خطے میں عدم استحکام اور بھارتی ریاست کے مفادات


گزشتہ ماہ ہر طرف جنگ کی بازگشت سنائی دی۔ پاک بھارت جنگ کا تذکرہ زبان زد عام تھا۔ اس صورتحال میں دونوں ممالک میں جنگ کی حوصلہ شکنی کرنے والے لوگ موجود تھے لیکن ہندوستان میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو جنگ اور اس کی تباہ کاریوں کو حوصلہ افزاء قرار دے رہے تھے۔ بلا شبہ یہ طبقہ ہندوستان کی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرز فکر کے ساتھ منسلک ہے اور یہ اپنے ہاں پائی جانے والی معقول آرا کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ ترقی پسند فکر کو اپنے معاشرے اور ملک کے لئے مہلک گردانتے ہیں۔ ہندوستان میں آبادی کا ایک معقول حصہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر ہندوستان کو ترقی کرنی ہے اور خطے کی بڑی طاقت بن کر ابھرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہمسائے ممالک بھی معاشی لحاظ سے مستحکم ہوں اور خطے میں امن ہو۔ اگر وفاقی ریاست کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وفاق کو قائم کرنے کا مقصد بھی خطے میں امن قائم کرنا ہوتا ہے تاکہ خطے میں تجارت آئے اور اس جغرافیہ میں مقیم مختلف رسوم و روایات رکھنے والی آبادیاں مشترکہ طور پر ترقی کر سکیں۔ کیونکہ اگر ایک ہی خطے میں مقیم مختلف آبادیوں کے مابین تناؤ اور کشیدگی ہوگی تو نہ صرف ان سب معاشروں کا نظام جمود کا شکار رہے گا بلکہ ایک دوسرے کی زمین میں پھیلائے جانے والے فساد کے اثرات خطے میں موجود ہونے کی بدولت ان سب پر بھی مرتب ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک خطے میں مقیم مختلف تواریخ، ثقافت اور مسائل رکھنے والی اقوام ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ترقی ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ اور پھر خطے میں امن ان معاشروں میں سے کوئی ایک تن تنہا قائم نہیں کر سکتا، اس کے لئے بھی مشترکہ طور پر ایک مربوط دفاعی نظام مرتب کرنا ہوتا ہے جو مشترکہ طور پر قائم شدہ ہو۔ اسی وجہ سے وفاق کا ادارہ قائم کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دو علیحدہ وفاق ہیں دونوں کی ذمہ داری اپنے ہاں ترقی کو فروغ دینے کے لئے خطے میں امن قائم کرنے کی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو وہ مشترکہ طور پر ہی کی جا سکتی ہے تنہا ممکن نہیں۔ دونوں زمینی اعتبار سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک کا نقصان دوسرے کا بھی نقصان ہے۔ اگر دونوں ممالک میں سے کوئی ایک بھی غیر مستحکم ہو گا تو پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا اور اس کے اثرات خطے میں مقیم تمام معاشروں پر مرتب ہوں گے۔

اس کی بہترین مثال ہمیں حال ہی میں دیکھنے کو ملی جب بھارت میں ایپل کی مشہور کمپنی نے بھارت میں کام کرنا بند کر دیا۔ اس کے پس پردہ ٹرمپ کی اپنی پالیسی بھی ہے کیونکہ وہ تمام تر مینوفیکچرنگ اپنے ہاں کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کا موقع بھارت نے خطے میں انتشار پھیلا کر دیا۔ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اگر ہندوستان کو ترقی کرنی ہے اور اپنے ہاں تجارت کو تقویت بخشنی ہے تو اس کے لئے ان کو پاکستان سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ کیونکہ اگر پاکستان یا ہندوستان سے منسلک کوئی اور ملک غیر مستحکم ہوتا ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک غیر مستحکم خطے میں ہندوستان بیرونی مبصرین کی نظر میں خود کو الگ شمار کر سکے۔ ہندوستان میں تجارت کرتے ہوئے ہر کسی کو خطرات لاحق ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان دہائیوں سے خطے میں انتشار پھیلانے کا سبب ہے۔

دوسری جانب ہندوستانی ریاست عالمی منظرنامے پر یہ تاثر دیتی ہے کہ وہ امن پسند ہے۔ جن اصولوں پر میں نے شروعات میں روشنی ڈالی، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کا فائدہ خطے میں امن کے ساتھ منسلک ہے اور دہائیوں سے پاکستان پر مسلط رکھنے والی جنگ کا نقصان پاکستان سے زیادہ ہندوستان کو ہو رہا ہے۔ یہاں ہندوستان سے میری مراد ہندوستان کے عوام ہے اور یہی اصل سمجھنے والا نقطہ ہے جو ہندوستانی ریاست کی جانب سے خطے پر مسلط کرنے والی جنگ کے راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔ جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ ہندوستانی ریاست اپنے عوام کے فائدے کے برعکس خطے میں دہشتگردی کیوں پھیلا رہی ہے؟ اور جب بھی دونوں ممالک کی جانب سے امن قائم کرنے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں تو ہندوستان میں انتشا ر کیوں دیکھنے میں آتا ہے؟ تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہندوستان کے پاس تجارت کے کون سے ذرائع موجود ہیں؟

ہندوستان کے پاس تجارت کا واحد ذریعہ سمندری راستہ ہے۔ ہندوستان کے تمام نامور اور بڑے تاجر سمندری راستے کے ذریعے تجارت کرتے ہیں اور وہ زمینی راستے پر منحصر نہیں۔ اگر ہمارے خطے میں امن قائم ہوتا ہے اور باقاعدہ تجارت شروع ہوتی ہے تو ہندوستان میں مقیم مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی آبادیاں اپنے ہاں کی سوغات کو عالمی منڈی میں فروخت کر پائیں گے۔ لیکن ہندوستان کا اشرافیہ یہ نہیں چاہتا کیونکہ اس کی نظر ہندوستان کے متنوع اور زرخیز علاقوں کے وسائل پر ہے جس کی روداد ہندوستان کی مشہور سماجی کارکن ارون دھتی رائے اپنی کتاب سرگوشیاں Listening to Grasshoppers میں سناتی ہیں۔ ہندوستانی تاجروں کی کوشش وہاں کے دریاؤں کو ہتھیانے کی ہے۔ ان کی کوشش شمالی ہندوستان میں فیکٹریاں لگانے کی ہے۔ اسی طرح زرخیز زمین کے ہر حصے کو ہتھیا کر اس کے وسائل حاصل کرنے کی ہے۔ اس طرح یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ کیوں ہندوستان خطے میں امن نہیں چاہتا کیونکہ اس کے ہاں کے اشرافیہ کے مفاد میں خطے کا امن شمار نہیں ہوتا۔ بہرحال، پاکستان کا فائدہ خطے میں امن ہی سے منسلک ہے اور اس کی ایک جھلک ہمیں پاکستان چائنہ اکنامک کاریڈور کی صورت میں بھی نظر آتی ہے۔

اس اصول کے تحت ہمیں کئی سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں ہوا اور کیا بھارت مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے؟ اور پھر یہ کہ کیا ہندوستان واقعی پاکستان کا کشمیر بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیونکہ اگر بالفرض پاکستان ہندوستان کو کشمیر دے بھی دے تو اس سے معاملات حل کی جانب جائیں گے جس سے ہندوستان کے اشرافیہ کا مفاد متاثر ہو گا۔ مسئلہ کشمیر اور خطے میں دہشتگردی کا پھیلاؤ وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہندوستانی اشرافیہ عام ہندوستانیوں کے وسائل اور حق چھیننے میں کامیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم حیرانی کے ساتھ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہندوستان اپنے ہی ملک میں دہشتگردی کیوں کروائے گا تو اس کا جواب شاید اب ہمارے پاس موجود ہے۔ خطے میں انتشار کا فائدہ بھارتی اشرافیہ کو ہے لیکن پاکستان کا مفاد صرف خطے کے امن کے ساتھ ہی منسلک ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سابقہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی کئی مرتبہ یہ ذکر کیا کہ ملک ترقی نہیں کرتے بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں۔ ان کی اس سوچ کی بنیاد مزید مضبوط تب ہوئی جب انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ سو سالہ امن کا معاہدہ کیا جائے۔ لہٰذا یہ واضح ہے کہ خطے میں امن سے ہی ترقی ممکن ہے، پاکستان اور پاکستانیوں کا مفاد بھی خطے میں امن کے ساتھ مشروط ہے اور ہندوستانی عوام کا بھی لیکن ہندوستانی اشرافیہ کا مفاد مشترکہ تجارت میں نہیں کیونکہ اس طرح ان کو عوام کے وسائل پر قابض ہونے کا موقع دستیاب نہیں ہو گا۔ ہمارا خطہ ایک ایسے ناسور سے برسرپیکار ہے جس کا مقابلہ ہمیں مل کر کرنا ہے۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں اور امن چاہتے ہیں تو ہندوستانی اشرافیہ کے مظالم کے خلاف ایک مدلل بیانیہ تشکیل دینا ہو گا جن کی وجہ سے دونوں ممالک کی عوام مفلسی کا شکار ہیں۔

 

Facebook Comments HS