دعاؤں سے غزہ میں جنگ بندی کی امیدیں
کل رات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بار پھر غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد بحال کرنے کی قرار داد مسترد کردی۔ یہ قرار داد پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے دس منتخب رکن ممالک کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ سیکورٹی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے قرار داد کی حمایت کی البتہ امریکی ویٹو کی وجہ سے یہ قرار داد منظور نہیں ہو سکی۔
پاکستان، الجزائر، ڈنمارک، یونان، پاناما، جنوبی کوریا، سیارا لیون اور سلووینیا کی طرف سے مشترکہ طور سے پیش کردہ قرار داد پر وسیع اتفاق رائے موجود تھا لیکن امریکہ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ امریکی نمائندے نے مخالفت میں ووٹ دیا، یوں یہ قرار داد ویٹو کردی گئی۔ قرارداد میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط، مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد میں پہلی قراردادوں کی طرح تمام یرغمالیوں کی باعزت اور غیر مشروط طور سے فوری رہائی کی شرط بھی رکھی گئی تھی لیکن یہ بھی امریکہ کے لیے کافی نہیں تھا۔ قرار داد میں غزہ میں شدید انسانی بحران اور خوراک و دیگر سہولتوں کی نایابی کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ کے شہریوں کے لیے فوری امداد بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
ووٹنگ سے پہلے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب ڈورتھی شیا نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ جنگ بندی کی کسی ایسی قرار داد کو منظور نہیں کرے گا جس میں حماس کی مذمت نہ کی جائے اور اسے غیر مسلح کرنے کی بات نہ ہو۔ کیوں کہ جب تک وہاں دہشت گرد موجود رہیں گے، امن کو خطرہ لاحق رہے گا۔ اس لیے ایسی کسی قرار داد کو منظور نہیں کیا جاسکتا جو حماس کے موقف کی حمایت کرتی ہو‘ ۔ تاہم ہٹ دھرمی کے علاوہ امریکی مندوب یہ واضح کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں کہ اس قرار داد میں عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی روکنے کے سوا اور کیا کہا گیا تھا؟ قرارداد کے کسی فقرے میں نہ تو حماس کی حمایت گئی تھی اور نہ ہی اسرائیل کی مذمت میں کوئی بیان شامل کیا گیا تھا۔ البتہ انسانی حقوق کی حفاظت اور بچوں کے قتل عام کو روکنے کا مطالبہ ضرور کیا گیا ہے۔
ووٹنگ سے پہلے اقوام متحدہ میں الجزائر کے مندوب عامر بند جامہ نے ایک جذباتی تقریر میں قرار داد منظور کرنے کی اپیل کی تاہم امریکی مخالفت کی وجہ سے وہ ووٹنگ کے نتیجہ سے آگاہ تھے۔ اس لیے انہوں نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا وقت آتا ہے جب خاموشی کسی بھی اظہار سے فصیح ہوتی ہے۔ آج بھی ویسا ہی ایک موقع ہے۔ لیکن خاموشی مرنے والوں کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ یہ مرنے والے کا ہاتھ نہیں تھام سکتی، یہ نا انصافی کے نظام کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس لیے ہمیں آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم اپنی آواز کوئی موقف بیان کرنے کے لیے اونچی نہیں کر رہے۔ بلکہ حافظے، اخلاقیات اور انسانی جذبے کے لیے ہمیں بولنا ہو گا۔ آج کی قرار داد ایک ایسا آئینہ ہے جس میں کثیر الجہتی کی اذیت دکھائی دیتی ہے اور واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کیوں کر جارحانہ طریقے سے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے منتخب ارکان نے اخلاقی جواز کے ساتھ ایک واضح بات کی ہے۔ سلامتی کونسل کو قرارداد منظور کرنی چاہیے تاکہ وہ فلسطینی بچوں کی ہلاکت پر خاموش تماشائی نہ بنی رہے‘ ۔ الجزائر کے مندوب نے واضح کیا کہ الجزائر، فلسطینیوں کے حق سے دست بردار نہیں ہو گا۔
یہ قرار داد ایک ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے جب غزہ میں صورت حال کے بارے میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کی سربراہ مرجانا سپلولجیرک کا کہنا ہے ’غزہ اس وقت کرہ ارض پر دوزخ سے بھی بدتر جگہ بن چکی ہے‘ ۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’انسانیت ہار رہی ہے۔ فلسطینیوں کو مصائب سے نکالنے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔ لیکن دنیا کے ممالک کچھ خاص نہیں کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں سے انسانی وقار چھینا جا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو ردی کی ٹوکری کی نذر کیا جا رہا ہے۔ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اس نے تمام قانونی، اخلاقی اور انسانی قدروں کو پامال کر دیا ہے‘ ۔
