وٹامنز اور منرلز کی صحیح مقدار: روزانہ کے ضروری سپلیمنٹ
اکثر ملٹی وٹامنز کی ایک گولی میں بیس سے زیادہ منرلز اور وٹامن ہوتے ہیں جن میں کچھ کی مقدار ایک جسم کی روزانہ کی ضرورت سے کافی زیادہ ہوتی ہے اور جن کا طویل عرصے تک استعمال ہمیں فائدے کی بجائے نقصان دے سکتا ہے۔
جبکہ انہی ملٹی وٹامن میں کچھ انتہائی ضروری نیوٹرینٹ بہت ہی کم مقدار میں موجود ہوتے ہیں اور وہ بھی اکثر ناقص حالت میں۔ اس کی ایک مثال میگنیشیم ہے۔ تقریباً تمام ملٹی وٹامن گولیوں میں میگنیشیم کی مقدار بیس سے لے کر پچاس ملی گرام تک ہوتی ہے اور وہ بھی میگنیشیم آکسائیڈ، جس کا صرف تیس فیصد ہی جذب ہوتا ہے۔ وٹامن کے ٹو تقریباً تمام کمپنیوں کی ملٹی وٹامن گولیوں میں موجود ہی نہیں ہوتا۔ کیلشیم کو سپلیمنٹ سے حاصل کرنا اکثر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ہمارے جسم کی میگنیشیم کی روزانہ ضرورت چار سو سے لے کر چار سو پچاس ملی گرام تک ہے۔ پاکستان میں اگر آپ لوگوں کی اوسط خوراک دیکھیں تو اس میں سے میگنیشیم کی مذکورہ مقدار کا ایک چوتھائی حصہ بھی مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اسے سپلیمنٹ سے پورا کیا جائے۔ میگنیشیم گلائسنیٹ کی ایلی مینٹل حالت میں کم سے کم دو سو ملی گرام اگر روزانہ لیے جائیں اور ساتھ میں خوراک کو بھی حتی الوسع بہتر کیا جائے تو یہ جسم کی ضرورت کے لحاظ سے کافی ہو سکتا ہے۔
وٹامن ڈی کی ہمارے جسم کی روزانہ ضرورت چھ سو انٹرنیشنل یونٹ ہے جس کا خوراک سے حصول تقریباً ناممکن ہے۔ اس کا سستا اور آسان ذریعہ سورج کی روشنی ہے مگر دوسری طرف اکثر لوگوں کا آفس کا کام ہوتا ہے جہاں سورج کی روشنی میں ان کو بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے (سورج کی روشنی چہرے پر براہِ راست پڑنے سے چہرے پر جھریاں بن جاتی ہیں، جس سے جلدی بڑھاپا آ جاتا ہے، اس کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے ) اس لیے وٹامن ڈی کا دوسرا اور آسان حل یہی ہے کہ اسے سپلیمنٹ سے پورا کیا جائے۔ کچھ سپلیمنٹ میں پچاس ہزار سے لے کر دو لاکھ تک انٹرنیشنل یونٹ ہوتے ہیں، وہ مہینے میں ایک دفعہ لینا کافی ہوتا ہے تاہم اس کی بجائے روزانہ کے چھ سو سے ایک ہزار یونٹ تک لینا زیادہ بہتر آپشن ہے۔
اومیگا تھری فیٹی ایسڈ ہماری خوراک میں تقریباً شامل ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ جن ذرائع سے حاصل ہوتا ہے وہ مہنگے ہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے سپلیمنٹ سے پورا کیا جائے۔ اومیگا تھری کے سپلیمنٹ لیتے وقت تسلی کر لیں کہ اس میں ڈی ایچ اے اور ای پی اے (دو سو پچاس ملی گرام تک کم از کم) لازمی طور پر شامل ہوں۔
اگر آپ کی خوراک آئرن سے بھرپور نہیں ہے تو پھر اس کے سپلیمنٹ کی آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کچھ ملٹی وٹامن گولیوں میں آئرن موجود ہوتا ہے جبکہ کچھ میں اگر موجود نہ ہو تو اسے الگ سے لیا جاسکتا ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ اسے خوراکوں سے حاصل کیا جائے جو کہ بہت حد تک ممکن ہے۔
زنک، وٹامن اے، وٹامن بی کی تمام قسمیں، وٹامن سی اور وٹامن ای۔ یہ تمام تقریباً ایک ہی ملٹی وٹامن کی گولی میں موجود اور کافی ہوتے ہیں۔
وٹامن۔ کے کی بہتر صورت کے۔ ٹو ایم۔ کے۔ سیون ہے جو کہ کئی اچھی وٹامن ڈی تھری کی گولیوں کے ساتھ آتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان سپلیمنٹ کے استعمال میں وقفہ ضرور دینا چاہیے تاکہ جسم ان کا عادی نہ ہو۔ نیز آج کل جو کرکیومن اور بلیک پیپر (کالی مرچ) کا ٹرینڈ چل رہا ہے تو اس کے استعمال میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے جگر کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ذیل میں ایک سادہ سا چارٹ دیا جا رہا ہے جو اوپر بیان کی گئی باتوں کا خلاصہ ہے۔
1۔ ایک گولی ملٹی وٹامن کی روزانہ کسی اچھی کمپنی کی
2۔ میگنیشیم گلائسنیٹ کی ایک گولی دو سو ملی گرام ایلی مینٹل
3۔ وٹامن ڈی تھری (ہزار ملی گرام) اور وٹامن کے ٹو ایم کے سیون دونوں کی مشترکہ ایک گولی
4۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ (ڈی ایچ اے ) اور (ای پی اے ) تین سو ملی گرام

