جبر کی گہرائیوں میں : نفرت، خود سوزی اور پاکستان کا سماجی المیہ
”تجزیہ ذات اور ذات کی آگہی پیدا کرنے کی غرض سے دو سل قبل میں نے نو سال کے ایک عزیز بچے سے پوچھا“ آپ کس چیز سے محبت کرتے ہیں ”؟“ اپنے والدین سے۔ ”گڈ“
”اور آپ کس چیز سے نفرت کرتے ہیں؟“
”ہندو سے اور کافر سے“
”ہندو کون ہوتا ہے؟“
”پتہ نہی“ ”اور کافر کون ہوتا ہے؟“
”پتہ نہی“
عید کی چھٹیوں میں اس مکالمے کے دوسرے حصے نے مجھے سن کر کے رکھ دیا ہے۔ پھر اسی طرح کی پھلجھڑی ایک پاکستان کے ایک مشہور پروفیشنل ٹریننگ کالج کے پی ایچ ڈی پرنسپل سے پچھلے ہفتے سنی تو حیرت زدہ رہ گیا۔ ہم بطور معاشرہ، تعلیمی نظام، والدین، عالم بچوں کے معصوم ذہنوں کو کیسے زہر آلود کر رہے ہیں۔ اور پھر کیسے توقع کرتے ہیں کہ پوری دنیا کی طرح ترقی کریں گے اور برابری کریں گے۔
کہیں ایسا تو نہی کہ ہم تیزی کے ساتھ باقی دنیا میں رہنے اور باقی دنیا کے ساتھ رہنے کے لیے ان فٹ ہوتے جا رہے ہیں؟
اس وجہ سے میں یکم فروری 2023 کے اپنے ایک انگریزی بلاگ کے ترجمہ کی کاوش پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
———————————————————-
ہم موجودہ حالت میں کیوں ہیں؟ یہ ایک جزوی تجزیہ ہے۔ اور میں اس میں کچھ منقطع اور بظاہر بے ترتیب نقطوں کو جوڑنے کی کوشش کروں گا۔
بحیثیت معاشرہ، پاکستانی شہری ایک مشترکہ انسانیت، اعتماد، محبت، احترام، احساسِ تعلق، معاملہ کرنے کے احساس، انصاف اور عوامی فلاح و بہبود سے جڑے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ایک پڑوسی سے خوف اور ایک مخصوص برادری کے لیے نفرت کے تعلق میں بندھے ہیں۔ سیاسی ضرورتیں وقتاً فوقتاً اس ”نفرت کے تعلق“ کو گرم، انتہائی گرم یا کچھ سرد، بہت سرد کرتی رہتی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس مخصوص کمیونٹی کا ایک حصہ ہم میں سے ہے یا تو قومی ریاست کی سرحدوں کے اندر یا ہمارے جینز اور خون میں موجود ہیں مثلاً کھوکھر، میمن، او لکھ، سہگل، منوں، چیمے باجوہ، غرض ہر قومیت مسلم، سکھ، ہندو مذہب میں مل جائے گی۔ مستزاد یہ کہ ہمارے آبا و اجداد زیادہ تر ”ہندو، جین مت اور بدھ مت“ سے زبردستی تبدیل ہوئے تھے۔ اگر کہیں براہ راست جبر نہی تھا تو حالات کا جبر بہرحال تھا۔ جب کوئی بھی عمل جبری طور پر کیا جاتا ہے اس کا درد نسلوں تک ہوتا ہے۔ درد نہ صرف غم کے براہ راست راستے سے بلکہ انکار، نفرت اور خود سے نفرت وغیرہ کے بالواسطہ راستے سے اپنا اظہار کرتا ہے۔
”نفرت“ جسے ”صمد بانڈ“ (گلو کا ایک برانڈ) کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، بہت ہی کمزور ”گلوئنگ فورس“ یا جوڑنے والی طاقت ہے کیونکہ یہ بالآخر تفرقہ انگیز ہے اور بالکل جلتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں لینے کی طرح بہت تباہ کن ہے۔ کوئلہ سب سے پہلے اس جگہ کو جلاتا اور کالا کرتا ہے جہاں موجود ہوتا ہے۔ لہذا یہ نفرت کبھی کسی فرد کو خوشحال نہیں ہونے دے سکتی، معاشرے کی کیا بات کی جائے۔
مزید جب ہم اس کمیونٹی سے نفرت کرتے ہیں، تو ہم دراصل خود سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ یوں سمجھیں جب کوئی اپنے والدین سے نفرت کرتا ہے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ اس کا 100 فیصد جینیاتی ذخیرہ اس کے والدین کا ہوتا ہے۔ اور اگر وہ والدین میں سے ایک سے نفرت کرتا ہے، تو وہ اپنے آدھے ’خود‘ سے نفرت کر رہا ہے۔ اس کمیونٹی سے نفرت کرنا ہمیں خود کو قبول نہیں کر نے دے رہا ہے۔ جب تک ہم خود کو قبول نہیں کریں گے، کوئی بامعنی ترقی ممکن نہیں۔
اس آگ میں مزید تیل بین الاقوامی طاقتوں کی طرف سے ٹھونسا گیا یہ منصوبہ فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کو بہر صورت ”مڈل ایسٹ“ یا عالم عرب کا جغرافیائی، تاریخی، معاشرتی، ثقافتی اور نفسیاتی حصہ بننا اور سمجھنا ہے نہ کہ برصغیر کا۔ یہ حقیقت سے اتنا بڑا فرار ہے جتنا دوپہر بارہ بجے کو رات قرار دیا جائے جو سراسر ”احساس کمتری“ اور ”فریب ذات“ پر منتج ہوتا ہے۔ یہ اسی احساس کمتری کا نتیجہ ہے کہ اچھی خاصی انڈس ویلی تہذیب کی گود میں پلنے والی ذاتیں اور گوتیں اپنے آپ کو علوی اور عربی پیش کرتی ہیں اور خوب جعلی شجرہ نسب بھی بنا رکھے ہیں۔ 317 قبل مسیح راجہ پورس کھوکھر تھا لیکن جب چند کھوکھروں کو اپنے آپ کو علوی پیش کرتے دیکھتا ہوں تو میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ اسی طرح اعوان جو ایک مقامی قوم ”آوان“ ہے وہ اپنے آپ کو قطب شاہی عربی النسل کہتے ہیں۔ اتنا احساس کمتری اور اپنے آپ سے نفرت! اف اللہ۔ اور اگر کبھی عربی نیند سے ہڑبڑا کے اٹھتے ہیں تو غزنی اور غور یا دیگر افغانی اور ترکی اور کہیں کہیں ایرانی شرابوں سے دل پشوری کا بندوبست موجود ہوتا ہے۔
سعد ابن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے“ ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو) ، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا“ ۔
صحیح۔ متفق علیہ
خیر بات Tangent پر نکل گئی۔ اس نفرت، خود سے نفرت اور اپنی ذات پر عدم اعتماد شناخت کے بحران کے ساتھ ایک عمومی عدم اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہ طے ہے کہ عدم اعتماد عوامی فلاح و بہبود کے تصور ریاست کو عملی طور پر ناپید یا عدم موجود کر دیتا ہے، وغیرہ۔ اس کی وجہ سے ایک عام آدمی کو بنیادی خدمات کا معقول طریقے سے حق دار نہیں سمجھا جاتا ہے مثلاً وہ بجلی، گیس یا یوٹیلٹی کنکشن، ڈومیسائل، ڈرائیونگ لائسنس، این ٹی این (کچھ سال پہلے آٹومیشن نے اب اسے تبدیل کر دیا ہے ) شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پانی وغیرہ ایک باعزت طریقے سے حاصل نہیں کر سکتا یا نہیں دیا جاتا۔ اگر یہ خدمات ملتی بھی ہیں تو کسی ہتھیلی کو زیادہ تر چکنا کرنے کے بعد، کئی لوگ اس سمجھتے ہیں کہ ایسا رشوت کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ بھئی تو پھر ایماندار سائل کو زیادہ ذلیل اور تنگ کیوں کرتے ہیں۔ یا ہر درخواست کے ساتھ کاغذات کا پلندا کیوں مانگا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ تنگ کرنے یا عدم اعتماد کی وجہ سے۔ اس لیے سائل اور سائل کا مسئلہ حل کرنے والے کے درمیان میں اس قومی ریاست سے تعلق رکھنے کا کوئی احساس یا بندھ نہیں ہے۔ اور تعلق کے احساس کی یہ کمی ایک گھن چکر میں شہری خدمات کی فراہمی کے مسئلے کو اور بھیانک بنا دیتی ہے۔ مثلاً شہری ڈیموں، ندی نالوں، عوامی مقامات کی صفائی، شجرکاری، ٹریفک قوانین اور حکومتی جائیدادوں کا خیال نہیں رکھتا۔ وغیرہ۔ یہ منفی یا شیطانی فیڈ بیک لوپ بن جاتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی برصغیر کی Legacy یا انڈس ویلی سویلائزیشن پر فخر کیے بغیر شہری کو کیسے اعتماد ذات فراہم کیا جائے؟
شہریوں کو یہ اہمیت دینے کا احساس کافی حد تک حقیقی معنوں میں مضبوط مقامی حکومتیں فراہم کرتی ہیں یا کر سکتی ہیں۔ اور یہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں زبردست ٹرن اوور سے ثابت ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں حکومت کے اس درجے کو سرے سے مار دیتی ہیں یا گریز کرتی ہیں یا نا اہل کر دیتی ہیں۔ ہماری قومی ریاست میں پرانے سالوں میں فوجی حکمرانی کی قبولیت جزوی طور پر اس وجہ سے ہے کہ فوجی حکمران ’مضبوط مقامی حکومتیں‘ اور نتیجتاً اس طرح شمولیت کا ’مضبوط احساس‘ فراہم کرتے تھے۔ جب تک ہم (جمہوریت پسند) ایسا نہیں کرتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ میری بات بظاہر Judgemental فیصلہ کن لگ سکتی ہے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
حسن تدبیر سے جاگ اُٹھتا ہے قوموں کا نصیب
کبھی تقدیر بدلتی نہیں ارمانوں سے
اس طرح یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ شہریوں کی اکثریت سماجی طور پر مسترد، خارج، اور مختلف ڈگریوں میں منقطع محسوس کرتی ہے۔ یہ وبائی بیماری ہے، اور اللہ نہ کرے جب امتحان میں ڈالا جائے تو قومی ریاست کی سلامتی کو انتہائی نازک بنا دیتا ہے۔ 1971 کا سانحہ یا پھر موجودہ جھڑپ یہ سیکھنے کے لیے کافی ہے کہ ”یہ لوگ اور قومیں ہیں جو جنگیں لڑتے ہیں نہ کہ صرف فوجیں“ ۔
اگر یہ بات سچ ہے جو کہ یقیناً سچ ہے تو جناب! لوگوں کو تیزی سے ”اس عارضی قومی اتفاق رائے پر مضبوط معیشت، شہری سہولیات، ٹیکنیکل تعلیم اور ایک موثر پاکستانی قوم بنانا ہو گا ورنہ مایوسی اور تلخی دوبارہ لوٹ آئے گی۔ اگر اسے ”شامل کرنے“ کے مواقع دے کر بامعنی انداز میں اعتماد کی ہوا نہیں چلائی جاتی ہے، تو۔ میں یہیں رکنے کو ترجیح دیتا ہوں۔
قرارداد مقاصد کے موقع پر ہمارے لیجنڈری لائق فائق پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل کے الفاظ کو مستعار لیتے ہوئے، ”مستقبل کے رحم میں کیا ہو گا؟ کون جانتا ہے“ ۔ آخری بات ہے ”نفرت اور رد عمل کے ساتھ جڑے ہوئے یا جوڑے گئے عوام، وہ نفرت اور ردعمل کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟“ ۔

