

عمران خان کا یہ رویہ انفرادی اور گروہی مفاد کو قومی و ملکی مفاد پر ترجیح دینے کی علامت ہے۔ تحریک انصاف کے حامیوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہو گا لیکن عمران خان سمیت اس پارٹی سے وابستہ ہر شخص یہی محسوس کرتا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل صرف تحریک انصاف ہی پیش کر سکتی ہے۔ یہ تصور اگر کسی سیاسی تنظیم کے حوالے سے پیش کیا جاتا تب بھی قابل فہم ہو سکتا تھا لیکن مسائل کے ’واحد حل‘ کے طور پر صرف ایک شخص کو پیش کیا جا رہا ہے اور اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عمران خان شامل نہیں ہوں گے تو یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہ تصور نہ تو جمہوری ہے اور نہ یہی ملک کو اپنی ضرورتوں و سیاسی خواہشات سے بالا تر سمجھنے سے عبارت ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کے تازہ بیان نے اس رویہ پر حتمی مہر ثبت کردی ہے۔

ایک ایسی صورت حال میں جب کوئی سیاسی لیڈر انانیت کی ایک ایسی سطح پر پہنچ چکا ہو کہ اسے خود اپنی ذات سے آگے کچھ دکھائی نہ دیتا ہو تو اس سے کسی خیر کی امید نہیں کی جا سکتی۔ یہی اس وقت ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ حالات کو پرکھنے اور متوازن رائے رکھنے والے سب عناصر یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک کو درپیش مسائل کی موجودہ صورت حال میں سب سیاسی عناصر کو مل بیٹھ کر آگے بڑھنے کا کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ عام طور سے الزامات اور شکوک و شبہات کے باوجود سیاسی لیڈر بات چیت یا مفاہمت کا کوئی راستہ تلاش کرلیتے ہیں۔ تاہم عمران خان اور ان کے حامی ایک ایسا سیاسی تصور پیش کر رہے ہیں جس میں صرف ملکی فوج سے ہی بات ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے خواہ کیسے ہی دلائل لائے جائیں لیکن کوئی بھی سیاسی لیڈر یا سیاسی پارٹی جو انتخابی سیاست اور جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، وہ کسی غیر آئینی طریقے کے بارے میں یوں کھل کر مطالبہ نہیں کر سکتی۔

تحریک انصاف کا بنیادی شکوہ یہ ہے کہ اسے گزشتہ سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں جان بوجھ کر ہرایا گیا تھا۔ البتہ وہ اپنا یہ موقف کسی پلیٹ فارم پر ثابت نہیں کر سکی۔ پاکستان جیسے ملک میں انتخابات میں بدعنوانی و دھاندلی کے ہزار راستے موجود رہتے ہیں۔ اس بارے میں الزامات بھی لگائے جاتے ہیں لیکن اس کے بعد مل جل کر آگے بڑھنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن عمران خان ایک ایسی نئی ’جمہوری‘ سوچ پیش کر رہے ہیں جس کا راستہ بیلٹ بکس کی بجائے جی ایچ کیو سے ہو کر گزرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آرمی چیف انہیں ملنے کی دعوت دیں، وہ ان کے سامنے اپنی شکایات و مطالبے پیش کریں جس کے بعد آرمی چیف ایک حکم کے ذریعے منتخب حکومت کو گھر بھیج دیں اور عمران خان کو عزت و احتشام سے وزیر اعظم ہاؤس پہنچا دیا جائے۔

اس خواہش و کوشش کے عملی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی عمران خان کو یہ ضرور جواب دینا چاہیے کہ اگر ملک کا آرمی چیف ہی سیاسی انتظام کے بارے میں حکم صادر کرے گا تو تحریک انصاف اور وہ خود انتخابات اور اس میں کامیابی، عوامی مقبولیت، انصاف اور قانون کی عمل داری کا نام کس منہ سے لیتے ہیں؟ عمران خان اور تحریک انصاف کا رویہ تو یہ بتاتا ہے کہ انہیں وہی انتظام واپس چاہیے جس کے تحت 2018 میں تحریک انصاف کو بڑی پارٹی بنوا کر جتوایا گیا تھا اور پھر پارلیمنٹ سے عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔ یہ کسی غیر فوجی دور حکومت میں ملکی سیاست پر فوجی اثر و رسوخ کی بدترین مثال تھی۔ عمران خان اسے ملکی سیاسی تاریخ کا سنہری وقوعہ قرار دیتے ہوئے کسی بھی طرح تاریخ کا پہیہ گھما کر 2018 تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر اسی اصول کو درست مان لیا جائے تو جس قوت کو فیصلے کرنے کا اختیار ہو گا، وہ اسے استعمال کرنے کے لیے عمران خان کی بات ہی کیوں مانے گی؟ صرف اس لیے کیوں کہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں؟ لیکن انتخابات میں تو یہ بات ثابت نہیں ہو سکی۔ اور نہ ہی کسی عوامی احتجاج کی صورت میں عمران خان یا تحریک انصاف خود کو کوئی انقلاب برپا کرنے کے قابل ثابت کرسکے ہیں۔ اس صورت میں سوشل میڈیا مہم جوئی کے ذریعے ملک کے لوگوں کو تو شاید عمران خان کے حق حکمرانی پر قائل کیا جا سکے لیکن فوج یا اس کا سربراہ کیوں یہ بات مانے گا؟

عمران خان جمہوری اور بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن انہیں جمہور تو کیا خود اپنی پارٹی کے لیڈروں تک پر اعتماد نہیں ہے۔ وہ مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اب ایک نئے احتجاج کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے انہوں نے دو اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ایک خود کو ہی تحریک انصاف کا سرپرست اعلیٰ نامزد کر لیا ہے۔ گویا تحریک انصاف عمران خان کی ’ملکیت‘ ہے اور وہ کسی راجہ مہاراجہ کی طرح جو چاہیں فیصلہ کر سکتے ہیں لیکن اس پر دعویٰ جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کا کیا جاتا ہے۔ ان کا دوسرا اہم اقدام یہ ہے کہ وہ اس احتجاج کی خود نگرانی کریں گے۔ یعنی وہ اس گمان میں بھی مبتلا ہیں کہ ان کے سوا ان کی پارٹی کا کوئی لیڈر ملک میں احتجاج منظم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کسی لیڈر کی طرف سے اپنی ہی پارٹی کے زعما کے خلاف بداعتمادی کی اس سے بدتر مثال تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر عمران خان کو کسی پر اعتبار ہی نہیں ہے تو پھر تحریک انصاف کے نام پر کون سا بھان متی کا کنبہ جمع کیا گیا ہے؟

عمران خان فوج کو ملک کی اہم ترین قوت مان کر اس سے اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں لیکن اسے دھمکیوں کے ہتھکنڈوں سے اسے دباؤ میں بھی لانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ سیاست کا ادنیٰ طالب علم بھی بتا سکتا ہے کہ ایسا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ اسٹیبلشمنٹ سے مواصلت کی خواہش کرنے والے کو صرف درپردہ ہی نہیں بلکہ علی الاعلان بھی وفاداری، تابعداری اور انکساری کا اظہار کرنا پڑتا ہے جیسا کہ 2018 میں وزیر اعظم بننے سے پہلے اور بعد میں کیا جاتا رہا ہے۔ اب یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ ہم سے ہتھ جوڑی کرلی جائے تو سب مسائل حل ہوجائیں گے۔ حالانکہ اگر مسائل اتنی آسانی سے حل ہوسکتے تو تحریک انصاف ساڑھے تین سال کی حکومت کے دورانیہ میں کوئی کارنامہ دکھانے کے قابل ہوتی۔ یا غیر ضروری طور سے فوج سے جھگڑا مول لے کر اس کی قیادت پر یہ الزامات نہ لگائے جاتے کہ اس نے امریکی اشارے پر پی ٹی آئی کی حکومت گرائی تھی۔

عاقبت نا اندیشی سے سیاست میں ہاتھ سے ڈالی گانٹھوں کو واقعی دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔ جو مسائل غلط سیاسی رویوں اور فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، انہیں حل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی مدد مانگنا راہ فرار حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ عمران خان کو اگر اپنی مقبولیت پر اتنا ہی بھروسا ہے تو وہ سیاسی میدان میں ڈٹ کر دکھائیں۔ میدان میں کھڑے رہنے کے دعوے کرتے ہوئے اقتدار کے لیے اپنی ہوس کو چھپانے کا ہنر ہی سیکھ لیں۔ جب بار بار اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی بھیک مانگتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی جائے تو ہر شخص جان جاتا ہے کہ عمران خان کا اصل مقصد کیا ہے۔ البتہ وہ یہ سمجھنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے اپنی سیاسی قوت منوانے کے لیے انہیں ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل بیٹھنا ہو گا۔ تب ہی ان کی بات میں وزن پیدا ہو گا اور تب ہی انہیں واقعی جمہوری روایت کا ترجمان سمجھا جائے گا۔

ایکس پر اپنے پیغام میں عمران خان نے ملک کو درپیش تین مسائل بیان کیے ہیں، جن کی وجہ سے قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر دوبارہ حملے کا اندیشہ، کے پی اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور معاشی مسائل۔ بدنصیبی سے اتحاد کی ضرورت پر زور دینے کے باوجود وہ کسی قسم کے قومی تعاون و اتحاد کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ان کی یہ ہٹ دھرمی شاید اب کسی قومی مقصد کے حصول کا راستہ تو نہ روک سکے لیکن تحریک انصاف کی سیاست کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

جیل سے رہائی عمران خان کا حق ہے لیکن اسے سیاسی ایجنڈا بنانے کی بجائے، ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن سے افہام و تفہیم اور احترام کا ماحول پیدا ہو سکے۔ عمران خان کو جان لینا چاہیے کہ اس بار جی ایچ کیو کی نظر التفات کا راستہ شاید شہباز شریف کی طرف سے بات چیت کی پیش کش مان کر ہی ہموار کیا جاسکتا ہے۔ عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد کھو دیا ہے۔ شہباز شریف کو یہ اعتماد حاصل ہے۔ اس سچائی کو مان کر ہی آگے بڑھنے کا راستہ ملے گا۔

تحریک انصاف کے سرپرست اعلیٰ اپنے معاونین کو جتنی جلد شہباز شریف کے پاس بھیجیں گے، ان کے مسائل اتنی ہی جلد حل ہونے کا امکان پیدا ہو گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali