بھارت کی پاکستان کے”دفاعی نظام” کو مفلوج بنانے کی تیاری


مایوسی پھیلانا میرا شیوہ نہیں۔ اخبارات نچوڑ کر کام کی بات نکالنا مگر میرا پیشہ ورانہ فرض ہے۔ ٹی وی  اور یوٹیوب پر چلائے پروگراموں سے بھی ’’اندر کی بات‘‘ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے بھارت کی اندرونی سیاست پر میں بطور صحافی 1984ء  سے نگاہ رکھنے کو مجبور ہوا۔ اب اس ملک گئے پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ شاید عمر کے باقی رہ گئے حصے میں آئندہ کبھی جا نہ سکوں۔ حال ہی میں لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روز جنگ ہوئی۔ یہ اس جنگ سے قطعاََ مختلف تھی جس کا سامنا میری نسل کے لوگوں کو 1965ء کے برس کرنا پڑا تھا۔

ان دنوں زمینی افواج کی پیش قدمی سے دشمن کے زیادہ سے زیادہ علاقے ہتھیا لینا جنگ کا اہم ترین ہدف شمار ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ فضائی حملے ہوتے۔ بھارتی طیاروں کی آمد سے قبل مگر سائرن بجا کر شہریوں کوخندقوں میں چھپ جانے کی درخواست کی جاتی۔ رات کو بجلی جلانا دشمن کے حملے کو دعوت دینے کے مترادف ہوتا تھا۔ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان میں کہیں بھی سائرن نہیں بجے۔ نہ ہی یہ تاثر ملا کہ بھارتی افواج نے ہمارے کسی شہر پر قبضے کی تیاری کر لی ہے۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات بھارتی میزائل پاکستان کے مریدکے، بہاولپور اور مظفر آباد جیسے شہروں میں آباد چند مساجد اور مدارس پر حملہ آور ہوئے۔ انہیں ’’دہشت گردوں کی تربیت گاہیں‘‘ پکارا گیا۔ انہیں ’’تباہ‘‘ کر لینے کے بعد 7 مئی کی دوپہر بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ اپنے ’’اہداف‘‘ کے حصول کے بعد بھارت کو اب مزید کسی حملے کی ضرورت نہیں رہی۔

پاکستان اس ’’فراخ دلی‘‘ کو قبول کر ہی نہیں سکتا تھا۔ 6 اور 7 مئی کی رات ہوئے بھارتی حملوں کے ذریعے دنیا کو درحقیقت پیغام دینے کی کوشش ہوئی تھی کہ پہلگام میں 22 اپریل 2025ء کے روز ہوئے حملے کے ذمہ دار پاکستان سے آئے تھے۔ پاکستان اپنے ہاں مبینہ طورپر قائم ’’دہشت گردوں کی نرسریوں‘‘ پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔ ہمارا بطور ریاست جو ’’فریضہ‘‘ تھا بھارت نے اسے اپنے میزائلوں کے ذریعے نبھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پیغام دیتے ہوئے بھارتی حکام یہ بھول گئے کہ پاکستان کی خودمختار سرحد کی بے دریغ خلاف ورزی کے ذریعے ہمیں ’’سبق‘‘ سکھانے کی کوشش ہوئی ہے۔ پاکستان اگر ان حملوں کا جواب نہ دیتا تو بھارت کو جنوبی ایشیاء کا تھانے دار تسلیم کر لیتا۔

جائز بنیادوں پر لہٰذا پاکستان کی جانب سے موثر جواب آیا  اور اس کی شدت نے امریکی انتظامیہ کو چوکنا  کر دیا۔ بقول امریکی صدر اسے اور اس کے قریبی معاونین کو شبہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت ’’ایٹمی جنگ‘‘ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لئے 9 مئی کو پوری رات جاگ کر پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام سے رابطے ہوئے اور ایٹمی جنگ ٹالنے کے لئے ’’جنگ بندی‘‘ کروا دی گئی۔ جنگ بندی کے بعد مگر سکوت کا عالم ہے۔ دفاعی اور سفارتی اعتبار سے اسے Stalemate پکارتے ہیں۔ متحارب ممالک کے مابین میری دانست میں یہ جنگ سے کہیں زیادہ پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کا سامنا کرنے کو مگر پاکستانی اور بھارتی حکام تیار نہیں ہو رہے۔

پاکستان خوش ہے کہ اس نے بین الاقوامی سرحد پار کئے بغیر بھارت کے فرانس سے بہت چاہ سے خریدے رافیل طیارے گرا دیے۔ ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہمارے پالیسی ساز سوچ رہے ہیں کہ 6 اور 10 مئی کے دوران ہوئی ہزیمت کی بدولت بھارت ہمارے ساتھ اب مزید پنگا لینے کی جرأت نہیں دکھائے گا۔ دنیا نے اس کے پہلگام واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پرڈالنے کے الزام کو تسلیم نہیں کیا۔  امریکی صدر جو مودی کا ذاتی دوست تصور ہوتا تھا پاک-بھارت جنگ کے دنوں میں بھارت کا کھل کر ساتھ دینے کے بجائے اسے جنگ بندی کو مجبور کرتا رہا۔ اس کے علاوہ بھارت کے جنگی جنون نے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو شدید دھچکہ لگایا ہے۔ بھارتی حکومت کو اب اپنے مالی اور نفسیاتی نقصانات کے مداوے پر توجہ دینا ہو گی۔ منگل کے روز پاکستان کے وزیر اعظم نے پاکستان کے چند صحافیوں کو چائے پر بلایا تھا۔ میں بھی اس گروہ میں شامل تھا جسے ان کی گفتگو سننے کا موقعہ ملا۔ وزیر اعظم پاکستان محتاط  انداز میں مذکورہ بالا خیالات پر انحصار کرتے ہوئے اپنی گفتگو کے دوران 10 جون کو پیش ہونے والے بجٹ کے اہداف اور خدوخال پر توجہ دیتے سنائی دیے۔

پہلے بھی عرض کر چکا ہوں بیرون ملک مقیم ایک مہربان دوست کی بدولت مجھے بھارتی میڈیا میں نمایاں انداز میں بیان ہوئی خبروں کی اپ ڈیٹ سارا دن میسر رہتی ہے۔ اس کے علاوہ میں کم از کم تین بھارتی صحافیوں برکھادت، شیکھرگپتا اور کرن تھاپر- کے یوٹیوب پر چلائے پروگرام ہر صورت دیکھتا ہوں۔ ان تینوں کے نظریات ایک جیسے نہیں۔ کرن بھارتی حکومت کا نقاد ہے۔ شیکھر گپتا  کو ’’محتاط‘‘ صحافت کی عادت ہے۔ برکھادت مگر ان دنوں تلوار سونت کر پاکستان کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے۔ ان تینوں کے مختلف انداز میں بیان کئے خیالات بغور سننے کے باوجود مجھے یہ گماں ہوتا ہے کہ وہ تینوں غیر شعوری طور پر بھارتی وزیر اعظم کے اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان کے خلاف برپا کئے ’’آپریشن سندور‘‘ میں ’’وقفہ‘‘  آیا ہے۔ یہ ’’ختم‘‘ نہیں ہوا۔ مختصراََ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے ساتھ ایک اور جنگ میں الجھنے میں پہل لے گا۔ میں اس جائزے سے اتفاق کرتا ہوں۔ میرے صحافی دوستوں میں سے جو مجھ سے کہیں زیادہ متحرک اور فیصلہ سازوں تک موثر رسائی کے حامل ہیں -مگر ایک بھی میرے خدشات سے اتفاق نہیں کرتا۔

احتراماََ یا پیار سے میری ’’جہالت‘‘ کا مذاق اڑانے کی بجائے میری توجہ کسی اور موضوع کی جانب مبذول کردی جاتی ہے۔ بدھ کی صبح مگر میں نے بھارتی اخبارات میں یہ خبر پڑھی کہ بھارتی وزارت دفاع نے EP کے تحت فوری طورپر تقریباََ 40 ہزار کروڑ بھارتی روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ رقم وہاں مالی سال کے دوران  دفاع کے لئے مختص کئے بجٹ کا 15 سے 20 فی صد ہے۔ EP مخفف ہے (Emergency Procurement) کا۔ جس کا مطلب ہے’’ہنگامی حالات‘‘ میں ہوئی فوری خریداری۔  اس کا جواز دیتے ہوئے بھارتی وزارت دفاع نے اپنی حکومت کو تحریری  طورپر آگاہ بھی کیا ہے کہ 8 مئی کی رات پاکستان نے بھارت کی وادی لیپہ سے سرکریک تک موجود دفاعی تنصیبات پر 300 سے 400 ڈرون بھیجے تھے۔ بغیر کہے گویا تسلیم  کر لیا گیا ہے کہ ان کی بدولت جو نقصان ہوا اس کے ازالے کی ضرورت ہے۔ 9 ہزار کروڑ بھارتی روپے اس پر خرچ ہوں گے۔ 31 ہزار کروڑ سے مگر فوری طور پر چند ایسے آلات خریدنے کا منصوبہ ہے جو پاکستان کے ’’دفاعی نظام‘‘ کو مفلوج بنا دے۔ سوال اٹھتا ہے کہ جنگ بندی کے بعد ہنگامی حالات میں جنگی سامان کی فوری خریداری کیوں درکار ہے؟

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS