حرکت کا سائنسی تصور ( 17 )
دنیا کی تمام چیزیں ایٹموں سے مل کر بنی ہیں۔ ایٹموں کو کیمسٹری کے دوری جدول کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔ دوری جدول میں ایک سو سے زائد ایٹموں کی فہرست ملتی ہے۔ ہر ایٹم اپنی منفرد خصوصیات کے حوالے سے دوری جدول میں ترتیب دیا گیا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہمارا واسطہ چند ہی ایٹموں سے پڑتا ہے۔ زیادہ تر اشیاء ایٹموں کے مختلف پیچیدہ نظاموں سے بنی ہیں جنہیں کمپاؤنڈز یا مالیکیولز کہتے ہیں۔ مالیکیولز کا کوئی ایسا دوری جدول نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ مالیکیولز کی پیچیدگی اور ان کی بے شمار تعداد ہے۔ حتٰی کہ مالیکیولز کو چند ایک گروہوں میں بانٹنا بھی قریب قریب ناممکن ہے۔ صرف دو ایٹم یعنی کاربن اور ہائیڈروجن سے مل کر جو ہائیڈروکاربن کے مرکب بنتے ہیں ان کی تعداد بے شمار ہے اور اگر ان میں آکسیجن کو بھی شامل کر دیں تو کاربوہائیڈریٹ کی متنوع اقسام ملتی ہیں جیسے چینی، اسٹارچ، ویکس، مختلف اقسام کی چربی، پلاسٹک وغیرہ اور اگر چند اور ایٹم شامل کیے جائیں تو ڈی این اے جو زندگی کا بنیادی مالیکیول ہے، بھی واضح ہو جاتا ہے۔
مختلف مالیکیولز اور کمپاؤنڈز کو آپس میں جوڑ کر اشیاء کا تنوع قائم کرنے میں برقی قوت (الیکٹروسٹیٹک فورس) کا بنیادی کردار ہے۔ یہ وہی قوت ہے جو ایک غبارے کو قمیص پر رگڑنے سے ظاہر ہوتی ہے اور جو خشک علاقوں یا خشک موسم میں کسی دھات کو چھونے سے الیکٹرک شاک کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔ یہی قوت کسی ایٹم کے اندر الیکٹرانوں کو نیوکلیس کے پروٹانوں سے باندھے رکھتی ہے۔ ایٹم کی بنیادی ساخت کے مطابق، ہر ایٹم کے الیکٹران اس کے مرکز کے گرد چند مداروں میں گھومتے ہیں۔ کوانٹم میکانیاتی اصولوں، خاص کر پاؤلی کے اصول کے باعث کسی الیکٹران کے لئے تمام کوانٹم اعداد برابر نہیں ہو سکتے اس لیے دو ایک جیسے الیکٹران ایک مدار میں نہیں رہ سکتے۔ لہذا، کسی ایٹم میں اگر ایک سے زیادہ الیکٹران ہوں تو مختلف مداروں میں ایک خاص تعداد میں جگہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ایٹموں کا سائز ایک جتنا نہیں ہوتا۔ کچھ ایٹم بڑے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن کا ایٹم چھوٹا ہے کیونکہ اس میں ایک الیکٹران ہے لیکن لوہے کا ایٹم بہت بڑا ہے کیونکہ اس میں 26 الیکٹران ہوتے ہیں۔
چونکہ ایٹم کے مختلف مداروں میں الیکٹران موجود ہوتے ہیں اس لیے مرکز کے قریب والے مداروں کو اندرونی مدار جبکہ مرکز سے دور مداروں کو بیرونی مدار کہتے ہیں۔ تمام ایٹموں کے اندرونی مدار اکثر بھرے ہوتے ہیں۔ کچھ عناصر کے ایٹموں کے بیرونی مدار بھی مکمل طور پر الیکٹرانوں سے بھرے ہوتے ہیں جیسے نوبل گیسیں نیون، ہیلیم، آرگون وغیرہ جبکہ کچھ دوسرے ایٹموں کے بیرونی مدار ادھورے رہتے ہیں جیسے کاربن، سوڈیم اور کلورین وغیرہ۔ جن کے بیرونی مدار خالی یا ادھورے رہتے ہیں، وہ ایٹم ہی زیادہ تر کیمیائی عوامل میں حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح کہ ادھورے ایٹم اپنے بیرونی مدار کو بھرنے کے لئے دوسرے کسی مناسب ایٹم سے بانڈز بناتے ہیں۔ دو یا دو سے زیادہ ایٹموں کے بانڈز بنانے سے مالیکیول بنتے ہیں۔ اگر کسی مالیکیول میں کم از کم دو مختلف قسم کے ایٹم ہوں تو اسے کمپاؤنڈ بھی کہتے ہیں۔
ہر ایٹم برقی طور پر نیوٹرل ہوتا ہے۔ دوسرے ایٹم سے بانڈ بناتے وقت ہو سکتا ہے وہ آئنز بنائیں اور یہ آئنز آپس میں جڑ کر ایک کیمیائی بانڈ بنائیں۔ ایسے کمپاؤنڈ کو آئیونک کمپاؤنڈ کہتے ہیں۔ نمک ایک آئیونک کمپاؤنڈ ہے جس میں سوڈیم کا ایٹم اپنا ایک الیکٹران کلورین کو دے کر مثبت آئن بناتا ہے اور کلورین کے ایٹم میں ایک اضافی الیکٹران ہو جاتا ہے تو یہ منفی آئن بناتی ہے۔ سوڈیم اور کلورین کے آئنز مل کر آئیونک بانڈ بناتے ہیں۔ نمکیات کی دیگر اقسام بھی اکثر آئیونک بانڈز بناتی ہیں۔
مگر آئیونک بانڈ، مالیکیول یا کمپاؤنڈ بنانے کا واحد طریقہ نہیں ہے۔ کچھ ایٹم اپنا الیکٹران دوسرے کو دینے کے بجائے، اپنے اور دوسرے کے الیکٹران کے درمیان اشتراک کرتے ہیں اور کوویلنٹ بانڈ بناتے ہیں۔ دو ایٹموں کے درمیان الیکٹران کے جوڑے کے اشتراک سے پیدا ہونے والا تعلق، کوویلنٹ بانڈ کہلاتا ہے۔ اس تعلق کی وجہ ایک ہی الیکٹران کے لیے دونوں ایٹموں کے نیوکلیس کی الیکٹرو سٹیٹک کشش ہے۔ کوویلنٹ بانڈز کے باعث پیچیدہ ساختیں وجود میں آتی ہیں کیونکہ یہ مخصوص ایٹموں کے جوڑوں سے ہی بنتے ہیں۔ ہر ایٹم ایک خاص تعداد میں ہی اپنے الیکٹران دوسرے ایٹم سے مشترک کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، کاربن کے بیرونی مدار میں چار الیکٹرانوں کی کمی ہوتی ہے اس لئے وہ کسی ایسے ایٹم یا ایٹموں سے ہی اشتراک کو ترجیح دے گی جو اس کے ساتھ چار الیکٹرانوں کا اشتراک کر سکتے ہوں۔ آکسیجن دو الیکٹران اور ہائیڈروجن ایک الیکٹرون کا اشتراک کریں گے۔ یعنی ایک کاربن کا ایٹم، چار ہائیڈروجن کے ایٹموں سے اشتراک کرے گا اور میتھین گیس کا مالیکیول بنے گا۔
مالیکیول میں ایٹموں کو گول دائروں اور ان کے درمیان الیکٹرانوں کے اشتراک کو لکیروں کی مدد سے ظاہر کرنے کا رواج ہے۔ یوں کیمسٹری کی کتابوں میں کاغذ پر مالیکیولوں کی مخصوص شکلیں بنائی جاتی ہیں جنہیں تین جہتوں میں سمجھنا مشکل ہے اور کسی کمپیوٹر پروگرام کی مدد کے بغیر مشکل کام ہے۔ مثال کے طور پر فرانسس اور کرک نے ڈی این اے کے مالیکیول کو کاغذ پر بنایا تو انہیں پتا چلا کہ یہ ایک ڈبل ہیلکس شکل رکھتا ہے۔ مگر یاد رکھا جائے کہ مالیکیولوں کی ایسی شکل صرف وضاحت کی آسانی کے لئے ہے۔ ان کی اصل تصویر خاصی پیچیدہ سی ہوتی ہے کیونکہ الیکٹرانوں کے بانڈز سخت راڈز کے بجائے الیکٹرانوں کے ویوفنکشن کے باہمی تعامل یا پرابیبلٹی کے جال کی مانند ہوتے ہیں، جو کہ کوانٹم فزکس کے قوانین کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ چند درجن ایٹموں سے ہمارے اردگرد نامیاتی و غیرنامیاتی چیزوں کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر نامیاتی اور حیاتیاتی کیمیا میں کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کے ایٹموں کا ہی کمال ہے۔ اگرچہ غیرنامیاتی کیمیا میں متعدد ایٹموں کی کاریگری ہوتی ہے مگر یہ بھی تعداد میں زیادہ نہیں ہیں۔ جدید سائنس میں ایک اور اہم چیز کیمیائی اشیاء کا سائنسی نام ہے۔ قرون وسطٰیٰ میں الکیمی کے عاملین کے ہاں اور روزمرہ کی غیر سائنسی سمجھ یا توہم پرستی کے باعث لوگوں نے مرکبات کا پسندیدہ نام رکھا ہوتا تھا۔ جیسے کہ آب حیات، آب سلطانی، نیلا تھوتھا، سبز توتیا و گندھک وغیرہ۔ لیکن چونکہ اب یہ معلوم ہو گیا کہ تمام اشیاء مالیکیولوں سے مل کر بنی ہیں جو پھر ایٹموں کی مختلف ترتیبوں کا نام ہے، اس لئے جدید سائنس میں مالیکیولوں کو خاص نام سے لکھا جاتا ہے جس میں اس مالیکیول کے اجزاء یعنی ایٹموں کو بمع ان کی تعداد کے لکھا جاتا ہے۔ کچھ مرکبات کو اب بھی پرانے نام سے پکارتے ہیں مگر ساتھ ان کی سائنسی اصطلاح بتانا لازمی ہوتا ہے۔ ان سائنسی ناموں کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے مالیکیولوں کی ساخت اور ان کے کام کا طریقہ سمجھنا آسان اور منظم ہو جاتا ہے۔ اس طرح ہم نئے مالیکیولوں کی پیش گوئی کر سکتے ہیں اور ان پر بارہا تجربات کے ذریعے کسی نظریے کی تصدیق یا تردید کے قابل ہو جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر سبز توتیا دراصل آئرن سلفیٹ ہے جس میں آئرن (لوہا) ، سلفرکے ساتھ چار آکسیجن کے بانڈ بناتا ہے۔ اگر آئرن کے بجائے کاپر (تانبا) کو سلفیٹ سے جوڑا جائے تو نیلا تھوتھا بنتا ہے۔ اور اگر اسی سلفیٹ کو ہائیڈروجن کے دو ایٹموں سے جوڑ دیں تو سلفیورک ایسڈ بنتا ہے جسے گندھک کا تیزاب کہتے ہیں۔ تیزاب کو عام طور پر ایسڈ کے ترجمے کے طور پر لیا جاتا ہے مگر ایسڈ کی سائنسی تعریف کے مطابق جن اشیاء کو پانی میں حل کرنے سے ہائیڈروجن کا ایک مثبت آئن خارج ہوتا ہے انہیں ایسڈ کہتے ہیں۔ انسانی جلد پر تیزاب پھینکنے سے اس کے جلنے کا عمل دراصل ہائیڈروجن کے مثبت آئن کے جلد میں جذب ہونے کی وجہ سے ہے۔ کسی تیزاب کی طاقت کا انحصار ہائیڈروجن آئنز کی اس تعداد پر ہے جو اس تیزاب میں سے خارج ہوتے ہیں۔
بیٹری ایسڈ، جو کہ تقریباً 30 فیصد سلفیورک ایسڈ ہے جو پانی میں تحلیل ہوتا ہے، اس کا نام اس لیے پڑا کیونکہ یہ کاروں، موٹرسائیکلوں اور دیگر گاڑیوں کو اسٹارٹ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی لیڈ ایسڈ اسٹوریج بیٹریوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ اس قسم کی بیٹری طاقتور سٹارٹر موٹروں کو چلانے کے لیے بہت زیادہ کرنٹ فراہم کر سکتی ہے، لیکن لیڈ ایسڈ کی بیٹریاں تیزاب میں ڈوبی ہوئی دھات کی پلیٹوں کی وجہ سے بہت بھاری ہوتی ہیں۔ سٹرک ایسڈ ایک کمزور نامیاتی تیزاب ہے جو سنترے، لیموں اور بہت سے دوسرے پھلوں کو ترش ذائقہ دیتا ہے۔ اس طرح کے پھلوں میں پایا جانے والا ایک اور کمزور نامیاتی ایسڈ ایسکوربک ایسڈ وٹامن سی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ تیزاب ایک ضروری غذائیت ہے جس کے بغیر انسان صحت مند زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہر کیمیائی مرکب کی تمام صفات بشمول رنگ، ذائقہ، طاقت اور خوشبو وغیرہ کو مالیکیولوں اور ایٹموں کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔
تاہم نامیاتی اور غیرنامیاتی کی اصطلاحیں اتنی واضح نہیں ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ نامیات سے مراد زندہ چیزیں جبکہ غیر نامیاتی سے مراد مردہ چیزیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ اکثر حیات میں نامیاتی چیزوں کا دخل ہے۔ مگر یہ ہمیشہ درست نہیں ہے۔ جیسے کوئلہ اگرچہ پتھر نما ہے اور یہ مردہ چیز تصور ہوتا ہے مگر یہ نامیاتی مرکب ہے۔ کوارٹز کے کرسٹل بھی نامیاتی مرکبات سے بنتے ہیں۔ کچھ تیل معدنی کہلاتے ہیں جبکہ وہ نامیاتی ہوتے ہیں۔ نامیاتی مادے کی ایک تعریف عام طور سے یہ بھی کرتے ہیں کہ ان میں کاربن لازمی جزو ہے، یہ بات بھی مکمل درست نہیں۔ چونا (لائم) غیرنامیاتی ہے مگر اس میں کاربن پائی جاتی ہے اور یہ کیلشیم کاربونیٹ کا مرکب ہے۔ کچھ لوگ نامیاتی کی تعریف میں کاربن و ہائیڈروجن دونوں کو شامل کرلیتے ہیں جو کہ اکثر درست ہے مگر ہمیشہ نہیں۔ ٹیفلون نامی مرکب، نامیاتی ہے مگر اس میں ہائیڈروجن نہیں پائی جاتی۔ یہی صورتحال ریفریجریٹر اور سپرے وغیرہ میں پائے جانے والے کلوروفلورو کاربن مرکبات کی ہے۔
کیمسٹری کے ابتدائی دنوں میں، بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ جاندار چیزوں میں ایک ”قوت حیات“ ہوتی ہے جس کے بغیر کچھ کیمیائی تبدیلیاں ناممکن ہیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ نامیاتی مرکبات، چیزوں کے اندر مخفی باطنی قوت کے ذریعہ تخلیق کردہ جانداروں میں، اور صرف جانداروں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ باطنی قوت حیات کا یہ تصور 1828 ء میں ختم ہو گیا جب جرمنی کے فریڈرک ووہلر (متوفی 1882 ء) نے پانی ملے امونیم سائینیٹ کے محلول، جسے اس نے امونیم کلورائیڈ میں سلور سائینیٹ ملا کر تیار کیا تھا، کو آہستہ آہستہ بخارات بنا کر یوریا تیار کیا۔ یوریا بلاشبہ ایک نامیاتی مرکب ہے جبکہ امونیم سائینیٹ غیرنامیاتی ہے۔ اس تجربے سے پرانے تصور کی نفی ہوئی اور معلوم ہوا کہ نامیاتی مرکب، کسی غیرنامیاتی مرکب سے وجود میں آ سکتا ہے اور یوں نامیاتی مرکبات کی ترکیب کا آغاز ممکن ہوا۔ جس طرح کوپرنیکس، گلیلیو اور نیوٹن وغیرہ نے فزکس کے تصورات میں میٹا فزکس یعنی کسی مثالی دنیا کے یونانی تصورات کو اکھاڑ کر جدید فزکس کی بنیاد رکھی ایسے ہی ووہلر کے تجربے اور مالیکیولوں اور ایٹموں کے تصور نے جدید کیمیا کی بنیاد رکھی۔
(جاری ہے )


