غزہ اور عالمی ضمیر ایک بے حسی کا المیہ


afshan saher

غزہ کی پٹی پر جاری خونریزی اور تباہ کاری نے انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کا امتحان بن چکا ہے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک عظیم انسانی المیہ ہے جسے عالمی برادری کی بڑی حد تک خاموشی اور بے حسی کا سامنا ہے۔

ناقابل بیان انسانی بحران

غزہ میں صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچے عورتیں اور بزرگ شہید ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے مطابق اب تک دسیوں ہزار فلسطینی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ ہسپتال اسکول اور پناہ گاہیں بھی حملوں کی زد میں ہیں جس سے شہری ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ کا بیشتر حصہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ایسی مصدقہ رپورٹس موجود ہیں کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ امداد کی رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں غزہ کی 80 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور قحط کے دہانے پر ہے۔ لوگوں کو بھوک سے یا خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں ہلاک کیا جا رہا ہے۔ بنیادی ضروریات کا فقدان پانی بجلی اور صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ لوگ صاف پانی خوراک اور ادویات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسپتالوں کو بجلی کی قلت اور طبی سامان کی کمی کی وجہ سے کام جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عالمی برادری کی خاموشی اور منافقت

غزہ کی صورتحال پر عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ صرف تشویش کے اظہار سے زیادہ کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کئی قراردادیں منظور کی ہیں جن میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن سلامتی کونسل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ویٹو پاور کا استعمال ان کوششوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی پامالی غزہ میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ شہریوں کی املاک کی مسماری انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا اور انہیں بنیادی ضروریات سے محروم کرنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے بھی اپنی رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا ذکر کیا ہے۔ طاقتور ممالک کی پشت پناہی بعض طاقتور ممالک خاص طور پر امریکہ اسرائیلی کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس سے یہ بحران مزید گمبھیر ہو رہا ہے۔ عالمی برادری کی یہ خاموشی اور غیر فعال رویہ اسرائیل کو اپنے مظالم جاری رکھنے کے لیے مزید حوصلہ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس کو عالمی طاقتوں کی خاموشی نے مزید وحشی بنا دیا ہے۔

عالمی ضمیر کا امتحان

غزہ کا المیہ درحقیقت عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ہمارا اجتماعی ضمیر ابھی زندہ ہے؟ معصوم بچوں اور عورتوں کی لاشیں تباہ شدہ مکانات اور بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی کے مناظر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دنیا اپنے مفادات کی عینک اتار کر انسانیت کی بنیاد پر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ جب بچے بھوک سے بلکتے ہیں ہسپتال ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں اور امدادی قافلوں کو روکا جاتا ہے تو یہ صرف غزہ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ پوری انسانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ عالمی برادری پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ مظالم کو روکا جا سکے اور غزہ کے عوام کو اس تباہ کن صورتحال سے نجات مل سکے۔

غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر، عالمی سطح پر فوری اور موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں رہا، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم بن چکا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کو ایک منظم اور ٹھوس لائحہ عمل اپنانا ہو گا

فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا نفاذ

سب سے پہلی اور اہم ترین ضرورت غزہ میں فوری طور پر مکمل جنگ بندی کا نفاذ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہیے جو فوری جنگ بندی کو لازمی قرار دے، اور اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ امریکہ کو اپنی ویٹو پاور کا استعمال بند کرنا چاہیے جو جنگ بندی کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنا رہا ہے۔ یہ جنگ بندی کسی بھی پیشگی شرط کے بغیر ہونی چاہیے تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔

انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی

غزہ میں ایک شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے، جہاں لوگ قحط، بیماریوں اور بنیادی ضروریات کے فقدان کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل پر عالمی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے تمام زمینی راستے جیسے رفح، کرم شلوم، اور ایرز کراسنگ کو بلا روک ٹوک کھول دے۔ امداد کے لیے فضائی راستوں یا سمندری راستوں کا استعمال ہنگامی حالت میں ضروری ہو سکتا ہے، لیکن زمینی راستے ہی موثر اور بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کا واحد ذریعہ ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں UNRWA، WHO، UNICEF اور دیگر امدادی تنظیموں کو غزہ کے تمام علاقوں تک مکمل اور محفوظ رسائی فراہم کی جائے تاکہ وہ ضرورت مندوں تک امداد پہنچا سکیں۔ امدادی کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ امدادی سامان کی چیکنگ کے طریقہ کار کو تیز اور شفاف بنایا جائے تاکہ امداد کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔ غیر ضروری اشیاء پر پابندی ختم کی جائے جو انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

بین الاقوامی قوانین اور احتساب کا نفاذ

غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں بشمول جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہو رہے ہیں۔ ان جرائم کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے میں عالمی عدالت انصاف ICJ نے اسرائیل کو جو عبوری اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے، ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ عدالت نے اسرائیل کو نسل کشی سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے اور رفح میں فوجی آپریشن روکنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت ICC کو غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات مکمل کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ حال ہی میں ICC کے پراسیکیوٹر کی جانب سے اسرائیلی اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ ایک عالمی جواب دہی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔ اس میں ان ممالک کو بھی شامل کیا جائے جو براہ راست یا بالواسطہ ان جرائم میں ملوث ہیں۔

سیاسی حل کی جانب پیش رفت

غزہ کا مسئلہ صرف انسانی بحران نہیں بلکہ اس کی جڑیں سیاسی ہیں۔ ایک پائیدار اور منصفانہ حل کے لیے سیاسی کوششیں تیز کی جائیں۔ عالمی برادری کو 1967 کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل Two State Solution پر مضبوطی سے زور دینا چاہیے، جہاں ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ واحد پائیدار حل ہے جو خطے میں دیرپا امن لا سکتا ہے۔ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ان کے اپنی سرزمین پر آزادانہ زندگی گزارنے کے حق کو تسلیم کیا جائے اور اس کی بھرپور حمایت کی جائے۔ عالمی برادری کو فلسطینی فریقین کے درمیان اتحاد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ ایک متحدہ آواز کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے لڑ سکیں۔

عالمی بائیکاٹ انویسٹمنٹ کی واپسی اور پابندیاں BDS

دنیا بھر کے ممالک، خاص طور پر مغربی ممالک، جو اسرائیل کے ساتھ مضبوط تجارتی اور فوجی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اسرائیل کو ہتھیاروں کی سپلائی فوری طور پر بند کی جائے تاکہ مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔ عالمی برادری کو اسرائیل پر معاشی دباؤ ڈالنا چاہیے، جس میں تجارتی پابندیاں، بائیکاٹ، اور سرمایہ کاری کی واپسی شامل ہو سکتی ہے، تاکہ اسے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔ ان ممالک کو جو اسرائیلی مظالم کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں، سفارتی سطح پر تنہا کیا جائے۔

میڈیا کا کردار اور عوامی آگاہی

عالمی میڈیا کو غزہ کی صورتحال کی غیر جانبدارانہ اور مکمل کوریج کو یقینی بنانا چاہیے۔ صحافیوں کو غزہ تک مکمل رسائی دی جائے تاکہ وہ زمینی حقائق کو دنیا کے سامنے لا سکیں۔ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جائے تاکہ حقائق کو مسخ ہونے سے روکا جا سکے۔ دنیا بھر میں عوام کو غزہ کے معاملے پر آواز بلند کرنے اور اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کی ترغیب دی جائے۔ عوامی احتجاجی تحریکیں ایک طاقتور ذریعہ ہیں جو حکومتوں کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

غزہ کا المیہ ایک انسانیت سوز بحران ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور غیر فعالی اس ظلم کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اب وقت ہے کہ دنیا اپنی سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر انسانیت کی بنیاد پر اس ظلم کے خلاف متحد ہو اور موثر اقدامات اٹھائے تاکہ غزہ کے عوام کو اس تباہ کن صورتحال سے نجات مل سکے۔

Facebook Comments HS