غزہ میں اسرائیل کی یک طرفہ جنگ جوئی میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد جاں بحق ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں خوراک اور دواؤں کی ترسیل پر پابندی کو تین ماہ بیت چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے تمام بین الاقوامی اداروں کو غزہ میں امدادی سرگرمیوں سے روک دیا ہے اور ’انسانی ہمدردی‘ کی بنیاد پر ایک متنازعہ تنظیم کے ذریعے غزہ کے بھوکے لوگوں میں خوراک کی تقسیم کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ تاہم مسلسل دو روز تک اس تنظیم کے مراکز سے خوراک لینے کے لیے جمع ہونے والے مقام پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ سے متعدد فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ ’جنگی زون‘ کا حصہ ہے، اس لیے وہاں فائرنگ جائز ہے۔ اس ظلم کے بعد اس تنظیم نے بھی خوراک فراہم کرنے کا سلسلہ روکا ہوا ہے۔
یورپین ممالک میں مسلسل غزہ میں جنگ بندی کے لیے احتجاج ہوتے ہیں اور یورپی حکومتیں کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کو حل کرانے یا اسرائیل پر پابندیاں لگانے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہیں لیکن امریکہ مسلسل خاموش ہے اور امن کے بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے نہ کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تجویز سامنے آ سکی ہے جو فریقین کے لیے یکساں طور سے قابل قبول ہو۔ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے گزشتہ دنوں 6 ہفتے کی عارضی جنگ بندی کی تجویز دی تھی۔ اس میں نہ تو غزہ سے اسرائیلی فوجوں کی واپسی کا ذکر ہے اور نہ ہی مستقل جنگ بندی کا کوئی منصوبہ شامل ہے۔ البتہ درجن بھر یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے چند سو فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی تجویز شامل ہے۔ لیکن حماس کو اندیشہ ہے کہ اسرائیل اپنے یرغمالی واپس لینے کے بعد دوبارہ غزہ پر قبضہ کے لیے جنگ جوئی شروع کردے گا۔ مارچ میں ہونے والی جنگ بندی کو اسرائیل نے یک طرف طور سے ختم کر کے، غزہ میں شدید حملے شروع کر دیے تھے۔ اب حماس یہ ضمانت چاہتی ہے کہ جنگ بندی مستقل ہو اور اسرائیلی فوجیں غزہ سے واپس جائیں۔ لیکن نیتن یاہو اس بات پر راضی نہیں اور صدر ٹرمپ اس معاملہ میں ان کے ہم خیال ہیں۔
اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی کے وسط میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ تمام عرب دارالحکومتوں میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور عرب لیڈروں نے امریکہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری پر سینکڑوں ارب ڈالر صرف کرنے کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ تاہم اس دوران ہونے والی بات چیت میں غزہ میں جنگ بندی کے معاملہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور نہ ہی عرب لیڈر امریکی صدر پر اس حوالے سے کوئی دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔ ہفتہ عشرہ قبل چند عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اسرائیل کے انکار پر یہ دورہ منسوخ ہو گیا۔ اس کے علاوہ کسی عرب ملک کی طرف سے غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف کوئی آواز سنائی نہیں دی۔
البتہ حج کے لیے اکٹھے ہونے والے زائرین سے خطاب کرتے ہوئے امام حرم شریف نے فلسطینیوں کی مشکلات کے خاتمہ کے لیے رقت آمیز دعا کی۔ تاہم انہوں نے بھی غزہ کا نام لینے سے گریز کیا۔ میدان عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ صالح بن حمید نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ’اے اللہ! فلسطین کے بھائیوں کی مدد فرما، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے والوں کو برباد کردے، ان کے قدم اکھاڑ دے‘ ۔ امام حرم نے رنجیدہ آواز میں دعا کی کہ ’اے اللہ! عرفات سے دعا کی جا رہی ہے۔ اہل فلسطین کے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے۔ اے اللہ! تو اپنے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے۔ عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کو برباد کردے۔ ان کے قدم اکھاڑ دے، ان میں تفریق ڈال دے۔ اے اللہ! وہ بچوں کے قاتل ہیں، ان میں تفریق ڈال دے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو ہدایت عطا فرما‘ ۔
دنیا بھر کے مسلمان غزہ میں ہونے والے ظلم و ستم پر رنجیدہ ہیں۔ دعا کے سوا وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتے۔ اب تو امام کعبہ بھی اسرائیل جیسے دشمن کو زیر کرنے کے لیے صرف دعاؤں کا سہارا لے رہے ہیں۔ تاہم حجاج کو سہولتیں فراہم کرنے اور حرمین شریفین کے احسن انتظام پر امام حرم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز کی صحت اور ولی عہد محمد بن سلیمان کے لیے آسانی کی دعا فرمائی۔ اس دوران دنیا کے مسلمان بھی اس دعا پر آمین کہہ کر انتظار کریں کہ اللہ کب ایک ایسی امت کی مدد کے لیے آتا ہے جس کے لیڈر خود اپنی مدد کرنے کے قابل نہیں ہیں۔


