ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی پہلی فکشنل کتاب ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا تعارف
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی جو گزشتہ چار دہائیوں سے خواتین کے طبی اور سماجی مسائل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اپنی بیباک کالم نگاری پر مشتمل چھ کتابوں اور پنجابی نظموں کے مجموعے ”جتی“ کے بعد ، اب فکشن کی دنیا میں ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں۔ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں، بلکہ ان کے فکری و تخلیقی سفر کا ایک نیا، چونکا دینے والا موڑ ہے۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے فکشن کا اسلوب ایک ایسی تازگی لیے ہوئے ہے جو پڑھنے والے کو انگریزی افسانوں کا سا لطف دیتا ہے۔ کردار ہوں یا ماحول، ان میں مشرق اور مغرب کا وہ حسین امتزاج جھلکتا ہے جو دونوں ثقافتوں کے درمیان ایک نئی فضا تراشتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کی میڈیکل کے شعبے سے وابستگی نے ان کی کہانیوں کو ایسی گہرائی اور حقیقت پسندی بخشی ہے جو عام مصنف کے لیے ممکن نہیں۔ ایک اور دلچسپ خاصیت ان کی بیباکی ہے۔ جنسی موضوعات پر وہ اس طرح کھل کر قلم اٹھاتی ہیں کہ فن فحاشی کی سرحد بھی عبور نہیں کرتا اور قاری پر ان کی بات واضح بھی ہو جاتی ہے۔ اسے ان کی فنی پختگی کا کمال کہا جا سکتا ہے۔
کتاب میں ایک ناولٹ ”ناگہانی تا ناگہانی“ اور چھ مختصر کہانیاں شامل ہیں۔ ناولٹ کورونا کے دنوں میں ائرپورٹ پر پھنسی ایک خاتون کی دل دہلا دینے والی کہانی ہے، جو اس وبائی بے چینی اور زندگی کے بدلتے روپ کی تصویر کشی کرتی ہے۔ اس ناولٹ کا اختتام اتنا متاثر کن اور غیر متوقع ہے کہ آپ کہانی پڑھنے کے بعد بھی گھنٹوں اس کے سحر میں گم رہتے ہیں۔ یہ ناولٹ پڑھتے ہوئے مجھے ایک انگریزی فلم ”دی ٹرمینل“ بھی یاد آئی، سچی کہانی پر مبنی اس فلم میں بھی ایک آدمی سالوں تک ائرپورٹ پر پھنس کر رہ جاتا ہے۔ کورونا وبا کے تناظر میں بھی یہ ایک یادگار ادبی کارنامہ ہے۔ ناولٹ بظاہر کامیاب اور خودمختار پاکستانی عورت کے اندر کے اس اضطراب کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو کسی ناگہانی میں کانفیڈنس کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ کہانی اس امید کو بھی روشن کرتی ہے کہ اگر مرد کا سویا ہوا ضمیر اور انسانیت بیدار ہو جائے تو نظام ہستی کے اضطراب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
مختصر کہانیوں میں ”حسب معمول“ کی ادبی چاشنی ایسی ہے کہ اگر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا نام ہٹا کر پڑھیں تو آپ اسے عالمی ادب کے کسی بڑے افسانہ نگار کے کسی افسانے کا ترجمہ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھیں گے۔ ”جنریشن گیپ“ میں ماں بیٹے کی دوستانہ اور روشن خیالی پر مشتمل گفتگو قابلِ تقلید ہے۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ اگر ہم بچوں کو مطیع سمجھنے کی بجائے اپنے جیسا انسان سمجھیں تو ہمارے سماج کے ممنوعہ موضوعات پر بھی آزادی سے بات ہو سکتی ہے۔ ”وبا کے دنوں میں دو خط“ پڑھتے ہوئے بیٹی اور ماں کے مابین خطوط میں ڈھلی محبت اور خلوص رگوں میں اتر جاتا ہے، جبکہ ”ڈر کا ڈر“ میں ان کے نان فکشن کی جھلک نمایاں ہے۔
”ایک سے سو“ ایک ایسی کہانی ہے جو جنسی موضوعات پر بے مثال خوبصورتی اور حساسیت سے لکھی گئی ہے۔ بعض جملوں کا طنز آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے اور یہ ڈاکٹر طاہرہ کے قلم کی جولانی کا بہترین ثبوت ہے۔ کہانی ”آج پھر سے“ بانجھ عورتوں کے احساس محرومی سے جنم لینے والے نفسیاتی مسائل کو اس گہرائی سے پیش کرتی ہے کہ بعض جملے ٹھہر کر دوبارہ پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔
مجموعی طور پر، ”ناگہانی تا ناگہانی“ فکشن کی دنیا میں ایک زبردست آغاز ہے۔ خاص طور پر ناولٹ اتنا جاندار ہے کہ اسے اردو کے بہترین ناولٹس کی فہرست میں شامل کرنا ناگزیر ہو گا۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے ثابت کیا ہے کہ ان کا قلم صرف بیباک ہی نہیں، بلکہ گہرائی، نزاکت اور فکری وسعت کا بھی حامل ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کے باغیچے میں ایک سرسبز اضافہ ہے۔
کتاب سے دو اقتباسات پیش ہیں :
”بیٹی کا پیغام دوبارہ آیا ہے وہ دور بیٹھی دیکھ رہی ہے، ائرپورٹ کی حالت، فلائٹس کا مسئلہ اور ماں کی حالت۔ آہ ہا، کبھی میں اس کو یوں ٹریک کیا کرتی تھی جب وہ اکیلی امریکہ گئی پڑھنے کے لیے۔ ہر جگہ اسے میسیج کرتی، کہاں پہنچیں؟ اگلی فلائٹ کب ہے؟ کچھ کھا لو۔ سامان کا خیال رکھو۔ اکیلی ٹیکسی میں مت بیٹھنا، پیسوں کا خیال رکھنا۔ کبھی کبھار وہ تنگ پڑ جاتی، جھنجھلا کر کہتی، میں بچی نہیں ہوں ماں۔ میرے لیے تمُ بچہ ہی ہو۔ لیکن اب بازی پلٹ چکی ہے۔ اب وہ پوچھتی ہے ماں کہاں ہو؟ کیسی ہو؟ کچھ کھایا کہ نہیں؟ تھکی تو نہیں؟ اب میں بچہ ہوں اور وہ میری ماں! وقت کے بہاؤ میں رشتوں کا الٹ جانا اچھا لگ رہا ہے۔“
”شٹ اپ۔ انسان چیز نہیں ہے۔ وہ اُسے گھورتے ہوئے کہتی ہے۔
انسان ہو نہ ہو۔ مگر عورت تو ہے۔ بکنے والی۔ خریدی جانے والی۔ سگریٹ والی کہتی ہے۔ اس وقت قید ہے اور بھوک۔ سب کے پاس بیچنے کے لیے ایک ہی چیز ہے۔ عورت۔ جو بک رہی ہے نہ صرف اپنے پیٹ کے لیے بلکہ اپنے بچوں اور شوہر کے پیٹ کے لیے بھی۔ ”


