آخری دستخط
مُجھے ڈائریکٹر میانی صاحب قبرستان کا چارج سنبھالے بائیسواں دن تھا۔ دفتر میں قدم رکھا تو عہدے کی مناسبت سے ایک غمگین کلرک نے سلام کیا۔ سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا:
”یہاں بورڈ لگا ہے کہ درخواستیں دو دن میں نمٹائی جاتی ہیں، کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟“
کلرک نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، ”سر، یہاں تو کبھی کوئی درخواست آئی ہی نہیں۔“
میں نے کہا، ”اس عبارت کو مٹا کر لکھوا دو کہ سائلین سے ملاقات کے اوقات صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک ہوں گے۔“
اگلے دن دفتر میں داخل ہوا تو کمرہ لاشوں سے بھرا پڑا تھا۔ مختلف لباسوں اور شکلوں والی لاشیں کرسیوں پر براجمان، ہاتھوں میں درخواستیں لیے اپنی باری کی منتظر تھیں۔ کوئی بوڑھی، کوئی جوان، کوئی شہری، کوئی دیہاتی۔ لیکن سب کا لباس تقریباً سفید تھا۔
ایک بزرگ لاش نے تقریری انداز میں کہا، ”جناب، پچھلے کئی سو سال سے ہماری درخواستیں دبی پڑی ہیں!“
میں نے کلرک سے آہستگی سے پوچھا، ”بھائی، تم تو کہتے تھے یہاں کوئی درخواست آتی ہی نہیں!“
کلرک نے بیزاری سے جواب دیا، ”سر، میں تیس سال پہلے پیدا ہوا، اور یہاں صرف اٹھائیس دن سے بیٹھا ہوں۔“
میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی، گہرا سانس لیا اور کہا، ”چلو، اب درخواستیں نمٹانا شروع کرو۔“
اسی بزرگ لاش نے شکایت کی، ”یہ جو ساتھ والی قبر کا مکین ہے، رات کو شور مچاتا ہے کہ اسے اپنے کریڈٹ کارڈ کا کوڈ یاد آ گیا ہے، جو نسیان کی بیماری کی وجہ سے مرنے سے دو سال پہلے بھول گیا تھا۔ میں نے لاکھ سمجھایا، بھائی اب فائدہ کیا، لیکن وہ کوڈ بڑبڑاتا رہتا ہے۔ یا تو اس کی قبر بدل دو یا مجھے شفٹ کر دو۔“
ایک باوردی انگریز لاش نے پُرجوش لہجے میں کہا، ”مجھے آزادی کی جنگ میں کیوں مارا گیا؟ کیا تم لوگوں نے صرف انصاف بیچنے، اخلاقیات روندنے اور بددیانتی کرنے کے لیے آزادی لی تھی؟“
میں نے چپڑاسی کو اشارہ کیا، ”اس کا سر قلم کر دو۔“
”اس نے ہمارے اندرونی معاملات پر بات کی ہے۔“
چپڑاسی نے لاش کا سر قلم کر دیا۔ یہاں لاشوں کو مارنے پر کوئی سزا نہیں تھی، تو میں نے بے دھڑک اسے قتل کرا دیا۔ باقی لاشیں یکایک خوفزدہ ہو گئیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مرے ہوؤں کو مرنے کا خوف کیوں تھا!
ایک بزرگ سیاستدان کی لاش جو زندگی میں وزیر رہا تھا، ہنس پڑی اور بولا، ”جناب، اندرونی معاملہ کوئی نہیں ہوتا۔ وہ کہانیاں تو ہم نے خود بنائی تھیں۔“
ملکی راز افشا کرنے پر میں نے اس کا بھی سر قلم کرا دیا۔
اچانک دروازہ کھلا۔ ایک لاش ہاتھ میں درخواست لیے داخل ہوئی۔ رنگ گورا، چال میں قیامت، اور نگاہوں میں زندگی کی رمق۔ کلرک فوراً سب سمجھ گیا۔ باقی درخواست دہندگان کو بے بنیاد اعتراضات لگا کر ٹالنے لگا اور چپڑاسی کو خفیہ اشارے سے دو چائے لانے کا کہہ دیا۔
ایک بزرگ سائل کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ”درخواست کے ساتھ ڈیتھ سرٹیفیکیٹ لگا کے لے آؤ۔“
آدھے گھنٹے میں کمرے میں صرف وہ اور میں رہ گئے۔
میں نے کلرک کو چائے لانے کا اشارہ کیا۔
”سر، میں کومل ہوں۔“
”فرمائیے، کیا حالات ہیں آپ کے شہر کے؟“
”صاحب جی، مجھے نہیں لگتا وہاں کے لوگوں کو ترقی کی ضرورت ہے۔ وہ تو دن بھر آہیں بھرتے اور ندامت سے اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں۔ میرے برابر میں آپ کے سینئر، گلزار صاحب کی قبر ہے، جن کے پاس سرکاری افسران کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ سنا ہے انھیں پھانسی ہوئی تھی۔ وہ قبر میں میٹنگز کرتے ہیں اور ان میں کئی وہ افسر ہیں جنہوں نے میری زندگی میں میرا کام نہیں کیا۔ اب میری درخواست اُن کے خلاف ہے۔“
”زبانی بتاؤ۔“
”کہانی لمبی ہے۔“
میں نے کرسی سیدھی کی، ”میرے پاس وقت ہے۔“
کومل بولی، ”میں ایک سیاستدان کی بیٹی تھی۔ ہمارا خاندان پاکستان میں رہتا تھا۔ والد یہاں سیاست کرتے تھے، مگر وہ سیاست جو صرف جھوٹ کا پلندا تھی۔ غریبوں کے لیے منصوبے بنتے، مگر صرف باتوں میں۔ خانہ جنگی ہوئی، خاندان اسپین بھاگ گیا، میں یہیں رہ گئی۔“
”پندرہ سال مقدمہ چلا، کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پیسہ ختم ہوا تو افسروں کی دوستی سے کلرکوں کی دوستی پر آ گئی۔ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، مگر قبضے، تقسیم، اپیلوں کے درمیان دفاتر میں الجھ گئی۔ ایک رات دل کا دورہ پڑا اور میں شہرِ خاموشاں آ گئی۔ اب اُن سب کو بلائیں جنہوں نے میرا حق دبایا، میری بیٹی زہرہ کو ان مسائل سے بچانا چاہتی ہوں۔“
کومل نے ہتھیلیاں پھیلائیں : ”یہ دیکھیں، میرے ہاتھ خالی ہیں۔ اور جنہوں نے میرے ہاتھ خالی کیے، وہ اب لاشیں بن چکے ہیں۔ اُنہیں یہاں بلائیں۔“
میں نے سر ہلایا، ”کل حاضر ہو جائیں گے۔“
اگلے دن لاشوں کی قطار میں کومل کے مجرم سر جھکائے بیٹھے تھے۔ ہاتھوں میں فیصلے اور فائلوں کی کاپیاں تھیں۔ سب دستخط کرنے کو تیار تھے۔
میں نے کلرک سے کہا، ”میرے سینئر ہیں، احترام سے سائن کرائیں۔“
کچھ دیر بعد کلرک میرے کان میں بولا، ”سر، سب سائن کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن بے چاروں کی انگلیاں ہی نہیں ہیں۔“
میں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں گنیں، قلم اٹھایا، اور تیزی سے درخواستوں پر دستخط کرنے لگا

