معتبر سندھی شاعر، عالم و محقق ڈاکٹر عطا محمّد حامی

پچھلے دنوں 3 جون 2025 ء کو سندھی زبان کے قادر الکلام شاعر، معتبر عالم، محقق، معلم، سیاستدان، سماجی کارکن، سچل سرمست کے شارحین میں سے ایک اہم شارح اور مترجم، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کے انتقال کو 43 برس مکمل ہوئے۔ ان کی یاد میں ”حامی یادگار کمیٹی“ کی جانب سے اس شام سچل اکیڈمی خیرپور کے آڈیٹوریم میں ان کی برسی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقامی ادباء و شعرا نے ان کے فن، فکر اور شخصیت پر اظہارِ خیال کیا۔ ’حامی‘ صاحب کا شمار ان شعراء اور اسکالرز میں ہوتا ہے، جنہیں ان کی وفات کے بعد وہ پہچان یا مقبولیت حاصل نہ ہو سکی، جو ان کے شایانِ شان تھی۔ ان کا متنوع تخلیقی اور تحقیقی کام انہیں سندھ کے ممتاز اسکالرز کی صف میں کھڑا کرتا ہے، لیکن جن تنظیموں پر ان کے قلمی کام کی نشر و اشاعت اور ترویج کی ذمہ داری ہے، وہ انہیں ہر سال یاد تو کرتی رہتی ہیں، مگر یہ سرگرمیاں زیادہ تر مقامی سطح تک محدود رہتی ہیں اور وہ تنظیمیں انہیں صوبائی یا قومی سطح پر متعارف کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ ہر ڈیڑھ سے دو دہائیوں میں ایک نئی نسل جوان ہوتی ہے، اور اگر ہم اپنے گزرے ہوئے والے مشاہیر کا شعور نئی نسل کو منتقل نہیں کریں گے، تو وہ ان کے ناموں تک سے ناواقف رہیں گے۔ ڈاکٹر حامی کی وفات کے بعد ان 43 برسوں میں جو دو سے ڈھائی نسلیں جوان ہوئیں، ان میں سے بہت سے افراد، حتیٰ کہ سندھی ادب کے طلباء بھی، شاید ’حامی‘ صاحب کے نام یا ان کے کام تک سے واقف نہ ہوں۔ اگرچہ ان 43 برسوں میں کم از کم 33 مرتبہ تو ’حامی‘ کی برسی کی شاندار تقریبات ان کے آبائی گاؤں ”سوہُو قناصرا“ میں میلے کی طرز پر بڑے پیمانے پر منائی جا چکی ہیں، جن میں نہ صرف پورا گاؤں اور آس پاس کے لوگ شریک ہوتے رہتے ہیں، بلکہ سندھ بھر کے ممتاز اسکالرز اور دانشور بھی شرکت کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی برسوں کے دوران تو یہ برسی کی شاندار تقریب سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی خاص دلچسپی کی وجہ سے مکمل طور پر سرکاری اخراجات پر منائی جاتی رہی ہے۔ تاہم، یہ سرگرمی صرف خیرپور کے گِردونواح تک محدود رہنے کی وجہ سے ’حامی‘ صاحب صرف ”خیرپور کے شاعر اور عالم“ کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ نہ تو سندھ کے دیگر شہروں (خاص طور پر بڑے شہروں ) میں ان کے نام سے اجتماعات، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کی گئی ہیں، نہ ہی ان کے قلمی کام کے بارے میں دیگر (کم از کم پاکستان کی دیگر اہم) زبانوں میں لکھ کر ان کے قارئین کو ان کے قیمتی علمی کارناموں سے آگاہ کیا گیا ہے، اور نہ ہی ان کے تخلیقی اور تحقیقی کام کے اردو یا انگریزی میں تراجم کا کوئی خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ’حامی‘ صاحب کو وہ مقبول پہچان نہیں مل سکی، جو ان کے علمی کام کے شایانِ شان ہو۔
پروفیسر عطا محمد سوہُو، یکم جنوری 1919 ء کو ضلع خیرپور کی تحصیل کوٹ ڈیجی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ”سوہُو قناصرا“ میں قائم الدین سوہُو کے گھر پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں خیرپور شہر سے ٹنڈو مستی خان کی جانب جاتے ہوئے مرکزی ریلوے لائن کے مشرق میں واقع ہے۔ ’حامی‘ صاحب اپنی زندگی میں اس بات کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ریکارڈ پر درج ان کی تاریخِ پیدائش، ان کے پہلے پرائمری استاد کی مہربانی کا نتیجہ ہے، جو کہ درست نہیں ہے اور ان کی اصل تاریخِ پیدائش نامعلوم ہے، البتہ ایک آدھ سال آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔
عطا صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کرنے کے بعد 1941 ء میں خیرپور کے ناز ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔ کچھ عرصہ محکمۂ ”پی ڈبلیو ڈی“ میں ملازمت کرنے کے بعد جلد ہی وہ ملازمت چھوڑ دی اور علم کے حصول کے جذبے کے تحت سندھ مسلم کالج کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے 1946 کے قریب انٹر پاس کیا۔ بعد میں وہ فیض گنج اور گمبٹ ہائی اسکولوں میں استاد رہے۔ پھر کچھ عرصہ ناز ہائی اسکول خیرپور کی لقمان برانچ میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ 1947 ء میں ان کا تبادلہ ٹریننگ کالج (فار مین) خیرپور میں ہوا، جہاں ملازمت کے دوران انہوں نے بی اے، بی ٹی اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے۔ 1953 ء کے قریب انہوں نے محکمۂ تعلیم کی ملازمت سے استعفیٰ دے کر کوٹ ڈیجی سے خیرپور ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ریاستی انتخابات میں حصہ لیا اور اکثریت سے کامیاب ہو کر قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کے طور پر علاقے کے مسائل کے لیے موثر آواز اٹھائی اور سماجی، تعلیمی و صحت کے شعبوں میں مثبت کردار ادا کیا۔ 21 اکتوبر 1955 ء کو ون یونٹ کے قیام کے ساتھ ہی خیرپور ریاست کا وجود بھی ختم ہو گیا، جس کے باعث ان کی اسمبلی رکنیت بھی خودبخود ختم ہو گئی۔ ون یونٹ کے بعد عطا محمد ’حامی‘ پہلے ہالا کالج اور پھر ممتاز کالج خیرپور میں سندھی کے لیکچرر مقرر ہوئے، اور کچھ عرصہ ٹنڈو جان محمد، شکارپور اور سکھر کے کالجوں میں بھی اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں ممتاز کالج خیرپور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوئے، جہاں سے 31 دسمبر 1979 ء کو ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے علم کا سفر جاری رکھتے ہوئے ملازمت کے آخری حصے میں ریٹائرمنٹ سے ایک سال قبل ( 1978 ء میں ) سندھ کے ایک اور نامور ماہرِ لسانیات اور اسکالر، ڈاکٹر غلام علی الانا کی نگرانی میں سندھ یونیورسٹی جامشورو سے ”خیرپور کے تالپوروں کا ادب، سیاست اور ثقافت میں حصہ“ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ 1994 ء میں انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی، جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے شائع کیا گیا، اور 2009 ء میں اسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن محکمۂ ثقافت و سیاحت نے شائع کیا۔
’حامی‘ صاحب کا سب سے اہم ادبی و تحقیقی کام سچل سرمست کی سوانح، فکر اور پیغام پر جدید طرز کی تحقیق ہے۔ اس کے علاوہ تعارفی، سوانحی اور تاریخی موضوعات پر ان کا کام بھی بے مثال ہے۔ مذکورہ پی ایچ ڈی کے علاوہ ’حامی‘ صاحب کے علمی کارناموں میں درج ذیل تصانیف شامل ہیں :
1۔ ’ثمرِ حیات‘ (مضامین: 1953 ء)
2۔ ’درازن جا درویش‘ (مقالہ: 1959 ء)
3۔ ’منصورِ ثانی۔ سچل سرمست‘ (تحقیق: 1964 ء)
4۔ ’سندھ کی کلاسیکی شاعری‘ (ترتیب: 1981 ء)
5۔ ’نینہں جا نعرا‘ (سچل سرمست کی فارسی مثنویات کا منظوم سندھی ترجمہ: 1983 ء)
6۔ ’وکھریل موتی‘ (بکھرے موتی) (مضامین و مقالات۔ مرتب: مقصود گل۔ 1983 ء)
7۔ ’حامیءَ جو کلام‘ (کلامِ حامی) (مرتب: محمد علی حداد۔ 1994 ء)
8۔ ’کلیاتِ ناز‘ (میر علی نواز ”ناز“ کا کلام)
9۔ ’کشف المحجُوب‘ (ترتیب)
اس کے علاوہ ’حامی‘ صاحب کے غیر مطبوعہ مجموعوں میں شامل ہیں :
1۔ ’تخلیقِ آدم‘ (ترجمہ۔ مصنف: کوثر نیازی)
2۔ ’پیرل فقیر کا کلام‘ (ترتیب)
3۔ ’سچل سرمست‘ (اردو)
4۔ ’لعل چند مجروح کا کلام‘ (ترتیب)
وغیرہ۔
’حامی‘ صاحب کی شاعری پہلی بار ان کے انتقال کے 4 سال بعد 1986 ء میں شائع ہوئی، جسے ان کے لائق شاگرد اور معروف ادیب محمد علی حداد نے مرتب کر کے ’حامی جؤ کلام‘ (حامی کا کلام) کے عنوان سے شائع کیا۔ اس مجموعے کی تدوین میں انہیں حضرتِ ’حامی‘ کے دیگر شاگردوں اور رفقا بشمول ڈاکٹر نواز علی ”شوق“ ، مقصود گل، عبدالرحیم ”عبد“ منگریو، احمد خان ”آصف“ مصرانی، مینہوں خان سوز بلوچ اور امید خیرپوری کا تعاون بھی حاصل رہا۔ اس مجموعے میں حامی صاحب کے ابتدائی اور جدید دور کے کلام کا چنیدہ انتخاب شامل ہے، جسے اصناف کے اعتبار سے 5 ابواب (نظم، غزل، کافی، قطعہ اور رباعی) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ غزل کے باب کو مزید چار حصوں (جدید دور کی غزلیں، قدیم دور کی غزلیں، اردو اور سرائیکی کلام) میں بانٹا گیا ہے۔ ’حامیءَ جو کلام‘ میں مجموعی طور پر 180 تخلیقات شامل ہیں، جن میں 26 نظمیں (حمد، نعتیں، سلام، قصائد، حرمین کے سفر کا منظوم بیان اور دیگر نظمیں ) ، 52 جدید دور کی غزلیں، 38 قدیم دور کی غزلیں، ایک اردو قطعہ، 4 اردو غزلیات، ایک سرائیکی کافی نما غزل، 4 کافیاں، 8 قطعات اور 46 رباعیات شامل ہیں۔ حضرتِ حامی کی شاعری کے قدیم دور سے مراد ’جمعیت الشعرا سندھ‘ کے اس روایتی شاعری کے دور سے ہے، جس میں فارسی زدہ شاعری کا چلن عام تھا اور اس زمانے میں ’حامی‘ نے اس دور کے تقاضوں کے مطابق فارسی آمیز سندھی شاعری کی، مگر جلد ہی انہوں نے ایک نئے انداز اور اسلوب کے ساتھ اپنے کلام میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ ان کی غزل، نظم اور رباعی خالص سندھی روپ میں ڈھل کر، مقامی اصطلاحات اور استعاروں سے مزین ہو کر اپنی جداگانہ خوشبو کے ساتھ سامنے آئی۔ اگرچہ ’حامیءَ جو کلام‘ میں قدیم دور کی 38 غزلیات شامل ہیں، مگر مقصود گل صاحب کہا کرتے تھے کہ ’حامی‘ صاحب نے اپنی روایتی شاعری کے بھرے ہوئے رجسٹر کے رجسٹر منسوخ کر دیے تھے اور ان کی ملکیت سے دستبردار ہو کر انہیں شائع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
’حامیءَ جو کلام‘ کے پیش لفظ میں تنویر عباسی، ’حامی‘ صاحب کی شاعری کو چار ادوار میں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ رقم طراز ہیں : ”حامی کی شاعری ’جمعیت الشعراء سندھ‘ کے فارسی زدہ ماحول میں نشو و نما پاتی ہے اور آگے چل کر اس میں نئے رجحانات جنم لیتے ہیں، جبکہ ’حامی‘ کے ہمعصر شعراء اب تک اسی پرانی طرز پر چلتے آ رہے ہیں۔ سندھی شاعری کی تاریخ، خصوصاً ’جمعیت الشعراء سندھ‘ کے دور کی شاعری میں ایسی مثالیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حامی صاحب کی ابتدا فارسی طرز کی نظم (مسدس، مخمس وغیرہ) اور غزل سے ہوئی۔ اس میں مسلم لیگ کے مسلم قومیت کے نظریے کا اثر موجود تھا۔ حامی کی شاعری کا دوسرا دور تقسیمِ ہند کے فوراً بعد کا ہے۔ اس دور میں ہر حساس دل رکھنے والے کی طرح حامی نے بھی محسوس کیا کہ آزادی کا پھل صرف ایک مخصوص زبردست طبقے کو نصیب ہوا اور سندھ کے عوام بدستور محروم رہ گئے۔ اس بات کا برملا اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں کیا۔ ان کی شاعری کا تیسرا دور 1962 کے آس پاس شروع ہوا۔ جب انہوں نے فارسی زدہ غزل کی بجائے سلیس سندھی میں غزلیں کہنا شروع کیں۔ ان کی یہ غزلیات نہ صرف سادہ اور آسان زبان میں کہی گئی ہیں اور ان میں سندھی زبان کے لہجے کی نرمی، خوشبو اور محاورے کی شوخی شامل ہے، بلکہ موضوع کے لحاظ سے بھی جدید دور کے مسائل کو ان میں سمویا گیا ہے۔ آخری دور میں حامی صاحب نے جو رباعیات لکھی ہیں، وہ ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی معراج ہیں۔ رباعی ایک فارسی صنفِ سخن ہے اور اس کے اوزان سندھی زبان کے تلفظ اور لہجے کے لیے اجنبی ہیں، لیکن حامی صاحب نے ان اوزان میں سلیس، ہلکی، رواں اور مترنم زبان لا کر کمال کیا ہے۔ مگر ان سب باتوں سے زیادہ اہم بات اور مرکزی نکتہ ان رباعیوں کا موضوع ہے۔ مذہبی تعصب، فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر فتنہ و فساد کو حامی نے اپنی رباعیوں کا موضوع بنایا ہے۔ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں پیش کیا۔“ ( ’حامی جؤ کلام‘ ۔ اشاعت اوّل۔ صفحہ: 1 اور 2 )
عطا محمد ’حامی‘ صاحب کی شاعری میں فصاحت، بلاغت، سلاست اور روانی چاروں کا ایسا امتزاج موجود ہے کہ وہ پڑھنے یا سننے والے کے دل میں اتر جاتی ہے۔ رومان اور محبت کے جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ، ان کے یہاں عالمی اُنسِ انسانی، امن، مساوات پر مبنی معاشرے اور انسان دوستی کا پیغام بھی نمایاں ہے، جبکہ مذہبی شدت پسندی اور انتہا پسندی پر سخت تنقید بھی ملتی ہے۔ ان کی رباعیات تو انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے لیے کھلا چیلنج اور زوردار تنبیہ ہیں۔ اردو میں بھی ”حامی“ کا اندازِ بیاں فصیح و بلیغ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ، سہل اور بے ساختہ ہے۔
میں ادیب و عالم و فاضل نہیں، کامل نہیں
ایک بھی ایسی سَنَد اب تک مجھے حاصل نہیں
ابنِ اردو بھی نہیں ”بابائے اردو“ بھی نہیں
ایک سندھی ہُوں مگر اردو سے بھی جاہل نہیں
اردو سے جاہل یا غافل نہ ہونے کی نظیر خود ان کی عمدہ غزل گوئی میں دیکھ لیجیے۔ فرماتے ہیں :
نُکتہ چین خوب بنے کارِ ہنر کر نہ سکے
کی زمانے پہ نظر، خود پہ نظر کر نہ سکے
آنکھ رکھتے ہُوئے افسوس رہے ہم نابیں
دیکھنے کی تھی جو چیز اس پہ نظر کر نہ سکے
حُسنِ فانی کی محبّت سے رِہا دل نہ ہوا
پاک اصنام سے اللہ کا گھر کر نہ سکے
آہ و نالے سے تو مجبور بنایا لب کو
ضبطِ گِریہ سے مگر دیدۂ تر کر نہ سکے
جذبۂ دل ہے سلامت تو ہے مشکل آساں
کون سا کام ہے وہ جس کو بشر کر نہ سکے
ایک اور غزل میں ان کا اندازِ بیاں ملاحظہ کیجیے :
محتاجِ ظرف، شرحِ محبت نہ ہو سکی
لفظوں میں بند دل کی حکایت نہ ہو سکی
گُھٹ گُھٹ کے مر رہے ہیں قفس میں حیات کے
ہم کو کبھی فغاں کی بھی فرصت نہ ہو سکی
پردے میں دوستی کے دغا دے رہے ہیں دوست
یہ جانتے ہوئے بھی شکایت نہ ہو سکی
دشمن ہوں یا ہوں دوست، رہے سب کے خیر خواہ
حامی کسی سے دل میں کدورت نہ ہو سکی
یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہوگی کہ ’حامی‘ صاحب نے ”حریف حرفت آبادی“ کے نام سے مزاحیہ کلام بھی کہا۔ اپنے دور کے قادر الکلام شاعر جمعہ خان ’غریب‘ اور ان کے فرزند رسول بخش ’دوست‘ (جو حامی صاحب کے ساتھ طالب علمی کے زمانے میں کالج میں ہم جماعت تھے ) کے ساتھ ’حامی‘ کی منظوم طنزیہ نوک جھونک بھی سندھی ادب کی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے۔

