مقتولہ ثنا یوسف بمقابلہ خدائی فوج دار
کچھ روز پہلے ایک بہت پیاری زندگی سے بھرپور ہنستی مسکراتی ثنا یوسف کے قتل کی خبر نے پورے ملک پہ چھائی ہوئی اداسی اور یاسیت بھری فضا کو مزید سوگوار کر دیا۔ نہ ہمارے ملک میں ہونے والا ظلم و زیادتی اور جبر کا یہ واقعہ پہلا ہے نہ ہی اس سترہ سالہ بچی کی المناک موت پر رد عمل دینے والے ذہنی پیچیدگیوں میں مبتلا کچھ لوگوں کا بے رحمانہ، کانٹے دار طعن و تشنیع سے بھری بے مہر گفتگو اور کردار کشی کرنے کا طریقہ کار نیا ہے۔
لوگوں کے بے رحمانہ تبصرے دیکھ کر ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ یہ کیسے بے خوف لوگ ہیں جن کے دل میں اتنا گھپ اندھیرا ہے کہ کسی جیتے جاگتے انسان کے اس طرح دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کے دلوں میں کوئی خوف پیدا نہیں ہوتا کوئی نرمی نہیں جاگتی۔ کیا ان کے دل کسی انسان کی نفرت میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ وہ خدا کے خود ساختہ نمائندے بن کر کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔
کیا ان سب لوگوں کو اپنی پارسائی کا اتنا یقین اور گھمنڈ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو اپنے سامنے اس قدر حقیر سمجھتے ہیں؟ یا پھر یہ اپنے آنے والے حال سے پہلے سے با خبر ہیں اور اس بات پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ خود ان کے ساتھ کبھی بھی ایسی کوئی ناگہانی نہیں ہو سکتی؟ یا یہ اپنے انجام بالخیر سے پہلے ہی سے واقف ہیں کہ تقدیر نے ان کے لئے بس اچھا ہی لکھ رکھا ہے۔ انہیں یہ ڈر نہیں لگتا کہ وہ یا ان کی نسلوں میں سے کوئی اس نام نہاد انسانی معاشرے میں کہیں نہ کہیں ایسے ہی کسی حادثے کا شکار (خدانخواستہ) ہو سکتے ہیں؟ سوچنے کی بات ہے کہ آخر کون سی چیز انہیں خدا کی ناراضگی سے اتنا بے خوف کر سکتی ہے؟ یہ لوگ ہر گز ہر گز اسلامی مزاج کے نہیں ہو سکتے جو کسی کے نا حق قتل پر خوشیاں مناتے ہوں کسی کے ظلم کا شکار ہونے پر ہنسی ٹھٹھے کرتے ہوں۔
ہمارے نبی کریم محمد ﷺ کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ ”قیامت کے روز جس چیز کا سب پہلے حساب ہو گا وہ خون نا حق کا ہو گا“ ۔
اسلام میں انسانی جان کی حرمت بہت بلند ہے۔ اس حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ کا ایک مشہور قول بھی قابل ذکر ہے۔
جب حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر فرمایا:
”اے کعبہ! تیری حرمت بہت عظیم ہے، لیکن انسانی جان کی حرمت اللّٰہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے۔“
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا کسی انسان کی موت ایسی چیز ہے جس پر ہنسا جائے یا جسے سیلیبرٹ کیا جائے؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جو بات آپ کو دوسروں کے غم پر خوش ہونے کے لئے اکسا رہی ہے وہ آپ کے اندر تیزی سے معدوم ہوتی ہے انسانیت ہے اور اسے فوری علاج کی ضرورت ہے۔
جو لوگ اپنی جہالت میں خود سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے ذہنی خناس اور سوچ کی پسماندگی کو اسلام سے جوڑ کر کسی بھی ظلم کے حق میں تاویلات پیش کرتے ہیں انہیں علم نہیں کہ اسلام تو ایسا دین ہے جس کے سلام کے معنی میں بھی سامنے والے کے لئے سلامتی کی دعا چھپی ہے۔
اسلام تو یہ بتاتا ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے گویا پوری انسانیت کا قتل کر ڈالا۔ اور یہ چیز بھی ہمیں اسلام ہی سکھاتا ہے کہ جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی مصیبت پہ ہنسے گا یا خوش ہو گا، اللّٰہ اس کو اسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔
نہ جانے یہ فتویٰ باز لوگ کس اسلام کی پیروی کرتے ہیں؟ کون سے خدا کو مانتے ہیں؟ شاید یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے خوبصورت دین کی اصل تعلیمات کو چھوڑ کر کسی شف شف مولوی کو کسی تعصبی مبلغ کو کسی جعلی پیر کو اپنا نجات دہندہ مانا ہوا ہے جو اکثر خود بھی اللّٰہ کے بنائے ہوئے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے پائے جاتے ہیں۔
کیوں ان ظالموں کی نظر سے وہ احکامات الٰہی نہیں گزرتے جن میں دوسرے کے غموں میں دل جوئی اور غم گساری کی تلقین ہوتی ہے۔ یہ جو اس بچی کے قتل کو اس لئے جائز قرار دے رہے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک پر ویڈیوز بناتی تھی یا پھر انہیں اس بات کا قلق تھا کہ اس پر آشوب دور میں وہ کیسے اور کیوں ہنستی پھرتی ہے؟ قاتل کی مذمّت کی بجائے اس کے اقدام کو سراہنے والے یہ بھیڑیوں جیسی سوچ کے حامل لوگ کیا یہ اس حد تک گزر چکے ہیں کہ اگر کبھی خود انہیں موقع ملے تو کیا یہ خود بھی اقدام قتل جیسا گھناؤنا فعل کر گزریں گے؟ بے شبہ ایسی سوچ رکھنے والے خود بھی اپنے اندر انتقامی حیوانیت جیسے خونی جذبے کی پرورش کر رہے ہیں جس کی زد میں آ کر اکثر یہ خود اپنے ہی گھر بار تباہ کر دیتے ہیں۔
