تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز
کتاب: مور پنکھی
مصنف: جاوید صدیقی
تبصرہ : عرفان علی ڈنور
مجھے جاوید صدیقی صاحب کی کہانیوں اور خاکوں میں کرداروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور ان کی شکلیں دکھائی دیتی ہیں
فسوں گر کا یہی کمال ہوتا ہے صاحب! جو جاوید صدیقی صاحب کا کمال ہے۔ ایک تو بہت کم لکھا ہے، مطالعہ کرنے والوں کی تشنگی بڑھا رکھی ہے، اصلی شطرنج کے کھلاڑی ہیں، تھوڑے سے دانے پلیٹ میں بھلے لگتے ہیں، (سندھی میں کہاوت ہے ) تو خاکے لکھے، کہانیاں لکھیں اک عمر کا تجربہ، گزرے ہوئے وقتوں کی یادیں، آہٹیں، گمشدہ چہرے نایاب و نادر اور انمول لوگوں سے وابستہ لمحے، صحافت اور بائیں بازو سے منسلک رہنا، فیملی مین بن کر رہنا، اسکرپٹ رائٹر اور اسکرین پلے کے ساتھ مکالمے لکھنا ان کا ہی کمال فن ہے
مطالعہ، مشاہدہ، تجربات اور زندگی کی راہ پر، بلکہ جاوید صدیقی صاحب جیسے نابغہ روزگار شخصیت کی زندگی کی تو شاہ راہ ہوتی ہے وہاں سے کتنے قافلے گزرے، کتنے دیار اجڑے اور کتنے سنسار آباد ہوئے ان آنکھوں سے کیا کیا نہ دیکھا ہو گا اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں، فسوں گری کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔
اگر میں یہ کہوں کہ میں تبصرہ یا رائے لکھ رہا ہوں تو یہ شایان شان بات نہیں ہوگی، بڑے ناموں کا احترام ہوتا ہے، ان سے ہاتھ جوڑ کر ادب اور احترام سے کانوں کو ہاتھ لگا کر ان کے پاؤں چھو کر آشیرواد لیا جاتا ہے۔ دعا لی جاتی ہے۔ ان کا دست شفقت برقرار رہے۔ جاوید صدیقی صاحب کی تحریر کردہ نثر پڑھنا بھی میرے لیے کچھ ایسی ہی بات ہے۔ زندگی اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ ان کی تحریروں اور ان میں موجود کرداروں میں موجود رہتی ہے اور عام رواجی فارمولا قسم کا اختتام کا دقیق اور منجھے ہوئے الفاظ کا استعمال شاذ و نادر کہیں نظر آیا کو تو الگ بات ہے۔
میں نے ان کی خاکوں پر مشتمل تینوں کتابیں پڑھیں اور ہر کتاب جب جب پڑھ کر پوری کی، ایک تشنگی رہ جاتی کہ کاش! کچھ مزید لکھا ہوتا پڑھنے کو، یہ نایاب و نادر اور نابغہ روزگار شخصیات کا کمال ہے کہ وہ ایسی تحریریں قاری کو پڑھنے کے لیے دیتے ہیں کہ کئی کئی دن سرشاری اور سرور کا سامان بنا رہتا ہے۔ ایسے نابغے اب کہاں پڑھنے کو ملتے ہیں، طوعاً کرہاً بڑے ناموں کو پڑھ بھی لیا جاتا ہے، لیکن ایسی شائستگی، شگفتگی، کرسپی اور نثر پاروں کی قطار در قطار کہاں پڑھنے کو ملتی ہے اب؟ شاذ و نادر ہی کوئی ایسی کہانی، کوئی افسانہ یا خاکہ نظر آ جاتا ہے کہ واہ یا پھر آہ سی نکل جاتی ہے اور کئی دن ایک خمار سا چھایا رہتا ہے۔ اس کی تاثیر رہتی ہے۔
جاوید صدیقی صاحب، کی تحریروں کی تعریف میں کروں تو سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہو گئی، لیکن جو میرے محسوسات ہیں، وہ بیان میں لانے کی کوشش ضرور کروں گا۔
بات زیادہ پرانی نہیں، ابھی پچھلے ماہ کی ہے، اور اقبال ناظر صاحب نے مجھے ”کولاژ“ کا نیا شمارہ بھیجا، وہ خوب آدمی ہیں، جن کے ساتھ میرا تعلق ادارے کا بھی ہے کہ انہوں نے اپنی خدمات نیشنل بینک میں ادا کر کے رٹائرمنٹ لی اور میں نے نیشنل بینک آف پاکستان میں جوائننگ کی۔ وہ پنشنر ہیں اور میں حاضر سروس، کولاژ کے بیسویں شمارے کی فہرست میں ایک ساتھ تین کہانیاں نظر آئیں تو میں نے وہ ہی صفحات کھولے جا کر اور پڑھنا وہیں سے شروع کیا، جاوید صدیقی صاحب کی کہانیاں تھیں، سادگی و پرکاری ہم مرزا اسداللہ خان غالب کی سنتے تھے لیکن، جاوید صاحب نے بھی کمال کیا، ایسی شستہ روانی لیے ہوئے تحریریں کم ہی نظر سے گزرتی ہیں۔ یا پھر میرا مطالعہ کم ہو، لیکن تینوں کہانیاں، 1۔ رام جانے پھول والا، 2۔ نوٹنکی والی، 3۔ ایک پرانا البم کیا خوب کہانیاں تھیں، ان کی بنت، ان کی روانی، ان کا تسلسل، اور سب سے بڑھ کر انداز بیاں اور اردو سلیس، کہیں پر بھی پڑھنے کے دوران وزن یا بار محسوس نہیں ہوا طبع پر، یہ کہانی لکھنے کا حق ادا ہو گیا جیسے۔ میں بھی ٹانگیں سکیڑ کر، کرسی سے ٹیک لگا کر، گھٹنے سامنے ٹیبل میں پھنسا کر خود کو چشم تصور میں اسی ماحول کا حصہ سمجھنے لگا، تحریر کی ہر سطر میں جاوید صدیقی صاحب کی آواز اور اس کا اتار چڑھاؤ اور جذبات کے ساتھ گونج رہی تھی، کبھی نم تو مسکراہٹ لیے، یا پھر آزردگی اور راحت لیے ہوئے، اور کیا کمال لکھتے ہیں، قصہ خوانی، قصہ گوئی، داستان گوئی کی ایک روشن قندیل یہاں سے آگے کے راستوں کا پتہ دیتی ہے، کہانی کی بنت، اس کا آغاز بھلے آپ کو ہر کہانی جیسا محسوس ہو لیکن جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے آپ کہانی کے پراسراریت میں، اس کے طلسم میں کھو سے جائیں گے۔ یہی جاوید صدیقی صاحب کا کمال ہے، کچھ کہانیاں مخصوص عمر کے لیے ہوتی ہیں، لیکن جو شخص کہانی لکھنے ہی ساٹھ برس کے بعد بیٹھا ہے اس کی کہانی، اس کی تحریر، اس کا خاکہ ہر عمر کے شخص کے لیے ہو گا، جاوید صاحب کی تحریروں سے مستفید یوں ہوتا ہوں کہ ایک کیفیت سی مل جاتی ہے۔ میں کئی دن تک ان تین کہانیوں کی کیفیت اور سرور میں لپٹا رہا۔ ایک مرتبہ محسوس ہوا کہ یہ کہانیاں نہیں جیتے جاگتے کرداروں کی اصلی اور حقیقی واقعات پر مبنی چشم دیدہ معاملات کی کہانیاں ہیں، گزرے زمانوں کے ممیائے ہوئے کردار ہیں جو زندہ ہو گئے ہیں، یا ان ممیائے ہوئے کرداروں کی جاوید صاحب پٹیاں اتار رہے ہیں۔
ویسے ہی جیسے گلزار صاحب کے ایک خاکے میں، مائیکل اینجلو آیتوں کی پٹیاں کھول رہا ہوتا ہے۔
ایسا ہی کچھ جاوید صدیقی صاحب کی کہانیوں میں نظر آتا ہے، جاوید صدیقی صاحب کو میں نے ریختہ میں سنا تھا گلزار صاحب کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھے۔
پھر انہیں میں گلزار صاحب کے توسط سے مل پایا یہ احسان گلزار صاحب کا تاحیات ہو گیا، وہیں سے خاکہ نگاری کی صنف کا علم ہوا، وہیں سے جاوید صدیقی صاحب کی کتابوں کے نام معلوم ہوئے اور خاکے ایسے نثر پارے تھے کہ کیا کہوں! اللہ اللہ!
ہر خاکہ اپنی مثال آپ تھا، ایک زمانہ تھا جو بہہ رہا تھا، چند دہائیاں تھیں جو جاوید صاحب نے کاغذ پر تحریر کر کے ہمیشہ کے لیے امر کر ڈالی تھیں۔
پھر معلوم ہوا ابھی کچھ دن پہلے کہ بک کارنر جہلم نے جاوید صدیقی صاحب کی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ ”مور پنکھی“ کے نام سے شایع کیا ہے، گگن بھائی میرے بڑے محسن ہیں، ان کا میں بے حد احترام کرتا ہوں، اور وہ ہمیشہ مجھے یاد رکھتے ہیں، ان کے کیا احسانات ہیں وہ کیا بیان کروں۔ کتاب انہوں نے بھیج دی۔ میں نے کتاب پڑھی اور کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے تب ہوش آیا جب آخری صفحہ پڑھ رہا تھا۔ یہ طلسم ہوشربا کی وادی میں جیسے داخل ہو گیا تھا، ہر کہانی ایک الگ نوع، الگ قصہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ سب افسانے یا کہانیاں نہیں ایک لمحے کو بھی کہانی کا گمان نہیں ہوا، بلکہ محسوس ہوا کہ یہ سب معاشرے کے جیتے جاگتے کردار ہیں اور ایسے کردار واقعی مل بھی جاتے ہیں۔ معاشرے میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ پر لیکن جاوید صدیقی صاحب کی طرح کون انہیں اٹھا کر اپنی کہانیوں امر کر دیتا ہے!
مور پنکھی میں، جب پہلی کہانی ”مسیتا“ پڑھی تو، محسوس ہوا کہ آنکھیں کھلی ہوں اور خواب نہ دیکھیں ایسا کیسے ممکن ہے؟ نمکولی کو ہاتھ میں مسیتا خوابوں کی ایک دنیا آباد کر لیتا ہے، پھر میرے سامنے وہ سارے چہرے آنے لگے جو میری زندگی کے جیتے جاگتے کردار ہیں، جن کے اپنے باہر ممالک جاتے ہیں اور ان کی تڑپ یاد آتی ہے جب انہیں پیسے کسی وجہ سے نہ مل رہے ہوں، یا دیر ہو رہی ہو۔ یہ بے چینی دیکھی ہوئی ہے میں نے، کئی لڑکوں، بوڑھوں اور عورتوں کے چہروں پر۔ غریب، اکثر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے، کیا ہی خوبصورت نقشہ کھینچا ہے اور شہر جاؤ تو اپنا ٹائپ رائٹر یا لیپ ٹاپ اور پرنٹر ایک چھوٹی میز پر سجائے درخواستیں ہر قسم کی لکھنے والے بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے پاس لوگ کوئی نہ کوئی سمسیا لیے بیٹھے ہوتے ہیں جاوید صاحب نے کیا دنیا ترتیب دی ہے، کیا اندرونی جذبات اور تاثرات کی جھلک دکھائی ہے، ذرا یہ ملاحظہ کیجیے کچھ ہائی لائٹ سطریں آپ کی نظر:
” چھوٹی جگہوں میں یہی ہوتا ہے کہ معمولی بات بھی غیر معمولی بن جاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے ٹھہرے تالاب میں پتا بھی گرے تو لہریں اٹھنے لگتی ہیں“
” شکر اور گڑ کے بھاؤ میں اتنا فرق کیوں ہے؟ دونوں ایک ہی گنے کے رس سے جنمے ہیں، پھر بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ شاید اوپر والے کا یہی قانون ہے۔ میں کھیت مزدور ہوں اور کھیت حسین علی کے ہیں۔ محنت میری ہے اور فصل حسین علی کی۔ ایسا کیوں؟“
” پرانی باتیں بھولنے کے لیے ہوتی ہیں، یاد کرنے کے لیے نہیں“
” ٹھیک ہی تو ہے، پرانی باتیں بھولنے کے لیے ہوتی ہیں، مگر پرانی باتیں اپنے نشان بھی تو چھوڑ جاتی ہیں، ان کا کیا؟“
”غریبی زبان سے نہیں، سارے جسم سے بولتی ہے“
مجھے پڑھتے ہوئے بارہا محسوس ہوا جیسے ریلز چل رہی ہوں، مکالمے ادا ہو رہے ہوں، تصور کی آنکھ کھل گئی اور مناظر میرے سامنے وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ یہ کمال جاوید صاحب کی فلمی دنیا سے وابستگی، اسٹیج اور اسکرپٹ رائیٹنگ یا اسکرین پلے سے ایک طویل المیعاد وابستگی کا ثبوت ہیں کہ انہیں یہ کمال خاص ہو گیا کہ قاری کو تحریر کے ذریعے کس طرح وژیوئلز دکھانے ہیں۔
شہتوت کے پیڑ، ایک داستان ہے، کسی مصیبت زدہ شخص کی آہ کی۔
ایک پرانا البم، کیا خوب ہی باتیں کر رہا ہے، ایک البم سے پوری زندگی کی کہانی سامنے پیش کر ڈالی۔ ایک نوکر کی مالکن کے ساتھ داستان محبت ہے جسے وہ کبھی تسلیم بھی نہیں کر رہا۔ ایسے بچے ہوتے ہیں جب انہیں کوئی شفقت کا ہاتھ رکھ دیتا ہے تو جی جان سے ان کے لیے فدا ہو جاتے ہیں، پھر ان کے بچے بھی ان کے لیے اعلی مسند پر بیٹھے رہتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ تاحیات۔ ایسی کئی ایک اور نہ جانے کتنی خاموش محبتیں اس سنسار میں پلتی رہتی ہیں۔ کبھی کسی کو معلوم بھی نہیں پڑنے دیتیں، احترام اور عزت کے ساتھ۔
فاختہ بھی ایک عجیب و غریب داستان ہے۔ خود کو تباہ بھی کر لیا اور ملال بھی نہیں۔ یہ ہر ایک کے اپنے اپنے تجربات ہوتے ہیں۔ کہ انسان۔ بس بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں کہانی میں محبت تو باقی رہتی ہے۔ یہ ایسی محبت، کہاں دکھائی دیتی ہے؟
جاوید صاحب کا تحریروں کے اندر جو بہاؤ ہے، یا جو روانی ہے، مجھے وہ بھی بہت پسند ہے، میں کچھ پیراگراف صرف اس رانی اور بہاؤ کی خاطر ہائی لایئٹ کیے۔ مجھے تحریروں میں بہاؤ اور روانیاں بے حد پسند ہیں اور جاوید صاحب اس میں ید طولی رکھتے ہیں
دائرہ، ایک ایسی کہانی ہے کہ چاہا ساری کہانی ہائی لائیٹ اور انڈر لائن کر ڈالوں۔ ذرا آپ پڑھیے
” پتا نہیں کب یہ بات میرے ذہن میں آئی تھی کہ ہم سب دائروں میں رہتے ہیں۔ یہ دنیا ایک دائرہ ہے، جس کے اندر اور بہت سے دائرے ہیں، وقت کا دائرہ، سماج کا دائرہ، سیاست کا دائرہ، مذہب کا دائرہ، رشتوں کا دائرہ، یہ ساری زندگی ہی ایک دائرہ ہے۔ زندگی کا دائرہ، گھیرا یا حلقہ ہمارا بنایا ہوا نہیں ہوتا، یہ خود بخود بن جاتا ہے۔ شاید اس وقت جب ہم پہلی سانس لیتے ہیں، جب ہماری پہلی آواز نکلتی ہے، کوئی ان دیکھی چیز ہمارا احاطہ کر لیتی ہے، ہمارے چاروں طرف ایک حلقہ بنا دیتی ہے، جو گھٹتا بڑھتا رہتا ہے، کبھی وقت اور حالات اور کبھی ہم خود، اس آکار کو گھٹاتے بڑھاتے رہتے ہیں۔ جسے میں زندگی کا دائرہ کہہ رہا ہوں۔ ساٹھ برس ہو چکے ہیں اور میں بار بار کوشش کر چکا ہوں کہ اس دائرے سے باہر نکل آؤں اور باہر سے اندر کی طرف دیکھوں، جیسے خلا باز کسی خلائی اسٹیشن پر بیٹھ کر زمین کو دیکھتے ہیں۔ مگر نئے منظر کی تلاش بار بار ناکام ہو جاتی ہے اور پرانے منظر ہی دکھائی دیتے ہیں“
” پھر بھی سوچ لو کامریڈ، پسند کرنا، شادی کرنا اور نبھانا، تینوں الگ الگ منزلیں ہیں اور ہر منزل امتحان لیتی ہے“ ۔
” چھوٹی چھوٹی باتیں خزاں کے مارے ہوئے پتوں کی طرح ڈھیر ہوتی جا رہی تھیں“ ،
” میرے چاروں طرف جو حصار ہے وہ کچھ اور چھوٹا ہو جائے گام سمٹتا جائے گا، سکڑتا جائے گا اور ایک دن چھوٹا ہوتے ہوتے ایک نکتہ بن جائے گا۔ نقطہ، جس کای اپنی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔ نقطہ جو اپنے وجود کا احساس دلنے کے لیے، ہمیشہ کسی حرف کا محتاج ہوتا ہے۔ محتاج نقطہ، بے آواز، بے معنی نقطہ، جسے دیکھ کر کسی کو بھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ نقطہ کبھی ایک دائرہ بھی تھا، ۔ ایک خوبصورت، روشن اور وسیع دائرہ، کو کبھی زندہ تھا“ ۔
رام جانے پھول والا، یہ کہانی ایک استعارہ ہے یا علامتی کہانی ہے، پاکستان اور ہندوستان میں ایسے گاؤں، دیہہ یا علاقے ہیں جہاں تقسیم کے بعد بھی محبت بھائی چارے اور اخلاص میں تقسیم در نہیں آئی۔ ایک مثال نہیں کئی ایک ہوں گی، ایک گاؤں کی مثال ہے کہ بڑی عید پر ایک گاؤں میں ہندو دھرم کے لوگ گائے سنوار سنگھار کر لے آتے ہیں مسلمان اس گائے پر چھری رکھ کر تکبیر پڑھ کر چھری واپس کر لیتے ہیں، جب کہ ہولی دیوالی پر مسلمانوں کی طرف سے شگون جاتے ہیں۔
یہی اس سے ملتی جلتی تصویر ایک اور گاؤں کی ہے کہ شیعہ سنی کا تفاوت نہیں ہے۔ دونوں مسلک ایک دوسرے سے محبت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔
نکڑ والی قبر۔ کیا کمال کہانی لکھی ہے۔ جاوید صاحب نے۔ اس کہانی تک پہنچتے پہنچتے میں کسی اور جگہ پہنچ گیا۔ ایک محبت کی داستان۔ اور ایسی کتنی داستانیں ہوں گی ہمارے معاشرے میں۔ بیوہ لڑکی سے شادی اور وہ بھی محبت کی شادی دل چیر کر رکھ دیا۔
ایک جملہ ابھی کچھ دن پہلے ہی فیس بک پر پڑھا تھا کہ کسی بیوہ لڑکی یا عورت سے شادی کرنے سے پہلے معلوم کر لو کہ اس کا پہلا شوہر کیوں مرا یا کن حالات میں مرا۔
ہو جاتی ہیں ایسی محبتیں، اور ایک عجیب سی بات ہے کہ تقریباً سارے حالات میں لڑکیاں یا عورتیں ایسا ہی سلوک روا رکھتی ہیں خاص طور پر ان کی اولاد بھی ہو تو۔ وہ بس معاشرے میں شادی کا ایک ٹھپا لگاتی ہیں۔ اور زندگی میں کوئی جیے مر جائے انہیں کیا فرق پڑتا ہے۔ رسمی آنسو۔ اور کچھ دن کا سوگ چار ماہ دس دن کی عدت۔ اور کچھ تو وہ بھی نہیں کرتیں۔ حالات کا رونا۔ اور حالات سب کے ایک جیسے بھی نہیں ہوتے
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں۔ جن کو مجبوریٔ حالات نے رونے نہ دیا۔
جہاں ایک کردار جا کر قبر میں اس آس پر لیٹتا ہے کہ اس کی بیوہ وہیں سے گزرے گی اور اس کی قبر دیکھ کر یاد کرے گی اس کو۔ اسے کیا خبر کہ وہ اس نکڑ والی گلی سے ہی رخ پھیر لے گی۔ دنیا جذبات کو نہیں دیکھتی۔ جذبات والے دنیا کو نہیں سمجھتے۔ یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ حساس قسم کے لوگ، محبتی آدمی، ایک زندگی تکلیف اٹھاتے ہیں اور بعد از مرگ بھی اذیت کا شکار ہوتے ہوں گے۔ کیا پتہ!
گمشدہ ہنسی، ایک ایسی کہانی ہے جس میں کہیں کہیں میں خود کو دیکھ رہا تھا! کیوں کہ میری شادی نہیں ہوئی ابھی تک یا کی نہیں۔ تو آگے کا میرے پاس تجربہ نہیں۔ لیکن میں بھی بہت ہنستا تھا، امی لوک داستانیں سناتی تھیں بچپن میں، اور میں ہنستے ہنستے بے حال ہو جاتا سانس رک جاتی امی تھپڑ مارتیں تب بھی ہنستا رہتا تھا۔ روتے روتے ہنس دیتا تھا۔ چھٹی جماعت میں کسی شرارت پر استاد نے بینچ پر کھڑا کر دیا میں ہنسنے لگا، ہنستے ہنستے استاد نے ایک چھڑی منگوائی مارا بھی میں ہنستا رہا ہنسی نہ رک رہی ہوتی۔ میرے پہلے دو دوست جو مجھے پہلی بار روڈ پر بنے ایک ہوٹل پر لے گئے تھے چائے پلانے 2004 کا قصہ ہے بیس برس برانا وہاں میں نے ہنسنا شروع کیا میں ایک گھنٹے تک ہنستا رہا نان اسٹاپ، اس کے بھائی نے کہا کہ اس کے ساتھ مت گھوما کرو یہ پاگل ہے ہمارے لیے مسئلہ نہ ہو جائے۔ یونیورسٹی میں بھی یہی حال رہا۔ کسی فقرے پر ہنسی چھوٹ جاتی تو کہاں رکتی۔ بینک میں بھی 8 برس تک ایسا رہا، کسی بات پر ہنستا تو بس ہنستا ہی جاتا۔ پھر ایک پتہ نہیں کیوں۔ کسی کی نظر لگی یا کچھ ہوا اب وہ بات کہاں رہی ہے۔ ایک سادہ سی مسکراہٹ۔ بس زیادہ زیادہ تو اٰک بے جان سا قہقہہ۔
خیر اس کہانی کی ابتدا ہی یہی ہے
” میری ہنسی کھو گئی ہے؟ میں اسے تلاش کر رہا ہوں“ ۔
” میرا خیال ہے میں پاگل ہوتا جا رہا ہوں کیوں کہ ایک پاگل ہی اپنی کھوئی ہوئی ہنسی کو پارکوں، ہوٹلوں، اور ٹرینوں میں ڈھونڈ سکتا ہے، آپ ہی بتائیے ہنسی کئی کوئی ہوئی رنگ تو نہیں ہے جو انگلی سے پھسل کر کہیں گر جائے!“
” کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ یہ حادثہ اچانک نہیں ہوا، اس کے آثار بہت پہلے سے دکھائی دے رہے تھے مگر میں دیکھ نہیں پایا“ !
” سر میں کیا کروں، مجھے ہر وقت، ہر بات پر ہنسی آتی ہے“ ۔ ( یہی بات میں سب دوست، اساتذہ، رشتے داروں اور کولیگس سے کہتا رہتا تھا)
اب جاوید صاحب کا یہ کمال دیکھیے کہ کینوس پر بنی ایک تصویر کا پس منظر کتنا پھیلا دیا عالمی سطح پر۔
” تم اکیلے نہیں ہو میرے اجنبی دوست، فلسطین، لبنان، یوکرین، یمن اور برما کے کروڑوں افراد کبھی نہیں ہنستے، ۔ ہنس ہی نہیں سکتے۔ اس لیے نہیں کہ ان کی ہنسی گم ہو گئی ہے بلکہ اس لیے کہ ان سب افراد کی ہنسی کو چوری کر لیا گیا ہے، مجھے یقین ہے تمھیں تمہاری کھوئی ہوئی ہنسی کبھی نہ کبھی مل جائے گی مگر ان لوگوں کا انتظار کتنا طویل ہو گا کوئی نہیں جانتا!“
یہ جاوید صدیقی صاحب کا فن ہے، ان ہی کا کمال فن ہے، وہ بات شروع کرتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کی تحریر، ان کا انداز اور ان ہی کا بیا ایک ایسا فسوں طاری کر دیتا ہے کہ پڑھنے والا اس طلسم نگری میں اس ہوشربائی شہر میں گم ہو جاتا ہے یہاں تک کہ کتاب کا آخری صفحہ پلٹا ہے اور سامنے ایک ایگزٹ کا دروازہ نظر آتا ہے۔ مجبوری ہے کہ اس دروازے سے نکل واپس اپنی دنیا میں آنا پڑتا ہے۔ پھر وہ فسوں ہمیشہ کے لیے طاری رہتا ہے۔ یہ بازیگری، یہ شطرنجی چال، یہ جادوگری یہ طلسم نگری صرف جاوید صدیقی صاحب ہی کا کمال ہے۔ اور اس کمال کو بہ عقیدت سلام ہے!

