خیبر پختونخوا میں سیاحت کو درپیش چیلنجز

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں سیاحت کے موجودہ امکانات کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے قوانین اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت مختلف سیاحتی علاقوں کے لئے قائم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیاحتی مقامات کے لئے ماسٹر پلانز، لینڈ یوز پلان، بلڈنگ کنٹرول کوڈز اور اتھارٹیز کی کار کردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ زیر جائزہ اتھارٹیز میں گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کیلاش ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی شامل تھیں۔ اجلاس میں سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی سیوریج اور نکاسی آب سے متعلق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں اور ماحول پر اس کے اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
صوبے میں سیاحت کے فروغ جس کا بنیادی تعلق قدرتی مناظر، سرسبز و شاداب پہاڑوں، اونچے گھنے جنگلات، ندی نالوں، چشموں، جھیلوں اور دریاؤں سے ہے کے متعلق صوبائی حکومت کے متذکرہ بالا فیصلوں کے تناظر میں یہ خبر کہ پاکستان موسمیاتی تغیر کے حوالے سے خطرناک ممالک میں سر فہرست آ گیا ہے نے سیاحت کے شعبے کو لاحق خطرات کی واضح نشاندہی کر دی ہے۔ اس بات کا انکشاف وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اشاریہ کی رپورٹ میں شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے، درجہ بندی کی بنیادی وجہ غیر معمولی سیلابوں کی آمد اور گرمی کی حدت میں اضافہ کو قرار دیا گیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں جن میں سیلاب اور گرمیوں کی شدت میں اضافہ سرفہرست مسائل ہیں کے حوالے سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ ماہرین ماحولیات کے مطابق، گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں غیر معمولی بارشیں اور شدید طوفانوں کا رجحان بڑھ رہا ہے خیبر پختونخوا پہاڑی اور جنگلاتی خطہ ہونے کے باعث یہاں کے موسمی حالات زیادہ حساس ہیں نئی عمارتوں کے لئے مضبوط تعمیراتی کوڈز کا نفاذ، خاص طور پر چھتوں اور دیواروں کو طوفان کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل بنانا اور مضبوط جڑوں والے درختوں کی کاشت کے ذریعے طوفانوں اور سیلابوں کی روک تھام کو کافی حد تک ممکن بنایا جا سکتا ہے، اس حوالے سے عوام میں آگاہی مہمات کا چلایا جانا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب چونکہ واضح ہو چکے ہیں لہٰذا اگر فوری اور جامع اقدامات نہ اٹھائے گئے تو خیبر پختونخوا جیسے حساس خطوں میں تباہی کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے عوام اور حکومت دونوں کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
موسمیاتی تغیر کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں شمالی پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث گلیشیر جھیل کے پھٹنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو جاری مراسلہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر آنے والے دنوں میں گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے گلیشیر والے علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے سے گلیشیر پھٹنے کے واقعات کا خدشہ ہے اس سلسلے میں جاری ہدایات اور احتیاطی تدابیر کے مطابق پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان اور متعلقہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو خطرے والے علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے۔ مراسلہ کے تحت اگر گلیشیر کے پگھلنے سے بننے والی جھیل اچانک پھٹ گئی تو اس سے تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے جس سے گلگت بلتستان خاص طور پر ہنزہ، سکردو، غذر اور خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، دیر اور سوات کے پہاڑی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقوں کی حساسیت کے حوالے سے یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ گرمیوں کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی جہاں ان علاقوں میں سیاحوں کی آمد و رفت میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے وہاں گرمی کی شدت کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں جو بسا اوقات بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ اس ضمن میں حالیہ دنوں میں شانگلہ کے علاقے مارتونگ کے جنگلات میں آگ کا بھڑک اٹھنا بھی شامل ہے، فارسٹ، ریسکیو اور مقامی رضا کار آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اس علاقے کے جنگل میں آگ لگنے کے باعث میاں بیوی جھلس کر جان بحق ہو گئے تھے، مارتونگ کے علاقہ علیگئی تیتو الان میں جو آگ لگی تھی اب علاقہ دانکول ڈھیرئی کی چینو درمند میں آبادی کی طرف بڑھنے لگی ہے، مقامی پولیس کے مطابق آگ باراتیوں کی آتش بازی کی وجہ سے لگی تھی متاثرہ علاقوں میں آگ بجھانے کے لئے قریبی مساجد میں اعلانات کیے گئے ہیں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد آگ بجھانے میں انتظامیہ محکمہ جنگلات اور ریسکیو کے ساتھ مصروف ہے۔
اس بات میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جو بلند و بالا پہاڑوں، دلکش وادیوں، تاریخی مقامات اور متنوع ثقافت کی وجہ سے سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ تاہم، اپنی تمام تر قدرتی خوبصورتی کے باوجود، یہاں کی سیاحت کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے واقعات نے صوبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اگرچہ اب حالات میں بہتری آئی ہے، لیکن بین الاقوامی اور بعض ملکی سیاحوں کے ذہن میں اب بھی تحفظات موجود ہیں۔ کئی دور دراز حسین و دلکش سیاحتی مقامات پر جانے کے لیے سڑکوں کی حالت خراب ہے، ٹرانسپورٹ کی سہولیات ناکافی ہیں اور مناسب ہوٹلز یا ریسٹ ہاؤسز کی کمی سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح غیر منظم سیاحت، جنگلات کی کٹائی، کچرے کا ناقص انتظام اور پانی کے وسائل کی آلودگی، قدرتی حسن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سیاحتی مقامات بتدریج اپنی کشش کھو سکتے ہیں۔ مقامی افراد اور سیاحتی عملے کو سیاحت کے اصولوں، مہمان نوازی اور ماحول کے تحفظ کے بارے میں مناسب تربیت حاصل نہیں۔ اس سے سیاحوں کے تجربے پر منفی اثر پڑتا ہے جس کا احساس اور تدارک متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے کوئی جامع، مستقل اور مربوط پالیسی کا نہ ہونا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر اقدامات وقتی اور غیر مربوط ہوتے ہیں، جو مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ یہ ایک برسر زمین حقیقت ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں سیاحت کو درپیش ان چیلنجز پر موثر حکمتِ عملی سے قابو پایا جائے تو اس سے نہ صرف صوبے کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر نے میں مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا پائیدار اور مستحکم بنیادوں پر استوار سیاحت کے لیے سیکیورٹی کی بہتری، انفراسٹرکچر کی ترقی اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

