چین کی ”لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی“


چین کی لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی جسے کم اونچائی والی معیشت بھی کہا جاتا ہے، گزشتہ ایک دہائی میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ایک اہم شعبہ بن چکی ہے۔ یہ معیشت بنیادی طور پر ڈرونز، ائر ٹیکسیز، اور دیگر کم اونچائی پر کام کرنے والے ہوائی نظاموں پر مشتمل ہے۔ چین نے اس شعبے کو ترقی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے نتیجے میں یہ اب ایک مستحکم اور منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں چین کی لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی نے نمایاں ترقی کی ہے، اور 2025 میں اس کے مزید پھیلاؤ کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔

چین میں لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کی ترقی کی بنیادی وجہ حکومتی پالیسیوں اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت ہے۔ 2015 میں چین کی حکومت نے ”مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے فروغ“ کے تحت ڈرون ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد سے ڈرونز کا استعمال زراعت، سروے، اور خدمات کی ترسیل میں تیزی سے بڑھا۔ 2020 تک چین دنیا کی سب سے بڑی ڈرون مارکیٹ بن چکا تھا، جہاں تقریباً 70 فیصد تجارتی ڈرونز چین میں تیار ہوتے تھے۔ لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کا دوسرا اہم ستون ائر ٹیکسیز ہیں، جنہیں شہری نقل و حمل کے مستقبل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ چین کی کمپنیاں جیسے ای ہانگ نے پہلے ہی خودکار ائر ٹیکسیز کو کامیابی سے آزمایا ہے، اور 2025 تک ان کے تجارتی استعمال کا ہدف رکھا ہوا ہے۔

حالیہ دہائی میں چین کی لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کو مستحکم بنانے میں سب سے اہم کردار ریگولیٹری فریم ورک کا رہا ہے۔ چین نے 2018 میں ڈرون ٹریفک منیجمنٹ سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت تمام ڈرونز کو رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔ اس سے نہ صرف حفاظتی معیارات بہتر ہوئے بلکہ اس صنعت کو قانونی بنیاد بھی ملی۔ 2020 تک چین میں ڈرون کی صنعت کا حجم 100 ارب یوآن سے تجاوز کر چکا تھا اور اس میں سالانہ 30 فیصد کی شرح سے اضافہ دیکھا گیا۔ اس ترقی میں چین کی مقامی کمپنیوں جیسے جے ڈی کا بڑا کردار رہا، جو دنیا کی سب سے بڑی ڈرون بنانے والی کمپنی بن چکی ہے۔

کم اونچائی والی معیشت کا ایک اور اہم پہلو لاجسٹکس اور ڈیلیوری سروسز ہیں۔ چین میں ای کامرس کی تیزی سے ترقی نے ڈرون ڈیلیوری کو فروغ دیا۔ علی بابا اور جے ڈی جیسی کمپنیوں نے دیہی علاقوں میں ڈرون کے ذریعے سامان پہنچانے کے منصوبے شروع کیے۔ 2022 تک چین کے کئی صوبوں میں ڈرون ڈیلیوری نیٹ ورک فعال ہو چکا تھا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ممکن ہوئی بلکہ نقل و حمل کے اخراجات میں بھی کمی آئی۔ 2025 میں اس پر کام جاری ہے اور آہستہ آہستہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر اسے ایک معمول کی سروس کے طور پر منوایا جا رہا ہے۔

مستقبل کے حوالے سے بات کریں تو چین کی لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کے بارے میں اندازہ ہے کہ کہ 2025 تک یہ صنعت 300 ارب یوآن سے زائد کی ہو جائے گی۔ اس کی ایک بڑی وجہ سکس جی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے، جو ڈرونز اور ائر ٹیکسیز کے لیے بہتر کنٹرول سسٹم فراہم کرے گی۔ چین کی حکومت نے ”سمارٹ سٹی“ منصوبوں کے تحت لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کو ترجیح دی ہے، جس کے تحت ہوائی نقل و حمل کو شہری بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنایا جائے گا۔ ای ہانگ جیسی کمپنیوں نے پہلے ہی کئی شہروں میں ائر ٹیکسی ٹرائلز مکمل کر لیے ہیں اور اب ان کے باقاعدہ آپریشن کا امکان بھی قریب نظر آتا ہے۔

چین کی لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی کو مستقبل میں درپیش چیلنجز میں سے ایک فضائی ٹریفک کا انتظام ہے۔ جیسے جیسے ڈرونز اور ائر ٹیکسیز کی تعداد بڑھے گی، انہیں منظم کرنے کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت ہوگی۔ چین اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم پر کام کر رہا ہے۔ ایک اور چیلنج عوامی قبولیت ہے، کیونکہ بہت سے لوگ ائر ٹیکسیز کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ جوں جوں اس نظام کے بارے میں اور اس کی سکیورٹی کے بارے میں عوامی رائے بہتر ہو گی لوگوں کا یہ خوف جاتا رہے گا اور دنیا آمد و رفت کے ایک نئے نظام سے مستفید ہو گی۔

حکومتی حمایت، ٹیکنالوجی میں ترقی، اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری نے مل کر اس معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کی ہے۔ اگرچہ کچھ چیلنجز باقی ہیں، لیکن چین کے پاس انہیں حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ آنے والے سالوں میں لو ایلٹیٹیوڈ اکانومی نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئے معاشی دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS