لائف انشورنس
کراچی کی سڑکیں دھیرے دھیرے شام کے رنگ میں ڈھل رہی تھیں۔ شہر کے ہر گوشے میں انسان اپنی اپنی کہانیوں کے پیچ و خم میں گم تھے۔ ہر چہرہ اپنی ایک داستان سناتا، ایک ایسی کہانی جو خوف اور امید کے دو دھاری تلوار کی مانند دل پر لٹکی تھی۔ عمران اپنی دکان کی شیشے سے باہر جھانک رہا تھا۔ ٹریفک کی ہلچل اور راہگیروں کے بے ترتیب سائے دھند میں ملتے جا رہے تھے، جیسے ہر کوئی اپنی تنہائی کی چادر میں لپٹا ہوا ہو۔ شیشے پر اس کا عکس دھندلا سا تھا، اور باہر گزرتے لوگ، اپنی گم گشتہ صورتوں کے ساتھ، اس عکس میں مٹتے جا رہے تھے۔ وقت کی ندی، بے مقصد بہتی جا رہی تھی، اور شہر کی یہ ہچکیاں، اس بہاؤ کی گونج تھیں۔
اسی لمحے فرحان کی آواز نے اس خاموشی کو چیر دیا۔ اس کی آواز میں ایک بے قراری تھی، جو انسان کو اپنے وجود کی سرحد پر کھڑا کر دیتی ہے۔ ”عمران بھائی، کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ ہم سب ایک نہ ختم ہونے والی پل صراط پر چل رہے ہیں؟ ایک طرف امید کی نرم روشنی اور دوسری طرف خوف کی گہری تاریکی۔“
عمران نے چائے کے کپ سے اٹھتے ہوئے بخارات کو دیکھا اور دھیرے سے کہا، ”فرحان، میں تو بس ڈرتا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہ کل اگر کچھ ہو گیا تو؟“
فرحان نے مسکرا کر کہا، ”یہی انسان کی فطرت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا دل دو پرندوں کے درمیان معلق رہتا ہے۔ رجاء اور خوف۔“
رات کے آخری پہر، جب شہر کی ہلچل مدھم پڑ چکی تھی، عائشہ تکیے پر لیٹی عمران کو گھور رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سوال تھا، شکوہ تھا، اور سب سے بڑھ کر ایک خاموش التجا۔ وہ جانتی تھی کہ وہی سوال عمران کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ کیا ہم ہمیشہ خوف کی پرچھائیوں میں جئیں یا امید کی نرم کرن کو تھامیں؟
جب دکان راکھ کا ڈھیر بن چکی تھی، عمران بے حس اس جلتے ہوئے ملبے کو دیکھ رہا تھا۔ سامان کی مدھم چمک اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جیسے وہ روشنی اس کے خوف کا آخری سرا ہو یا امید کی پہلی کرن۔
فرحان اس کے پاس آ کر بولا، ”یہ راکھ نہیں، عمران، یہ زمین ہے جہاں نئی فصل اگے گی۔ جو شخص رجاء و خوف کے بیچ زندگی گزارتا ہے، وہی اصل مومن ہوتا ہے۔“
نئی دکان کی بنیاد پڑی۔ پہلا شیشہ لگا تو عمران نے اپنے عکس کو دیکھا۔ وہ عکس اب دھندلا نہیں تھا، نہ ایک خوفزدہ تماشائی، نہ صرف ایک خواب دیکھنے والا۔ وہ وہ انسان تھا جو جان چکا تھا کہ زندگی ان دو متضاد جذبوں کی باریک لکیر پر چلنے کا نام ہے۔
زندگی کی کتاب کے ہر صفحے پر دو حاشیے ہوتے ہیں۔ ایک پر خوف کے الفاظ کندہ ہوتے ہیں، دوسرے پر امید کے۔ حکمت وہی ہے جو ان دونوں کے درمیان کی خالی جگہ میں اپنی داستان رقم کرے۔
ایک شام، جب دکان میں ہلچل کم تھی، عمران اور فرحان چائے کے کپ تھامے بیٹھے تھے۔ عمران نے کہا، ”ہم اپنی گاڑی کے لیے گارڈ رکھتے ہیں، دکان کے لیے انشورنس کرتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ سب کسی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن جو ان سب کو چلاتا ہے۔ وہ خود کیا کسی حادثے سے محفوظ ہے؟“
فرحان خاموش رہا، اور عمران نے اپنی بات جاری رکھی، ”میری موت یا بیماری میرے بچوں کے لیے اتنی ہی بڑی آفت ہے جتنی کسی حادثے میں گاڑی کا ٹوٹ جانا۔ ہم انسان کی محنت کی قدر نہیں کرتے۔ اگر میں نہ رہا تو کیا یہ دکان میرے بچوں کی روٹی کا سامان کر پائے گی؟ کیا صرف یادیں ہی کافی ہوں گی؟“
فرحان نے گہری سانس لی اور کہا، ”یہی تو غفلت ہے عمران۔ زندگی کا وہی انتظام کرو جو دکان کا کرو۔ انشورنس، صحت کا تحفظ، ایمرجنسی فنڈ۔ تاکہ تمہاری غیر موجودگی میں تمہارا سایہ باقی رہے۔“
قریب ہی بیٹھی عائشہ، جو قرآن کی تلاوت میں محو تھی، آہستہ بولی، ”ہم سب کچھ تقدیر کے سپرد کر دیتے ہیں، مگر اللہ نے عقل بھی دی ہے، تدبیر بھی۔ رجاء و خوف کے بیچ صرف تسبیح نہیں، تدبیر بھی ہے۔“
اسی رات عمران نے فیصلہ کیا۔ زندگی کو صرف دعا کے حوالے نہ کرے بلکہ عمل کا سامان بھی کرے۔ اس نے ایک فائل بنائی، آمدنی، بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، اور وہ سوال جو اس کے دل میں جلتا تھا: ”اگر میں نہ رہا تو؟“
اس نے لائف انشورنس لی، صحت کے لیے انتظام کیا، اور ایمرجنسی فنڈ بنایا۔ وہ جان چکا تھا کہ ایمان زبان کا اقرار نہیں، بلکہ عمل کی وضاحت بھی ہے۔
اب عمران کی کہانی وہی ہے جو ہر انسان کی کہانی ہے جو صبح سے شام تک اپنی دنیا کے لیے جیتا ہے، امید اور خوف کے درمیان زندگی گزارتا ہے، اور ہر رات رب سے دعا کرتا ہے :
”یا اللہ! مجھے وہ ہمت دے کہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھوں اور ان پر قائم رہوں۔“
یہ دعا، یہ فہم، وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بھی امید کی روشنی جلائے رکھتا ہے۔


