آکاس بیل
باجی پہلے مجھے مہندی لگائیے! ایک بچی ہمک کر بولی، دوسری اٹھلائی، نہیں پہلے مجھے! میری خالہ زاد غزل کی شادی کی تقریبات زور شور سے جاری تھیں، رات بھی کافی حد تک بھیگ چکی تھی، شادی شدہ خواتین، لڑکیوں اور بچیوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔ وہ تھی کہ اپنے کام میں مصروف ہر اک کی خواہش پر مسکرا دیتی اور سامنے بیٹھی لڑکی کے نرم گداز ہاتھوں کے دونوں اطراف، گوری چٹی کلائیوں، حد یہ کہ مخملیں پاؤں پر بھی مہندی کے خوشنما ڈیزائن ابھرتے چلے جاتے۔ ایسا کیوں نہ ہوتا؟ اس نے اپنے شہر کے مایہ ناز انسٹی ٹیوٹ سے مہندی سمیت زندگی میں رنگ بھر دینے والے نت نئے مضامین کے کورس کر رکھے تھے۔ بابا جی آنکھیں موندے اپنی روانی میں بولتے چلے گئے۔
بابا جی کے ساتھ رشتہ داری، عزیز داری یا پھر نزدیکی قرابت داری کا معاملہ نہیں تھا۔ تعلق محض دس ایک روز کی ملاقاتوں کا تھا۔ وہ بھی مقامی سرکاری اسپتال کی وارڈ، کینٹین یا پھر درختوں کی گھنی چھاؤں میں سستانے کے لئے بیٹھے دو افراد کے درمیان گفتگو کا کہلا سکتا ہے۔ البتہ ہماری باتیں ہمیں ایک دوسرے کے اتنا قریب لے آئیں کہ یوں محسوس ہوتا کیمسٹری ملتی ہے، درد کا سودا بھی ہر دو طرف ایک جیسا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں پرسہ دینے ان کے گھر چلا گیا۔ فاتحہ کے لئے ہاتھ کیا اٹھے، بابا جی نے اللہ کے حضور اپنی بیگم جان کی زندگی کی کتاب کا ہر ورق دعائیہ کلمات میں ڈھال دیا اور میں بڑے میکانکی انداز میں سامع بنا، ہر چھوٹے بڑے واقعے کی گواہی دیتا، آمین کہتا رہا۔
بولے، وہ دوڑتے بھاگتے ایسے شہر سے تھی جو شہر کی کسی بھی عالمی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ وہاں کے لوگ، بچے، بوڑھے، جوان، کیا لڑکے؟ کیا لڑکیاں؟ شادی شدہ اور بزرگ خواتین، سبھی قطرہ قطرہ ملتی زندگی کا حظ اٹھانے کے لئے انتھک محنت کرتے ہیں۔ کوئی قسمت کو دوش دیتا ہے نہ نصیب کا رونا روتا ہے۔ سب صبح، شام محنت کر کے اپنے حصے کی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں کے لوگ زندگی گزارتے نہیں، زندگی جیتے ہیں۔ اسی لئے تو روشنیوں سے جگمگاتے شہر کی دلہن نسبتاً پسماندہ شہر آئی اور چھا گئی۔
بیگم جان کا بچپن، لڑکپن، جوانی سب زندگی کی رعنائیوں، جوش، جذبے، مستی اور سرشاری سے بھرپور تھا۔ اس کے نقرئی قہقہے، جاندار مسکراہٹیں ہر محفل کی جان بن جاتیں۔ کسی بھی تقریب میں ہوتی، صاحب خانہ کے کہے بغیر آنچل ہوا میں لہرائے کام کاج میں مصروف ہوجاتی۔ رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنا، اپنی ہمت کے بقدر ان کی مالی معاونت کرنا، ان کی خدمت کرنا، ان کی ملاقات کے لیے جاتے رہنا، اس کا خاصہ تھا۔ خلاصہ یہ کہ صلہ رحمی اس کی شخصیت کا حسن تھی۔ وہ ہر دم رشتوں کا احترام برقرار رکھنے کے لئے سب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھتی اور ان کی ہمدردی و خیرخواہی کے جذبات سے سرشار رہتی۔ قطع تعلقی کا لفظ اس کی کتاب میں تھا ہی نہیں۔
دعائے خیر نے طول پکڑا، میں نے کن اکھیوں سے بابا جی کی طرف دیکھا تو وہ ہاتھ پھیلائے، آنکھیں موندے بدستور اپنے رب کے ساتھ مکالمے میں مصروف تھے۔ وہ دیتے رہنے کی صفت سے مالا مال تھی۔ لینے کی طرف کبھی رغبت ہی نہیں ہوئی۔ دل ہمیشہ غنی رہا۔ مہمانوں کی آؤ بھگت میں ہمیشہ چار ہاتھ آگے رہی۔ دسترخوان وسیع تر رکھا۔ ہر قسم کے پکوان کی تیاری میں یکتا تھی۔ اپنے دماغ، اپنے دل اور اپنے ہاتھ کی صلاحیتوں پر تکیہ کیے رہتی۔ اسی لئے اس کی ہر خدمت قبول بھی کی جاتی۔ اپنی تعریف پر اتراتی نہیں تھی، خوش ضرور ہوتی۔ 100 بھر افراد کی مہمانداری تو گھر ہی میں بڑے احسن انداز میں بھگتا لیتی۔ خوشی کی تقریب میں خوش رنگ دھاگوں کی کڑھائی سے مزین میز پوشوں کے ساتھ میزیں سج جاتیں، ماتم ہوا تو قطار اندر قطار چاندنیاں بچھ جاتیں۔
یا الہ العالمین یا مجیب السائلین! تجھ سے بڑی گواہی کیا ہو گی کہ جو سب کے لئے دل ما روشن، دل ما شاد رہی، اس نے اپنی کوکھ کے جنے بچوں کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ہو گا؟ میں نے بابا جی کی رندھی ہوئی آواز سنی، اپنی بند آنکھیں کھولیں تو دیکھا آنسوؤں سے تر چہرہ تاحال اپنے رب العالمین کے ساتھ ہی محو گفتگو تھا۔ اپنے خوں ناب جگر سے اپنی اولاد کی پرورش کرنے والی ماں کس حال سے کس حال تک پہنچ گئی؟ تو تو جانتا ہے۔ موت کو دستک دیتی درد زہ سے ہنسی خوشی گزرنے والی کو ایک ایک کر کے اولاد کے بچھڑنے کا دکھ لے بیٹھا۔ بیٹے جوان کیے تو انہوں نے اپنی اپنی الگ دنیا بسا لی، بیٹیوں کو وداع کیا تو وہ اپنی اپنی گرہستی میں گم ہو گئیں۔ دنیا ہے، ایسا ہی ہوتا ہے لیکن وہ نادان تھی، اس رسم کو قبول نہ کر سکی۔ پگلی، کل سے جزو کی سیڑھی نہ اتر سکی۔
بچوں سے یاد اللہ تو بہر صورت برقرار رہی کہ ناخن جسم سے جدا نہیں ہوتے لیکن وہ پہلے سی گرمجوشی رہی نہ دلجوئی۔ وہ گھر میں سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی عجیب سے اکلاپے کا شکار ہو گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ بچے خود والدین بنیں تو انہیں اپنے بڑوں کی قربانیاں یاد آتی ہیں لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ جب چار دیواری سے باہر بھی محفلیں درہم ہوئیں تو پہلے سی بزم آرائیاں نہ رہیں۔ کہتے ہیں دیمک جسم کو تو اکلاپا روح کو کھا جاتا ہے۔ آکاس بیل میری بیگم جان کی ہریالی کھا گئی۔ تو نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا۔ تیری مرضی، میں تیری رضا میں راضی۔ اپنے رب کے حضور دعا کے لئے اٹھے بابا جی کے ہاتھ ان کی جھولی میں آ گرے اور وہ کرسی کی پشت پر نیم دراز ہو گئے۔
بابا جی نے کچھ توقف کیا، میری طرف مڑے اور کہنے لگے۔ تمھیں بتاؤں آکاس بیل جس درخت پر چڑھ جائے اسے برباد کرتی ہے لیکن خود دن دوگنی، رات چوگنی پھیلتی ہے۔ درخت کا رس چوستی یہ بیل غیر محسوس طریقے سے پورے درخت کو چادر کی طرح ڈھانپ لیتی ہے۔ درخت سوکھتا چلا جاتا ہے، یہ بدستور ہری بھری نظر آتی ہے۔ بیری، شہتوت، انگور، انار جیسے پھلدار اور کیکر جیسے خاردار، سب اس کی دسترس میں ہوتے ہیں۔ اور تو اور گلاب جیسے نازک صفت پودے بھی اس کا شکار ہونے سے نہیں بچ سکتے۔ رہے نام اللہ کا۔ بابا جی نے گہری سانس لی اور کرسی سے اٹھ گئے۔ مجھے اپنی واپسی کا اشارہ مل گیا۔ میں نے اپنی موٹر سائیکل کو کک ماری اور ریس بڑھا دی۔ نہر کنارے بائیک دوڑاتے بابا جی کے ساتھ گزارے دس دن میرے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے۔ مجھے اسپتال کے سب دن یاد آ گئے۔
سوری! ڈاکٹر کا اتنا کہنا تھا کہ بابا جی کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ یوں محسوس ہوا جیسے کوئی لاوا پھٹ پڑا ہو۔ بابا جی کے چہرے کا رنگ یک دم سرخ ہوا، آہ، ہچکی میں، ہچکی، چیخ میں بدل گئی اور پھر اسپتال کا کوریڈور رات بھر چیخوں کی بازگشت سے ہی گونجتا رہا۔ لگ بھگ دس روز سے ہم ساتھ ساتھ رہے، ہر ملاقات پر مسکراہٹ سے بھرپور چہرہ ہی مجھ سے مخاطب رہا۔ ابھی چند منٹ پہلے بھی ہم خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ بس نرس آئی تھی اور بابا جی کو بلا کر لے گئی۔ میں سوچ میں پڑ گیا، کیا ہنستے مسکراتے چہرے کے پیچھے اتنا کرب چھپا بیٹھا تھا؟
مریضوں کے ساتھ آئے لوگ گھبرائے اور اپنے اپنے مریضوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر باہر نکل آئے۔ بابا جی کو دلاسا دینے والوں کا جمگھٹا لگا تو میں چپکے سے باہر ٹھنڈی ہوا میں نکل آیا۔ میں نے لمبا سانس لیا اور سگریٹ سلگا لیا۔ میرا ذہن ہر گزری ملاقات کی گرمجوشی میں الجھ گیا تھا۔
ابا جی کو دل کی تکلیف پر اسپتال لائے تو ڈاکٹروں نے جھٹ پٹ داخل کر لیا۔ رات تک طبیعت میں بہتری آ گئی۔ گھر والے واپس لوٹ گئے تھے۔ میں بی اے کے امتحانات دے کر رزلٹ کے انتظار میں تھا سو اسپتال ڈیوٹی دینے کی ذمہ داری میرے حصے میں آئی۔ ابا جی سے اجازت لے کر کنٹین چلا آیا تھا۔ رات کھانے کا وقت تھا، ہر میز بھری پڑی تھی۔ میں ادھر ادھر دیکھتا دیوار کے ساتھ لگی میز کے گرد رکھی کرسیوں میں سے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
ہمارے ساتھ میز پر میاں بیوی اپنے دو بچوں کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ خاتون کے چہرے پر تشویش نمایاں تھی۔ مرد تسلی کے انداز میں اسے سمجھا رہا تھا۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں، جو کچھ کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں، آگے اللہ کی مرضی۔ تم اپنی ماں کے بارے پریشان مت ہو، خالہ جی جلد بھلی چنگی ہو جائیں گی۔ تسلی کے دو بول سن کر خاتون کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ ماں چیز ہی ایسی ہے، اس کا خیال بھی دل میں گداز پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔
میز پر میرے بغلی طرف ایک بابا جی بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ میں نے چائے کی اپنی پیالی ختم کی، کپ دھیرے سے میز پر واپس رکھا اور جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال لیا۔ سگریٹ سلگانے کے لئے جیب میں دوبارہ ہاتھ ڈالا، لائٹر نکالنا چاہا تو ندارد۔ ابا جی کو اسپتال لانے کی جلدی میں گھر سے نکلتے ہوئے لائٹر اٹھانا بھول گیا تھا۔ سگریٹ ہونٹوں میں دبا ہوا تھا، نگاہیں دائیں بائیں کسی سگریٹ نوش کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ ایک جلتا ہوا چراغ میرے چہرے کے قریب آ گیا۔
میں نے منہ پھیر کر دیکھا تو بغلی کرسی پر بیٹھے بابا جی کے دو ہاتھوں کی ادھ کھلی مٹھی میں ایک دیا سلائی جل رہی ہے۔ میں نے خفگی مٹاتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور ایک مسکراہٹ آگے بڑھا دی۔ جواب میں جاندار قہقہہ گونجا۔ جواب آیا، کوئی بات نہیں بیٹا اس عمر میں ماچس کا دھیان کسی کو نہیں رہتا۔ یوں ہم دونوں میں بات چیت شروع ہو گئی۔ بابا جی جینز اور ٹی شرٹ میں تھے، کھلی ڈھلی طبیعت کے مالک نظر آئے، 60 کے پیٹے میں تو ضرور ہوں گے۔ گفتگو میں روانی کے ساتھ خاص قسم کی شیرینی بھی محسوس ہوئی۔ بزرگانہ پند و نصائح تو بالکل بھی نہیں تھا۔
کینٹین میں آئے لوگ آہستہ آہستہ نکل گئے۔ ہم دونوں ہی وقت گزاری کے لئے بیٹھے رہ گئے۔ بات ایک موضوع سے ہٹتی تو دوسری جانب بڑھ جاتی۔ میں نے اسپتال میں ہونے کی وجہ پوچھی تو بولے، بیگم جان کے ساتھ آیا ہوں۔ دیکھنے میں بھلی چنگی ہے، خود بھی کہہ رہی ہے، ٹھیک ہوں، گھر چلتے ہیں؟ شاید ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہ آنے والا کوئی عارضہ لاحق ہو گیا ہے اسے۔ دو روز گزرنے کو ہیں، بس ٹیسٹ پر ٹیسٹ کروائے چلے جاتے ہیں۔ کچھ بتاتے نہیں۔ مجھے تو پہلے جیسی ہی لگتی ہے البتہ پہلے کی نسبت کچھ کمزور دکھتی ہے اب۔ مسکراتی آنکھوں کی چمک بھی کبھی کبھی ماند پڑ جاتی ہے۔ بابا جی پرعزم لہجے میں بولے، اللہ کریم کی شان نرالی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا، ان شا اللہ۔
وارڈ مردانہ اور زنانہ، باقاعدہ دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک رات اچانک زنانہ وارڈ میں نرس کی دبی مگر خفا خفا سی آواز ابھرتی سنائی دی۔ سب نے پہلے پہل تو نظر انداز کیا۔ آواز میں غصہ آیا تو مریضوں کے ساتھ آئے افراد ایک ایک کر کے زنانہ وارڈ کی طرف جانے لگے۔ جھانک کر دیکھا تو عجیب مگر دلچسپ منظر سامنے تھا۔ سب پریشان کہ حد ہو گئی یعنی بابا جی اپنی بیگم جان کے بستر کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ دلیل یہ تھی کہ بیگم جان کو کسی چیز کی طلب ہوئی تو کون آگے بڑھے گا؟
اپنے بچوں کی مرضی کے خلاف دن رات اسپتال رہنے کی ضد بھی تو اسی لئے کی تھی۔ نرس ملتجی کہ زنانہ وارڈ ہے، کسی مرد کو رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بابا جی بضد کہ اپنی بیگم جان کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ الغرض لوگوں کے سمجھانے پر بابا جی زنانہ وارڈ کے دروازے کے بالکل سامنے کرسی بچھا کر بیٹھنے پر رضا مند ہو گئے کہ اس طرح بیگم جان ان کی نظر میں رہیں گی۔ یہ تو خیر گزری کہ بابا جی کی دیوانگی وارڈ کی حد تک ہی رہی اور کوئی اٹینڈنٹ معترض نہ ہوا۔
میں نہر کنارے موٹرسائیکل بھگاتا، بابا جی کی کہانی میں کھویا، گھر سے دور، بہت دور نکل گیا تھا۔ سپیدہ سحر ہوا تو اچانک یادوں کا سلسلہ ٹوٹا اور واپس مڑ گیا۔ گھر کے گیٹ پر پہنچا تو ایک بار پھر بابا جی کا غمزدہ چہرہ آنکھوں میں گھوم گیا۔ اپنے گھر کے دروازے پر مجھ سے کہا ان کا ایک فقرہ جیسے ذہن میں بیٹھ سا گیا تھا۔ بابا جی مجھے رخصت کرنے باہر گیٹ تک آئے تھے۔ الوداع کہتے ہوئے بولے تھے، برخوردار! شادی ہو تو اپنی بیوی کو آکاس بیل سے بچانے کی کوشش ضرور کرنا۔


