”ثنا“ کا بلیدان یا قربانی


لگتا ہے کہ اس دیس کے لوگ نابینا اور بے جان بتوں کی طرح سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کر دیے گئے ہیں، 77 برس کے آمرانہ جبر اور نظام نے یہاں کے لوگوں میں ”فرسودہ عقیدے“ کی غلاظت اور تعفن سے لبریز ایسی چادر عوام کے ذہن و وجود پر لاد دی ہے جو انہیں کسی خانقاہ کے متولی کی طرح وحشی بننے سے بھی نہیں روک پا رہی ہے، لگتا ہے کہ اس سماج کے لوگوں میں آمرانہ اقتدار کے جبر و طاقت نے سماج کے بیشتر افراد میں انسانی توقیر، عزت نفس اور اخلاقی قدروں کے مقابل صرف لاقانونیت، حرام خوری، سود خوری اور انسانی روح کو زخمی کرنا سیکھا ہے اور اب اس سماج کی کوئی سمت ہے تو آمرانہ اور غیر جمہوری فکر اور سوچ۔

اس سماجی لاچارگی اور پسماندگی میں معروف شاعر احمد فراز کے شعری مجموعے ”نابینا شہر میں آئینہ“ کا نوحہ نما یہ شعر ہمارے پورے سماج کی منظر کشی کرتا نظر آتا ہے کہ!

زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تو ہے کہ سدا آئینہ خانے مانگے

اس ساری مخدوش صورتحال میں اب نہ ہمارا آنسو بہانا اور سماج کے رویوں پر چیخنا چلانا کسی کام کا رہا ہے اور نہ ہی اب ہمارے قلم کے مضمحل لفظوں میں وہ طاقت نظر آتی ہے کہ وہ اپنے جملوں کی کاٹ سے اس جاہل سماج کے فرسودہ رویوں کو درست کر سکتے ہیں؟ اب تو ہمارے احتجاج کرتے الفاظ بھی تھک ہار کر ہمارا ساتھ دینا چھوڑتے جا رہے ہیں، شاید کہ لفظ اپنی حرمت بچانے کی غرض سے دم سادھ ہوچکے ہیں اور مشورہ دے رہے ہیں کہ۔

خدارا۔ اب اس وحشی سماج کی ماؤں کو سمجھا دو کہ وہ بیٹیوں کو جنم دینے سے پہلے اپنی کوکھ کو بانجھ کر لیں، یا اگر غلطی سے بیٹی کا جنم ہو جائے تو اسے ”دقیانوس عرب“ کی رسم مانند زندہ درگور کر دیں کیونکہ یہ سماج اب تک ”عرب کے تنگ نظر، جاہل اور عورت دشمن“ سماج کا نہ صرف پرچارک ہے بلکہ یہاں کے لوگ اب اس جاہلانہ سماج کے تمام رسم و روایت کو تحفظ دینے کو اپنے ایمان کا حصہ بھی سمجھنے لگے ہیں۔ اب اس بات کو ماننے میں کیا حرج ہے کہ ”ہمارا موجودہ سماج“ جنرل ضیا ”کا جہادی اور عورت دشمن سماج“ ہے جو مکمل طور پر تنگ نظر افراد کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے، اب اس تنگ نظر مذہبی سماج سے کسی خیر کی امید رکھنا عبث یا بیکار نظر آتا ہے۔

میں پھر بھی لفظ کے احتجاج سے امید لگائے بیٹھا ہوں کہ لفظوں کی چیخ اور ان کی شدید مزاحمت ہی تنگ نظر سماج کی جگہ روشن خیال سوچ کا سماج ضرور تشکیل دے گی، کیونکہ مجھے لفظوں کی صداقت اور ان کے درد کی طاقت کا علم بھی ہے اور اعتبار بھی، کہ لفظ اپنے احتجاج کو ضائع نہیں ہونے دیتے، وہ اپنے انسانی بقا اور حرمت کے تقدس و فلسفے کو صدا بہ صحرا کبھی نہیں ہونے دیں گے، مجھے یہ یقین ہے کہ میرے لفظوں کی طاقت دھیرج ہی سہی مگر آج کے بے حس سماج میں ارتعاش ضرور ڈال پائے گی اور مستقبل کی نسل میں روشن خیال سوچ کے دیے ضرور جلائے گی۔

