دوستانہ، منافقت اور ہم
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مسائل کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں وہاں دوستوں کی محفلوں کو ہمیشہ ایک ایسے گوشۂ عافیت کے طور پر دیکھا گیا جہاں انسان اپنی ذہنی پریشانیوں، فکری الجھنوں اور روزمرہ کی تھکن سے کچھ دیر کو نجات حاصل کرتا ہے۔ ان محافل میں انسان بہت سی ایسی توجیحات کے تحت اپنے بے قراری اور بے زاری کے رویوں کو ایک لمحے کے لیے مکمل طور پر بھول جاتا ہے اور یہی ان محافل کا خاصہ ہوتا ہے۔ یہ بیٹھکیں کبھی قہقہوں سے گونجتی تھیں، کبھی دل کی باتیں ہوتی تھیں، اور کبھی کوئی خواب سب دوستوں کا مشترکہ خواب بن جاتا تھا۔ لیکن وقت کی تیز رفتاری اور سماجی رویوں کی تبدیلی نے ان محفلوں کا مزاج بھی بدل دیا ہے۔ اب ان محفلوں سے اٹھنے والا شور قہقہوں کا نہیں بلکہ تنقید، طنز، اور غیبت کا بن چکا ہے۔ ایسی کسی بھی محفل کو عام اصطلاح میں دوستوں کی بیٹھک کہا جاتا ہے تو ایسا کیوں کہا جاتا ہے؟ بیٹھک کا لفظ تو یقینی طور پر بیٹھنے سے ہی نکلا ہے لیکن یہ ایک پرانے وقتوں میں ایک ایسے کمرے کی طرف بھی نشاندہی کرتا تھا کہ جہاں ایک دروازہ گلی کی طرف اور ایک گھر کی طرف ہوتا تھا جسے آپ مہمان خانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ہم بطور قوم یہ یقین رکھتے تھے کہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ہم بڑی سے بڑی پریشانی بھی ہنس کر برداشت کر لیتے ہیں۔ محفل میں بیٹھنے سے ہم اپنے اندر ایک نیا حوصلہ اور ولولہ محسوس کرتے تھے۔ مگر اب ہم محفل میں صرف اس وقت سکون محسوس کرتے ہیں جب کسی اور کی غیر موجودگی میں اس کی ذات پر بات کرنے کا موقع ملے۔ وہ دوست جو کسی مصروفیت کے باعث موجود نہ ہو، وہی بحث کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کا لباس، اس کی نوکری، اس کی ازدواجی زندگی، حتیٰ کہ اس کی عبادت تک ہمارے تجزیے کا نشانہ بن جاتی ہے۔
یہ سب کچھ محض وقتی تسکین ضرور دیتا ہے، مگر رفتہ رفتہ یہ تسکین زہر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب ہم کسی کی برائی کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اپنے اندر کے منفی جذبات کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ غیبت کرنے والا فرد بظاہر ہنستا ہے مگر اندر سے وہ مزید کشمکش، بے چینی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ سکون کی تلاش میں مزید بے سکونی کا بندوبست کر رہا ہے۔ پھر یہی منفی رجحان اس کی شخصیت میں رچ بس جاتا ہے اور وہ محفلوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے ان سے بچنے لگتا ہے۔
ہم نے خود سے وہ حقیقت چھپا لی ہے کہ جو محفل دوسروں کی عزت پامال کرنے کے لیے منعقد ہو، وہ برکت اور راحت سے خالی ہو جاتی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم دلوں کو جوڑنے کے بجائے دلوں کو توڑنے لگتے ہیں۔ ہم نے دوستوں کو عزت دینے کے بجائے ان پر تبصرہ کرنے کا چلن اپنا لیا ہے۔ ماضی میں بزرگوں کی محفلیں اصلاح اور تربیت کا ذریعہ ہوا کرتی تھیں، لیکن آج وہی محفلیں نفرت، حسد، اور بدگمانی کی پرورش گاہ بن چکی ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، اور وائرل کلپس اب ہماری گفتگومیں کتابوں اور سیرت کی جگہ لے چکے ہیں۔
ہمارے سماجی رویے کا ایک اور زہریلا پہلو حسد اور جلن ہے۔ جب کوئی دوست ترقی کرے تو ہم خوش ہونے کے بجائے پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس کی کامیابی کو تسلیم کرنے کے بجائے اس میں خامیاں تلاش کرتے ہیں۔ ہم محفلوں میں اس کی غیبت کر کے خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی دفاعی نظام ہے جسے ہم جانے انجانے میں اپنے اندر پال رہے ہیں۔ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس عمل سے ہم خود کو ہی نیچا دکھا رہے ہوتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنے سے ہم خود کامیابی کی راہ سے ہٹ جاتے ہیں۔
اگر ہم یہ سمجھیں کہ غیبت صرف دوسروں کو نقصان دیتی ہے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ درحقیقت، غیبت کرنے والا خود سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کی سوچ، اس کی نفسیات، اس کی معاشرتی پہچان، سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔ وہ دوسروں پر اعتماد کھو دیتا ہے، اسے ہر شخص منافق محسوس ہونے لگتا ہے، اور یوں وہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کا لہجہ تلخ ہو جاتا ہے اور وہ خود کو ایک دفاعی خول میں بند کر لیتا ہے۔ پھر وہ محفلوں سے گریز کرنے لگتا ہے، دوستوں سے دور ہو جاتا ہے، اور زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔
تعلیمی اداروں اور دفاتر میں بھی یہی رویہ سرایت کر چکا ہے۔ طالب علم اپنے ساتھیوں کو کمتر سمجھنے لگے ہیں، استاد ایک دوسرے پر تبصرے کرتے ہیں، اور دفاتر میں ترقی پانے والا ملازم حسد کا نشانہ بن جاتا ہے۔ محنت کی قدر کم ہو گئی ہے، اور تعلقات صرف فائدے کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں۔ لوگ اپنے مسائل پر کھل کر بات کرنے کے بجائے دوسروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں۔ گفتگو میں تلخی، طنز اور سازش نے وہ جگہ لے لی ہے جہاں کبھی ہمدردی، مشورہ اور مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔
اختلافِ رائے کو ہم نے دشمنی کا درجہ دے دیا ہے۔ اگر کوئی ہمارے نظریے سے اختلاف کرے تو ہم اس پر ذاتی حملے شروع کر دیتے ہیں۔ ہم محفلوں میں ایسے الفاظ بولتے ہیں جو ہم خود اپنے لیے سننا بھی پسند نہ کریں۔ برداشت، تحمل اور تہذیب جیسے الفاظ اب لغت میں تو موجود ہیں، مگر ہماری زبان سے غائب ہو چکے ہیں۔ ہم صرف اپنی بات سننا چاہتے ہیں اور دوسروں کی سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے درمیان مکالمے کی فضا ختم ہو گئی ہے اور ہر بحث ایک جھگڑے پر ختم ہوتی ہے۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو کے انداز کو بدلیں۔ ہمیں محفلوں کو تربیت گاہ، محبت کی جگہ، اور شعور کی آماجگاہ بنانا ہو گا۔ ہمیں مثبت باتیں کرنی ہوں گی، ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، اور غیبت جیسے ناسور سے بچنا ہو گا۔ ہمیں اپنی محفلوں میں ادب، تاریخ، سیرت، سائنس، اصلاحی قصے، اور معاشرتی پہلوؤں پر بات کرنی ہوگی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہمیں دوسروں کی بات سننے کا سلیقہ بھی سیکھنا ہو گا۔ اگر ہم نے اپنی محفلوں کا رخ نہ بدلا تو آنے والی نسلیں صرف تنقید اور تلخی کی تربیت حاصل کریں گی۔
یاد رکھیے کہ ہر محفل صرف قہقہوں سے خوشگوار نہیں بنتی بلکہ خلوص، عزت اور سچائی سے دل جیتے جاتے ہیں۔ اگر ہم نے دوستوں کے لیے سکون کا ماحول نہ پیدا کیا تو ہمیں خود بھی وہ سکون نصیب نہیں ہو گا جس کی ہم تلاش میں رہتے ہیں۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنی زبان اور نیت کو پاک رکھنا ہو گا، تاکہ اجتماعی طور پر ہم ایک بہتر سماج تشکیل دے سکیں۔ یہی تبدیلی آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔


