ہیٹ سٹروک
میں سینٹ لوئیس یونیورسٹی، میزوری میں ایمرجنسی میں کام کر رہی تھی کہ کال آئی ہیلی کاپٹر سے ایک سترہ سالہ لڑکا کسی چھوٹے اسپتال سے ٹرانسفر کیا جا رہا ہے، ہیٹ سٹروک سے حالت نازک ہے۔ جولائی کا مہینہ تھا۔ اسکولوں میں گرمی کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور یہ لڑکا کسی فارم پر کام کر رہا تھا۔ دوپہر کھانے پر نہیں آیا تو ڈھونڈنے پر بے ہوش ملا۔ گرمی کی شدت سے جسم کا درجہ حرارت 108 ڈگری فارن ہائیٹ تھا۔ تھرمامیٹر اس سے زیادہ درجہ حرارت دکھانے سے قاصر تھا۔ اس کی آمد کی تیاری میں آئی وی کی بوتلیں اور لاواج کے سیلین کی بوتلیں برف میں لگا دی گئیں، او نیگیٹو خون کے لیے بلڈ بینک کو کہہ دیا گیا اور ائرکنڈیشننگ کے باوجود ایک بڑا پنکھا منگا کر رکھ دیا گیا۔ ہیلی کاپٹر کے اترنے کے بعد اس کے گھومتے پروں کے رکنے کا انتظار کیے بغیر اسٹریچر اتارا جا چکا تھا اور کمر جھکائے لوگ اس کے ساتھ دوڑتے ہماری طرف آرہے تھے۔
حالت اتنی ہی خراب تھی جیسا اندیشہ تھا۔ پہلی کوشش اس کے جسم کی حرارت کو کم کرنے کی تھی۔ اس کے جسم کو برف کے پانی میں بھیگے تولیوں سے ڈھک کر پنکھا چلا دیا گیا، آئی وی میں سرد ڈرپ لگا دی گئی۔ ناک اور منہ سے خون جاری تھا۔ ایک بازو سے ٹیسٹ کے لیے خون نکالا جا رہا تھا دوسری سے خون چڑھایا جا رہا تھا۔ ناک سے نلکی معدے میں ڈالی تو خون نظر آیا تھا، اب اسے برفاف سیلین سلوشن سے دھو رہے تھے کہ خون بھی رکے اور بخار بھی کم ہو۔
حالت بگڑتی چلی گئی اور خون بہنے سے روکنے کے لیے پلاسما، پلاٹلیٹس جس کی بھی ضرورت ٹیسٹ سے نظر آئی اس کو دی گئی لیکن وہ کڑیل جوان چار پانچ گھنٹے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔
انسان کے جسمانی افعال ایک خاص درجہ حرارت کے اندر ہی کام کر سکتے ہیں۔ اور دماغ کے جن حصوں کا کام بدن کی حرارت کو درست رکھنا ہے وہ پیاس لگنے، سر چکرانے کی کیفیات سے ہمیں مطلع کرتے ہیں کہ اس گرم ماحول سے نکلو، اس دھوپ سے بچو۔ یہ ایک ناتجربہ کار لڑکا تھا اپنے جوش میں کام کرتا رہا۔ افسوس۔
میں کراچی میں اکثر دوپہر میں فیکٹریوں کے پاس سے کار میں گزرتی تھی۔ وہاں گیٹ کے باہر ٹھیلوں کے پاس مزدور دوپہر کا کھانا کھاتے نظر آتے تھے۔ اس علاقے میں کوئی بڑا سایہ دار درخت نظر نہیں آیا۔ نصف النہار کسی دیوار تک کا سایہ نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کوئی آدمی ٹھیلے کے مختصر سائے میں بیٹھ کر کھاتا نظر آتا۔
کیا فیکٹری کے مالکان مزدوروں کے کھانے کے لیے کوئی سایہ دار جگہ نہیں مہیا کر سکتے؟ وہاں پینے کے پانی کا انتظام اور پنکھے نہیں لگا سکتے؟ کیا کوئی فلاحی انجمن ایک شامیانہ نہیں لگا سکتی؟ پینے کے پانی کا انتظام نہیں کر سکتی؟
دنیا بھر میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور جب ایک دفعہ جسم پر گرمی کا اثر ہو جائے تو علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ ان اموات کا حساب کون رکھ رہا ہے؟ امریکہ میں ہزاروں موتیں ہر سال گرمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
گرمی سے پہلے تو ہیٹ ایکسزوسشن ہوتی ہے جسے اردو میں ”لو لگنا“ کہا جاتا ہے۔ اس میں چکر، متلی اور پٹھوں میں درد و تشنج محسوس ہوتا ہے۔ اگر فوری طور پر گرمی سے نہ بچا جائے، پانی نہ پیا جائے تو ہیٹ سٹروک کی نوبت آ سکتی ہے جس میں جسم کی اندرونی حرارت بڑھ جاتی ہے عموماً 104 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ۔ اگر اس کا بھی فوری علاج نہ کیا جائے تو اندرونی اعضا کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ دھوپ میں کام کرنے والے اور معمر افراد کو ان کیفیات کا خاص خطرہ ہوتا ہے۔ دھوپ میں کام کرتے مزدوروں کو دہرا خطرہ ہوتا ہے۔ نہ صرف دھوپ کی گرمی بلکہ جسمانی مشقت سے پیدا ہونے والی گرمی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ( 1992۔ 2022 ) امریکہ میں ہر سال تین ہزار سے زیادہ مزدور گرمی کے اثرات سے بیمار ہوتے ہیں اور ہر سال ان میں سے تیس سے زائد اموات ہوتی ہیں۔
پانی، آرام اور سایہ۔ مزدوروں کی صحت اور جان بچانے کے واسطے ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ پینے کے پانی کا وافر انتظام، آرام کے وقفے ائرکنڈیشن میں یا کم از کم سائے میں اب کیلیفورنیا اور چند اور سٹیٹس میں قانوناً ضروری قرار دیے جا رہے ہیں۔
ریسرچ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لگاتار گرمی میں کام کرنے سے آدمی کی کام پر توجہ کم ہو جاتی ہے، وہ غلط فیصلے کرتا ہے اور پھر کوآرڈینیشن بگڑنے سے جسمانی کام بھی موثر طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ یعنی مشینری پر کام کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کو خود اپنی گرمی سے بگڑتی حالت کا اندازہ نہیں ہوتا، دوسری بات یہ کہ مزدور اپنی مرضی سے کام روکنے سے گھبراتے ہیں چاہے وہ پانی پینے کے لیے ہی ہو کہ کہیں ان کو کام چور سمجھ کر نوکری سے نہ نکال دیا جائے۔
مزدوروں کے لیے پانی اور سائے کا انتظام اور ان کو استعمال کرنے کے مواقع دینا نہ صرف انسانیت کا تقاضا ہے بلکہ صحت مند اور چوکس کام کرنے والوں کی بہتر کارکردگی مالکان کے لیے فائدہ مند ہو گی۔


