پریوں جیسی ثنا یوسف: جو نہ جھکی، نہ ٹوٹی
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے
دیس جانا ہے
بچپن میں پریوں کی کہانیاں سنی تھیں۔ نازک، ہنستی مسکراتی، روشن چہرے والی، جہاں جاتیں خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیرتی۔ ثنا یوسف کو دیکھ کر بھی کسی پری کا گمان ہوتا ہے۔
اگرچہ اس معصوم سے واقفیت اس کی موت کے بعد ہوئی لیکن جتنا اسے دیکھا اس کی خوبصورتی، اس کا بچپنا سب نگاہوں میں گھوم رہا ہے۔ اس کی عمر محض 17 برس وہ بھی چند روز پہلے ہوئی تھی اور ثنا یوسف ایک بچی تھی۔ جس طرح اس کے انداز میں خود اعتمادی موجود تھی اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے ثنا ماں باپ کی بھرپور توجہ اور شفقت میں پلی بڑی تھی کیونکہ اس کی شخصیت میں کوئی جھول نہیں محسوس ہوتا۔ بس وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہی ہے جہاں تتلیوں کے پر نوچ لینے والے درندے رہتے ہیں سو اس کے پر بھی نوچ لیے گئے۔
ثنا کے قتل کو دو روز گزر چکے ہیں۔ قاتل پکڑا بھی جا چکا۔ بہت سے لوگ جو اس بات کے منتظر تھے کہ ملزم، ثنا کا کوئی دوست نکلے گا ان کے منہ پر یہ جوتا بھی پڑ گیا کہ ثنا کی ملزم سے کوئی دوستی نہیں تھی بلکہ وہ مہینوں اس کے پیچھے خوار ہوتا رہا۔ ثنا کو متاثر کرنے کے لئے گلدستہ اور کیک بھی لے کر گیا۔ یہاں تک کہ خود کو امیر زادہ ثابت کرنے کے لئے فارچیونر کار بھی رینٹ پر لے گیا۔ اب ذرا سوچیں جو لڑکا اتنی جدوجہد کر رہا تھا اس نے لڑکی کا دل جیتنے کے لئے کیا کیا نہ ہانکی ہوگی؟ لیکن یہ ثنا کے کردار کی مضبوطی ہی تھی جو اس نے مسلسل انکار کیا یہاں تک کہ موت کو گلے لگا لیا لیکن اپنی بات پر ڈٹی رہی۔ آج اس کی موت کے بعد ثنا کے گاؤں والوں کو اس پر فخر ہے اور وہ واقعی اس فخر کی حقدار ہے۔
جب سے اس کی موت ہوئی ہے جانے جلن اور حسد سے بھرے کتنے ہی تبصرے نظر سے گزر چکے۔ کسی نے ٹک ٹاک پر اپنی ساڑ (جلن) نکالی تو کسی نے اس پر بے حیائی اور فحاشی کا الزام لگایا۔ سوشل میڈیا ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جہاں کھلے عام لڑکیوں کے قتل کی باتیں کی جاتی ہیں، ان کی موت پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مقصد صرف ایک ہے اور وہ ہے عورت کو دبانا، اس سے اظہار کا حق چھین کر اسے گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا۔
ثنا یوسف کے قتل کے بعد لوگوں نے اپنی سوچ کے مطابق اس کی ذات میں کیڑے نکالے۔ کسی کی جان چلی گئی لیکن توجیہات پیش کر کے اس کے قتل کو جسٹیفائی کیا گیا، وکٹم بلیمنگ کی گئی۔ قاتل جو خود بھی ٹک ٹاکر تھا اس وقت پورے ملک کے غیرت مندوں کا سپہ سالار ہے۔ خیر! اس بلاگ کا مقصد ہر گز ثنا پر اٹھنے والے کسی سطحی اعتراض کا جواب دینا نہیں بلکہ ثنا اور اس جیسی تمام لڑکیوں کو سراہنا ہے جو اپنی مرضی سے جینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ جو اپنی ذات پر اعتماد رکھتی ہیں اور کسی کی تنگ ذہنی اور جنونیت کو خود پر سوار نہیں ہونے دیتیں۔
ثنا یوسف نے تھوڑی سی زندگی جی، مگر وہ زندگی اس کی اپنی تھی۔ کسی کے خوف، کسی کے دباؤ، یا کسی وقتی جھانسے کے تابع نہیں۔ اس نے نہ صرف خودداری سے جینا چُنا بلکہ ثابت کیا کہ ایک لڑکی کا سب سے بڑا زیور اس کا وقار اور اس کی مرضی ہوتی ہے، اور وہ اس وقار پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں تھی۔ ثنا کی موت ایک خالی چیخ نہیں، بلکہ ایک سوال ہے، ایک آئینہ ہے، اور ایک عزم بھی کہ یہ دنیا اتنی اندھیری نہ رہے کہ ہر روشنی نوچ لی جائے۔
لیکن ہم یہ عہد کریں کہ ثنا کا نام صرف دکھ کی علامت نہیں ہو گا۔ ہم اسے ایک ہار نہیں، بلکہ ان تمام لڑکیوں کی جیت کے طور پر یاد رکھیں گے جو اپنی شناخت، اپنی رائے، اپنی مرضی اور اپنی روشنی پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ ثنا گئی، لیکن اس کا وقار، اس کی خودداری، اور اس کا انکار ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ آج بھی ہمیں سکھا رہی ہے کہ ہار وہی ہے جو جھک جائے، اور جیت وہی ہے جو اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑی رہے۔
پھر چاہے قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔


