کیا فلسفی سپینوزا خدا کے منکر تھے؟
بارک سپینوزا ایک یہودی اور پرتگالی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے خاندان نے پرتگال سے ایمسٹرڈیم اس لیے ہجرت کی تھی کہ پرتگال میں یہودی ہونے کی وجہ سے ان کی جان خطرے میں تھی۔
سپینوزا 1632 میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی چھ برس کے ہی تھے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ چھ برس سے نو برس تک ان کی نانی نے انہیں پالا۔ اس کے بعد ان کے والد نے ایستھر نامی خاتون سے شادی کر لی اور وہ سپینوزا کی سوتیلی ماں بن گئیں۔
ایک زمانے میں سپینوزا کے والد ایک کامیاب تاجر تھے اور کافی امیر تھے لیکن پھر انہوں نے نہ صرف ساری دولت کھو دی بلکہ مقروض بھی ہو گئے۔ جب سپینوزا کے والد فوت ہوئے تو سپینوزا کے کندھوں پر ان کے والد کے قرض کا بھاری بوجھ تھا۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی وہ انہیں ایک ’یتیم‘ قرار دے دے تا کہ انہیں والد کا قرض نہ ادا کرنا پڑے۔
بچپن میں سپینوزا نے روایتی یہودی تعلیم حاصل کی لیکن والد کی وفات کے بعد انہوں نے روایتی مذہب کے تصورات اور اعتقادات کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ وہ مذہبی اعتقادات کو منطق کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے تھے۔
جب سپینوزا کی عمر تئیس برس تھی تو ان کے ہمعصروں کو پتہ چلا کہ وہ باغیانہ خیالات کے مالک ہیں۔ انہوں نے سپینوزا کے خلاف سناگاگ کے بزرگوں سے شکایت کی۔ چنانچہ سپینوزا پر ستائیس جولائی سولہ سو چھپن میں مذہبی مقدمہ چلا اور جب اصحاب بست و کشاد کو پتہ چلا کہ سپینوزا نہ تو خالق خدا کو مانتے ہیں اور نہ یہ مانتے ہیں کہ زبور تورات انجیل الہامی کتابیں ہیں، کیونکہ ان کا موقف تھا کہ یہ کتابیں خدا نے نہیں انسانوں نے تخلیق کی ہیں۔ ان نظریات کی وجہ سے سپینوزا کو موقع دیا گیا کہ یا وہ معافی مانگیں یا عیسائی ہو جائیں سپینواز نے دونوں چیزیں ماننے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ انہیں سزا دی گئی اور انہیں اپنے مذہبی گروہ سے عاق کر دیا گیا۔ عاق ہونے کے بعد سپینوزا نے روایتی مذپب اور ذاتی خدا کو بر سر عام خدا حافظ کہا اور فلسفے کو گلے لگا لیا۔
سپینوزا اپنے باغیانہ خیالات اور غیر روایتی اور غیر مذہبی نظریات رقم کرتے رہے لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی کتابیں نہیں چھپوائیں۔ نہ چھپوانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے ایک قریبی دوست ایڈرئیین کارباغ نے ’جو ان کے ہم خیال و ہم مزاج تھے‘ اپنی کتاب چھپوائی تو ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ جیل کی صعوبتوں سے وہ اتنے دکھی ہوئے کہ وہ پس دیوار زنداں فوت ہو گئے۔
سولہ سو ستر میں سپینوزا ہیگ منتقل ہو گئے تا کہ وہاں کے دانشوروں کے قریب رہ سکیں اور اپنی کتاب ایتھکس پر سنجیدگی اور یکسوئی سے کام کر سکیں۔
سپینوزا کو خط لکھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے خطوں میں اپنے باغیانہ خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ ان کے خطوط کی وجہ سے ان کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ ان کے دوستوں مداحوں اور پرستاروں کا ایک حلقہ بن گیا جو سپینوزا سرکل کہلایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔
سپینوزا کی زندگی میں ان کے مذہبی اعتقادات متنازعہ فیہ رہے۔ چونکہ سپینوزا خالق خدا کو نہیں مانتے تھے اس لیے بہت سے لوگ انہیں ایتھیسٹ ATHEIST سمجھتے تھے۔ لیکن چونکہ سپینوزا ایسے خدا کو مانتے تھے جو کائنات کی ہر چیز میں موجود ہے اس لیے بہت سے لوگ انہیں پینتھیسٹ PANTHEISTسمجھتے تھے۔
سپینوزا ہمہ از اوست کی بجائے ہمہ اوست کے ماننے والے تھے۔ سپینوزا کے الفاظ میں
GOD IS THE SUM OF THE NATURAL AND PHYSICAL LAWS OF THE UNIVERSE AND CERTAINLY NOT AN INDIVIDUAL ENTITY OR CREATOR.
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سپینوزا کائنات کو ہی خدا سمجھتے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ کائنات خدا کا جسم ہے اور اس میں مخفی قوانین اور توانائی اس کی روح ہیں۔
سولہ سو چھہتر میں سپینوزا کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ بیمار رہنے لگے۔ بعض دوستوں کا خیال تھا کہ وہ دق کے مریض ہیں۔ سپینوزا چوالیس برس کی عمر میں 1677 میں فوت ہو گئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی کتابیں چھپیں جن پر کیتھولک چرچ نے پابندیاں عاید کر دیں کیونکہ گرجے کی نگاہ میں سپینوزا کی تخلیقات قارئین کو روایتی مذہب سے دور اور لامذہبیت کے قریب لے جاتی ہیں اور دہریت کا پرچار کرتی ہیں لیکن ان پابندیوں کے باوجود ان کی شہرت اور مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔
سپینوزا کی تخلیقات کو کارل جاسپرز اور لڈوگ وٹگنسٹین سگمنڈ فرائڈ اور فریڈرک نطشے جیسے فلاسفروں اور البرٹ آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں نے سراہا۔ جب آئن سٹائن سے پوچھا گیا کہ آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا
I BELIEVE IN SPINOZA ’S GOD WHO REVEALS HIMSELF IN THE ORDERLY HARMONY OF WHAT EXISTS, NOT IN A GOD WHO CONCERNS HIMSLEF WITH THE FATES AND ACTIONS OF HUMAN BEINGS
اسپینوزا کی طرح آئن سٹائن بھی ایسے خدا کو نہ مانتے تھے جو انسانوں کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی قربانیاں قبول کر کے ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے سپینوزا کی طرح آئن سٹائن کو بھی خالق و مالک خدا کو ماننے والے دہریہ سمجھتے ہیں۔ آئن سٹائن سپینوزا کی حیات و نظریات سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے 1946 میں سپینوزا کی سوانح عمری کا دیباچہ بھی لکھا۔
سپینوزا کی وفات کے تین صدیوں کے بعد بھی ان کے نظریات متنازعہ فیہ ہیں۔ خالق خدا کو ماننے والے انہیں خدا کا منکر اور ساری کائنات کو خدا ماننے والے انہیں خدا کا پرستار سمجھتے ہیں۔
سپینوزا کی زندگی میں ان کے چند دوستوں نے انہیں کیتھولک بنانے کی کوشش بھی کی لیکن انہوں نے برملا کہا کہ میں تمام مذاہب اور الہامی کتابوں کا انکاری ہوں کیونکہ انہیں خدا نے نہیں انسانوں نے تخلیق کیا ہے۔





کچھ کچھ یہی نظریہ منصور حلاج کا تھا جن ہوں نے انا الحق کا نعرہ بلند کیا تھا۔
–
شاعر تصوف میر درد کو اگر پڑھیں تو کچھ کچھ یہی ماحول اسی شعر سے ملتا ہے جیسے
–
تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا
–
یا بیگم مہناز کی گائی درد کی غزل کہ
–
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
–
گہرائی میں جائیں تو سب ایک ہیں