لفظ اور میں آج اپنی نئی نسل سے ہمکلام ہونا چاہتے ہیں، وہ میرے سنگ مل کر یہ چاہتے ہیں کہ نئی نسل غلاظت سے بھری ”غیرت“ اور توانائی ضائع کرنے والے ”غصے“ کو اپنی زندگیوں سے مکمل نکالا دے دے، لفظ کی تربیت اور اس کے احساسات جانتے ہیں کہ اس وقت تک نئی نسل ایک بہتر باہمی رشتوں اور احترام کا سماج تشکیل نہیں دے پائے گی جب تک وہ تاریخ اور سیاست کی درست کھوجنا نہیں کر پائے، کیونکہ دنیا کی تسخیر نسل کے تازہ اور باشعور ذہن کی منتظر ہے، تو پھر کیوں نہ میری نسل ایسے سماج کی تعمیر اور جستجو کرے جہاں امن ہو، رواداری ہو، محبتوں کے رشتے ہوں، زندگی پر سکون ہو، جہاں میلے دلوں کو اجلا کرنے کا کام کیا جائے، جہاں جذبات کی جگہ عقل و ہوش پروان چڑھے، جہاں صنفی فرق کو پیچھے کر کے ذہن کی تعمیر سازی کا چلن عام ہو جائے، جہاں سنگی ساتھیوں کی ناراضگیاں دوستیوں کی لاج کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا کام کریں، جہاں برداشت اور درگزر کا ایسا سماج تشکیل دیا جائے جہاں انسانی تقدس، تہذیب اور حرمت ان کی پہچان بن جائے۔

آج میں اور میرے دکھوں سے چور لفظ یہ سوال کرنے میں تو حق بجانب ہیں نا کہ اس سماج نے 77 برس کی پیدائش کے بعد ماہ و سال کے تغیرات، زمانے کی اتھل پتھل سے کیا سیکھا؟ ہم اپنی قدروں تہذیب اور انسانی قدروں کی گٹھڑی کیا دریا برد کر چکے ہیں کہ ہمارا سماج زمانے کی ترقی کے برعکس تنزلی یا ”ترقی معکوس“ کی جانب رواں دواں ہے، جہاں انسانی جان اور اس کی توقیر کو روندنے کے لئے ہتھیاروں کی دھماچوکڑی میں انسانوں کی جان لینے میں سرمایہ داروں کے اسلحے یا گولی کو طاقت سمجھ کر کسی کی جان لینے کو درست عمل کہا جائے گا؟ اختلاف اور مختلف رائے کے سامنے دلیل اور منطق کو سماج نے کیوں کمزور کر دیا ہے، کیوں برداشت اور تحمل مزاجی کو ”آمرانہ جرنیلی ذہن“ نے مذہبی فرسودگی کی چادر پہنا کر رواداری اور دوسرے کے مختلف نکتہ نظر رکھنے کے برداشت والے ماحول کی سیاست کو ”دہشت اور وحشت“ کی دستار کے سپرد کر کے نسل کے تازہ اذہان کو تہہ و بالا کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ؟ ہمارے ”آمرانہ سوچ کے جنرل“ کیوں 50 کی دہائی کے ”باہمی سماجی بندھن“ اور رواداری کے معاشرتی رشتوں کو مسلسل منتشر کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کب تک ہمارے دیس کا اقتدار ”ریاست“ کی تفہیم اپنے اقتداری فائدے کے لئے تنگ نظر مذہب پر رکھ کر اپنے خسیس مفاد حاصل کر کے نسل کے ذہنوں میں تشدد اور عدم برداشت کے رویوں کی ”جہادی طالبان“ دہشت گردی ڈالتا رہے گا، اس طفلانہ دہشت و وحشت کے نتیجے میں کب تک اس سماج کی ہوسناکی میں نمرتا اور نائلہ خودکشی کرتی پھریں گی اور کب تک اپنی محبت کا بلیدان قاتل ظاہر جعفر کو اس وحشی سماج کی مزید نور مقدم دیتی رہیں گی؟

ہماری نئی نسل کو ”آمرانہ مزاج“ اپنے اقتدار کی ہوس میں کہاں لے جا رہا ہے۔ ؟ ہمارے فرسودہ رسم و رواج اور اخلاق باختہ سماج میں آج کا سب سے اہم سوال یہی ہے۔

کوئی مجھے بتائے کہ آزاد فضا میں اڑتی اور من موجی ثنا یوسف کا کیا قصور تھا کہ اسے سماج میں عدم برداشت کے رویے پر اپنی جان قربان کرنا پڑی، ثنا تو اپنے پروں سے اور اپنی آزادانہ سوچ سے فضاؤں کو چھونا چاہتی تھی، وہ تو اپنے خدمت کے جذبوں سے سرشار انسانی بقا کی سبیل بننا چاہتی تھی، اس کی مسکان تو گھر کا سکون تھی، اطمینان تھی، بھروسا تھی، امید تھی اور اس وحشی سماج میں ذہانت کا نشان تھی، یہ سماج آخر فرد کے سوچنے سمجھنے اور زندگی کو توانا کرنے کی امنگوں اور صلاحیتوں کو کیوں قید کرنا چاہتا ہے، کیوں سماج کی بیٹیوں کی بہادری کو خوف میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، کیا عدم برداشت کی اس سوچ کی ذمہ دار ”آمرانہ مزاج ریاست“ نہیں۔ ؟

ملائیت کی ہوسناک وحشت اور جہادی سوچ کیوں 18 برس سے پہلے کی نوخیز کلی کو مسلنے پر بضد ہے، کیوں قومی اسمبلی سے پاس شدہ شادی بل کی مخالفت انتہائی ”فضل“ سے کی جا رہی ہے۔ ؟ کیا یہ وحشی مذہبی افراد نہیں جانتے کہ 2024 میں اس تنگ نظر اور دہشت سے بھرپور سماج میں 7608 لڑکیاں اور بچے تنگ نظر مذہبی افراد کی ہوسناکی کی بھینٹ چڑھ کر قتل کیے جا چکے ہیں، پاکستان کے انسانی حقوق کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق 356 لڑکیاں مردوں کی ہوسناکی کا شکار بن کر اپنی زندگیاں ”دان“ کر چکی ہیں جبکہ اس غلیظ سماج کی پست سوچ کے سبب 25 فیصد لڑکیاں فرسودہ رسم و روایت کی بنا پر اپنے اوپر بیتنے والے ظلم کو رپورٹ نہیں کروا پاتی ہیں۔

اس ساری تشویشناک صورتحال میں کیا ہم کسی طور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ”قانون پسند“ اور ”انصاف بر مبنی“ سماج کا حصہ ہیں جہاں روز کی بنیاد پر سینکڑوں ”ثنا یوسف“ وحشت اور ہوسناکی سے بھرپور سماج کے وحشیوں کی وحشت کا شکار ہو کر اپنی فطری آزادی کھو بیٹھتی ہیں، کیا اس درندگی کا کوئی علاج اس ”آمرانہ مزاج ریاست“ کے پاس ہے جس نے صرف اقتدار کی ہوس میں سماج کو وحشت اور دہشت دی ہے، بندی خانوں کو تشدد کا مرکز بنایا ہے اور تنگ نظر مذہبی افراد کو بے لگام کر کے ان کے ذریعے ”نجانے کتنی“ ثنا یوسف ”کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ ؟ کیا اب بھی معصوم“ ثنا یوسف ”کا لہو رائگاں جائے گا یا سماج اپنی سمت درست کرے گا؟ بقول مصطفی زیدی

اک موج خون خلق تھی کس کی جبیں پہ تھی
اک طوق فرد جرم تھا کس کے گلے میں تھا!

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza