ثنا یوسف میں شرمندہ ہوں


سب جانتے ہیں میں کتنا کٹر، مذہبی، بنیاد پرست اور قدامت پسند واقع ہوا ہوں۔ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے اور خانوادے سے ہے۔ ہمارا شجرہ ہمیں جیلان تک لے جاتا ہے ؛ سو قادریت ہماری رگ و پے میں ہے۔ میرے ابو جی کٹر مذہبی، میرے دادا پکے بنیاد پرست الغرض آٹھ صدیوں کا جینیاتی سفر اسی مذہبی شناخت کا سفر ہے۔ میں بھی خواتین سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ یونی ورسٹی میں بھی میری سر توڑ کوشش رہی کہ میں جنس مخالف سے کوسوں دور رہوں۔ میری بیگم پردہ کرتی ہیں اور میری ماں میرے ابا کے ڈر سے ابھی بھی ستر سالہ بیوگی میں ٹوپی والا برقعہ کرتی ہے کہ ابا کی روح کو تکلیف نہ ہو۔ بہن میری نے آج تک اکتالیس سال کی عمر میں ووٹ نہیں ڈالا اور پچھلے پینتیس سال سے بازار مارکیٹ وغیرہ نہیں دیکھی۔ سیرت اور نعت پر میری کثیر تحاریر و تقاریر سے اہل علاقہ بخوبی آگاہ ہیں کہ جن پر مجھے انعام و ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ حتیٰ کہ دوسرے مسالک کے لوگ بھی مجھے پکا بدعتی سمجھنے کے باوجود اپنے مسلک پر پکا کاربند ہی گردانتے ہیں۔ یہ تمہید کچھ اور بھی بڑھائی جا سکتی ہے مثلاً میری مساجد میں خطابت، میری مذہبی جماعتوں سے گہری وابستگی وغیرہ مگر اب مجھے نفس مضمون سے کچھ ہٹنے کا ڈر لگنے لگا ہے۔

اس سب کٹریت، مذہبیت اور خود ایک غیرت مند مرد ہونے کے باوجود مجھے آج اپنے سماجی رویوں پر شدید غصہ آ رہا ہے۔ اور دل چاہتا ہے اس کی یہ نام نہاد شرم و حیا و غیرت کی دھجیاں بکھیر دوں۔ وہ سماج جس میں تحنیک میں بیٹوں کو کرختگی، انتقام اور غصہ دیا جاتا ہو تو وہ فطری صنفی برتری کے غلط تصور میں پاگل پنے کا شکار نہ ہوں گے تو کیا ہوں گے۔ اس پاگل پن کا انجام پھر معصومیت کے قتل کی صورت ہی بر آمد ہو گا۔ یہ سوپر مین ارضی دیوتاؤں کا روئے زمین کی سب سے کمزور مخلوق کے حوالے سے اس کے علاوہ اور کیا نظریہ ہو گا کہ

As flies to wanton boys are we to the gods; They kill us for their sport. ”

ثنا یوسف کا قتل ہمارے سماج کی پدری انانیت کا شاخسانہ ہے یا یہ مذہب کے غلط ورژن کی کار فرمائی ہے۔ وجہ جو بھی ہو ایک معصوم سے پری کا ایک منحوس کریہہ صورت بد معاش کو انکار کیے جانے یا غیرت کے نام پر پر زندگی جیسی نعمت سے محروم کیا جانا صرف اور صرف درندگی، بد بختی اور بد خصلتی ہے۔

پدری معاشرے میں مردوں کی نام نہاد برتری کو ہمارے کم فہم مذہبی پنڈتوں نے بھی کچھ فکری مواد بہم ضرور پہنچایا ہے۔ اور کچھ تربیت بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے والی ماؤں نے بھی کی ہے۔ پھر یہی بیٹے شباب کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ماؤں کے قدموں تلے جنت، بہن و بیٹی کی تربیت کرنے والے کو پیغمبر اسلام کی اپنے ساتھ جنت میں رفاقت اور ماں و خالہ کی خدمت کو جہاد پر ترجیح دیے جانے والی روایات نسیا منسیا کر دیتے ہیں۔

مجھے ان بد طینت مبصرین میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں اور ایسے کاموں کا ایسا انجام، لسی پی کر سو جاؤ اور دیگر اس طرح کے لایعنی جملے کسنے والوں میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا کیا تھا اس بچی نے۔ کیا آپ کا سماج اتنی سپیس بھی دینے کو تیار نہیں۔ ؟ کیا یہاں اب اپنی مرضی سے کوئی ٹک ٹاک بھی نہیں بنا سکے گا۔

ان جنس زدہ دماغوں والے، ہوس پرست روحوں والے مردوں کو کس جہنم میں ڈالو گے جو شب و روز سکرول و ٹرول ہی شہوات و لذات کو کرتے ہوں۔ اور جن کو کم سن بچوں امردوں بلکہ تصویروں تک سے حظ محسوس ہوتا ہو۔

میں پچھلے کئی سالوں سے گرلز کالج میں بھی پڑھا رہا ہوں۔ میرا خدا جانتا کہ میں نے ہمیشہ طہارت و پاکیزگی و معصومیت ہی کی جھلک ان کے چہروں پر دیکھی ہے۔ ایک ایسا نور جو مجھے قبضہ بھر ریش والے مذہبی حلیہ رکھنے والے مردوں کی چہروں پر آج تک نظر نہیں آیا۔ یہ مرد ہی ہیں جو ایسی معصوم، سیدھی سادی روحوں کو دروغ گوئی، کذب بیانی، پیار کے جھوٹے دعوؤں، بڑے خوابوں اور روشن مستقبل کے جھانسے دے کر ورغلاتے اور ان کی عفت کو تار تار کرتے ہیں۔

ان غیرت مند ٹارزن مردوں کی تو پھر بھی سمجھ آتی ہے یہ ڈریکولا صفت ٹاکسک مردوں کی ستائی عورتوں میں ثنا یوسف کی دشمنی کا عود کر آنا سمجھ سے بالا ہے۔ کیا ان کی نفسیاتی محرومیوں کو اس وائبرنٹ بچی سے جلاپا ستا رہا تھا۔ بہرحال ہر شخص جس ظرف کا مالک ہوتا ہے اس سے وہی بر آمد ہوتا ہے۔ مجھے گلہ معاشرے کے ان لبرلز سے بھی ہے جو صرف مذہب بالخصوص اسلام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ کسی بھی مذہب میں اس طرح قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت ہے اور نہ انا کی تسکین اور مردانہ غیرت کے اظہاریے کی کوئی اجازت۔ عمر حیات کو اگر اس شخصیت کا علم ہوتا جس کے نام پر اس کا نام رکھا گیا ہے تو اسے خبر ہوتی کہ اس عمر نے اپنے ایک گورنر کو جس کے خلاف اقلیتوں کی شکایت آئی تھی فرمایا تھا (جس ارشاد کو بعد میں اپنے الفاظ میں روسو نے بھی بیان کیا) ”تم نے ان کو کب سے پابند سلاسل کرنا شروع کر دیا ہے جن کو ان کی ماؤں نے آزاد جنا تھا۔“

ایسے قاتل مزاج لوگ مذہب کی غلط تعبیر کرنے والوں سے انسپائریشن لیں یا ہمارے پدری سماج کے ہاتھوں غیرت و مردانگی کا طرہ سجائے جس نسائی آواز کا گلا چاہیں گھونٹ دیں۔ بہر صورت ہمارے ادارے، خواہ وہ مسجد و مدرسہ ہو یا کالج و یونیورسٹی، گھر ہو یا تھانہ کچہری، سب ہی ذمہ دار ہیں۔ تعلیمی نصاب میں جہاں محبت، برداشت، تحمل رواداری، توسع، ادب الاختلاف، تکثیریت اور قبولیت جیسے اجزا کی شمولیت ناگزیر ہے وہیں ان اداروں کے نصابی متن سے اختلافی، صنفی، فرقہ ورانہ، مسلکی و بنیاد پرستانہ فکر کی بیچ کنی بھی ازحد ضروری ہے۔ غیرت کو ری ڈی فائن کرنے کی ضرورت ہے۔ مردانہ برتری کی درست تعبیر درکار ہے۔ صنفی امتیازات کی حدودیت کا تعین کیا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تلف اسلحہ کو فوراً یقینی بنائیں۔ گھر کے ماحول میں تربیتی عناصر میں دونوں صنفوں کی قبولیت، انفرادیت اور بے مثالیت کے ادراک کو بہر صورت شامل کیا جائے۔ سماجی اخلاقیات کے حدود کی تعیین بھی نہایت ضروری ہے۔ وقتاً فوقتاً ایسے علما، سول سوسائٹی کے تعلیم یافتہ نمائندوں اور سماجی دانش کے حامل اشخاص کے زیر سایہ حرمت انسانی، بقائے باہمی اور احترام آدمیت سکھانے کے سیشن کا انعقاد کیا جائے۔ ایسے قاتلین کو وہ عبرت ناک سزائیں دی جائیں جن کی بد قسمتی سے ہماری مغرب زدہ این جی اوز ناقد رہی ہیں۔ ورنہ کبھی ہوس کے نام پر زینب، کبھی غیرت کے نام پر قندیل اور کبھی انا کے نام پر ثنا جیسے چراغ بجھتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS

One thought on “ثنا یوسف میں شرمندہ ہوں”

  • 08/06/2025 at 5:42 شام
    Permalink

    یہ آپ کی یہاں پہلی تحریر ہے اور مجھے علم نہیں کہ آپ اس کا جواب الجواب دے سکیں گے یا نہیں۔
    –
    میں نے بھی انہی کٹر مذہبی گھرانوں میں آنکھ کھولی۔ پلا بڑھا، دوسرے عقیدے کے لوگوں کے ساتھ بھی زندگی گزاری۔
    پھر دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ سینگ بھی پھنسائے مگر اسی طرح ان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے زندگی بھی بسر کی۔
    میں عورتوں کو آزادی اور حقوق دینے کا حامی ہوں۔ مگر کیا ہماری ذمہ داری ارد گرد جو بچیاں اور خواتین ہیں ان کو آزادی یا شعور دے کر ختم ہوجاتی ہے۔ یقین جانیں عام طور پر ہاں۔
    –
    نہ ہمیں خود شعور ہوتا ہے کہ ہم ان کو کس دلدل اور مصیبت میں دھکیل رہے ہیں اور زندگی میں ان کو ہر طرح کی مشکلات اور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا تو ایسے مواقع پر ان کو کیسے خود کو بچانا ہوگا۔ کیا ہم انہیں اگاہ کرتے ہیں۔
    –
    یقین جانیں بڑی بچیاں جیسے نور مقدم ہو یا قندیل بلوچ یا اور جو بھی ان کے نام ہوں۔ سیال کوٹ لاہور موٹر وے پر بچوں کے سامنے زیادتی کی شکار ماں۔ اور اب ثنا یوسف کا واقعہ۔
    ظالم اور قاتلوں کو پھانسی دینے کی بات کر کے ہم سائیڈ پر ہوجاتے ہیں۔ کچھ معاشرے کو گالیاں دے ڈالیں کچھ مذہب یا ملاؑوں کو کچھ معاشرے کو اور ہماری بکواس ختم۔
    –
    حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات پاکستان ہی نہیں دنیا کہ تمام ملکوں میں پیش آرہے ہوتے ہیں کہیں کم کہیں زیادہ۔
    انڈیا، بنگلہ دیش، مصر، چین، روس، جاپان، انڈونیشیا، ملائشیا۔۔۔آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔
    لیکن وہ ممالک جہاں تعلیم بہت زیادہ ہے یا قوانین کی پاسداری گھٹی میں موجود وہاں شرح قدرے کم ہوگی لیکن واقعات ملیں گے۔
    –
    مجھے نہ دوسرے ملکوں سے سروکار ہے اور نہ اپنے ملک میں دوسرے لوگوں سے۔ اپنے گھر کی ماں بیٹیوں بہنوں اور بیوی کو آزادی دینا دلوانا ایک بات کی ان سب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مجھ پر عائد ہے۔
    –
    کیا قندیل بلوچ کے گھر والوں، شوکت مقدم، اور ثنا یوسف کے والدین کو شعور ہے کہ خود انہوں نے کیا کیا غلطیاں کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بھی ان تمام قتل میں کہیں نہ کہیں ذمہ دار رہے۔
    –
    آگے اگر وقت ملا۔

Comments are closed.