کوئی بھی نارمل اور صحت مند معاشرہ اپنے اعلیٰ اقدار اور روایات کی پاس داری کرتا ہے تہذیب اور باہمی رواداری کا پرچار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے رنج و غم میں شریک ہوتا ہے۔ مگر نہ جانے وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے لوگوں کے اندر نفرتوں کو اتنا پختہ کر دیا ہے؟ وہ کون سا عنصر ہے جس نے انسانیت کے بنیادی اسباق کو بھلا کر رکھ دیا ہے؟
یہ کیسی بے باکی ہے جو ایک انسان کو اتنا اندھا کر دیتی ہے کہ وہ قتل جیسے خوف ناک جرم کی مذمت کی بجائے جانے ان جانے میں اسے پرموٹ کرتے ہیں۔ معاشرتی بے حسی کی یہ کہانی نئی نہیں ہے۔ نور مقدم کے بہیمانہ قتل کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا اس پر بھی ہمارے یہاں لوگوں نے بے حسی پہ مبنی دل دکھانے والی باتیں کی تھیں، قندیل بلوچ جو غیرت کے نام پر قتل کر دی گئی تھی اس کی موت پر بھی طنزیہ جملے بازی کرنے والے کم نہ تھے۔
ایسے خدائی فوج داروں سے یہ کہنا ضروری ہے کہ
کسی بھی واقعے پر بے لاگ تبصرے کرتے وقت آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داری صرف آپ کے اپنے حد تک، اپنے خاندان کی حد تک ہے۔ آپ کی فیملی کی تعلیم و تربیت آپ کے ذمہ ہے کسی اور کی فیملی یا خاندان جیسے بھی جینا چاہیں آپ کو ان کی زندگیوں میں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے نیم خواندہ معاشرے میں سوشل میڈیا کے بے دریغ اور بے ہنگم استعمال نے مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد اس میڈیم کو ہتھیار کی طرح استعمال کر رہے ہیں اس لئے یہ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات کے بارے میں آگاہ کریں۔
جب بچے سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارم کو بطورِ انفلوئنسر استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کریں
تو یہ بھی والدین کا ہی فرض ہے کہ انہیں لوگوں کے عمومی رویوں اور معاشرتی ماحول کے بارے میں ضرور آگاہ کریں یہ دقیانوسیت بالکل نہیں ہے بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اور اچھائی برائی میں تمیز کرنے اور صحیح اور غلط کے مابین فرق رکھنے کا شعور سکھا کر ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر ایک ضروری اقدام ہے۔ اور انہیں خود بھی علم ہونا چاہیے کہ ہمارا معاشرہ بے انصافی اور لا قانونیت کی موجودہ صورت حال میں وہ وبال بنتا جا رہا ہے جہاں انصاف کے ادارے لوگوں کو انصاف نہیں دے پاتے، جہاں کا قانون مجرموں کو تحفظ دیتا ہے۔ جہاں کے سیاست دانوں اور اشرافیہ کی خود کی کوئی اخلاقی تربیت نہیں ہوتی۔ پھر بطورِ والدین یہ کیوں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے اس قدر غفلت برتنے لگتے ہیں۔
خون ناحق جس کا بھی ہو چاہے وہ مرد ہو یا خاتون، افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے اعتدالی اور عدم توازن کی سوچ اس حد تک گہری اور پختہ ہو چکی ہے کہ جب بھی کہیں کوئی ایسا سفاکیت بھرا واقعہ رونما ہوتا ہے تو بجائے اس قاتل کی مذمت اور قانونی تقاضوں کے مطابق سزا پر عمل درآمد کے مطالبے کی ہمارے یہاں مرد و خواتین کی باہم بحث چھڑ جاتی ہے جس میں خواتین کا ایک طبقہ مردوں کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتا ہے جبکہ مردوں کی ایک جماعت ان خواتین کے خلاف صف آرا ہو جاتی ہے۔ اس لا یعنی بحث میں الجھتے الجھاتے اصل مدعا جس پر گفتگو ہونی چاہیے جس کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جانی چاہئیں، جن سے لوگوں میں شعور پیدا ہو جس سے لوگوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کی جا سکے، جن سے نفرت بھرے اذہان کی تخریبی سوچ کو تعمیری اور مثبت طرزِ فکر کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جا سکے، وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے اور بحث برائے بحث جیسے بے مقصد مباحثے میں کچھ عرصے تک الجھے رہنے کے بعد ایک نئے سانحے کے انتظار میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ اب بد قسمتی سے یہی طرزِ زندگی ہے جو ہم نے اختیار کر لیا ہے اور یہ ہمارے لئے بحیثیت قوم، ایک لمحۂ فکریہ ہے۔


