سفر حج۔ حصہ پنجم
میں مسجد خیف میں بیٹھا حج کے سفر کی پانچویں اور شاید آخری قسط مکمل کر رہا ہوں۔ اور سوچ رہا ہوں کہ کہ اگر کافر ترقی نہیں کرتا تو بحیثیت مسلمان حج کے لئے روانگی، قیام، مناسک کی احسن اور اطمینان بخش ادائیگی بہت مشکل عمل ہو جاتا۔ کفار کی اس ترقی کا قدم قدم پہ احساس ہوتا رہا اور اس بات پہ واللہ خدا کا شکر ادا کیا کہ اللہ تبارک و تعالی نے یہ ترقی کا کام کفار سے لیا اور انہوں نے بلاشرکت مذہب و رنگ و نسل اسے بخوبی انجام دیا ورنہ مسلمانوں کی ترقی کا یہ عالم ہے کہ مجھے یاد آیا کچھ دنوں پہلے صوبہ پنجاب کے اک سینیٹری بازار میں علمائے کرام نے شبانہ روز شدید تحقیق کے بعد پٹیشن دائر و پمفلٹ بانٹے کہ مسلم شاور قادیانیوں کو نہ دیے جائیں کیونکہ اس طرح بادی النظر میں آپ انہیں مسلمان سمجھ رہے ہیں اور باقی لکھنے کی ضرورت نہیں کہ بات نکاح ٹوٹنے پہ ہی آ کر ٹوٹتی ہے۔
منیٰ کی وادی میں پرتعیش خیموں کا انعقاد وہاں کے بہترین انتظامات پھر عرفات روانگی وہاں عرفات کے میدان میں خیموں کا قیام اور وہاں کھانے پینے کا عمدہ انتظامات بلاشبہ اول سعودی حکومت اور دوم پاکستانی حکومت کے سرکاری حج اقدامات کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ حج سے جڑے ہمارے ساتھ ایک ناظم جو کہ 1998 سے اس حج نظم و ضبط کا حصہ رہے اور قریب اگلے 6 ماہ میں لیٹائر ( یہ لفظ میں نے ان کی زبان سے جیسا سنا تو ایسے ہی لکھ دیا کیونکہ مرے دوبارہ استفسار پر بھی انہوں نے یہ لفظ اسی طرح ادا کیا تھا) ہونے والے ہیں ان کے مطابق بھی ایسے بہترین سرکاری انتظامات انہوں نے اپنی 26 سالہ حج کی نوکری میں نہیں دیکھے۔
اک بات اور ضروری بتاتا چلوں کہ منیٰ اور عرفات کے کیمپس میں رہتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا سب بہت خیال رکھ رہے ہیں اس کے ناشتے، کھانے روٹی جوس چائے الغرض کسی بھی چیز کے حصول کے لئے اسے اٹھنا نہیں پڑ رہا میں اول تو سمجھا کہ پیر صاحب ہوں گے مگر جو حلیہ دیکھا تو ادھیڑ عمر کا یہ شخص بہت عام سی بود و باش کا تھا میں نے اپنی حیرت کا قفل توڑنے کے لئے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ نیک سیرت شخص کراچی پاکستان سے ہے اور واحد یہی ہے جس کے پاس سوکھا گٹکا اور گیلا ماوا موجود ہے اور اسی لئے یہ موجود افراد میں باعث عزت و قدر و منزلت کی نگاہ میں ہے۔ اور سوائے واش روم خود جانے اور کرنے کے کوئی اور کام اسے گٹکوں کے پروانے کرنے ہی نہیں دے رہے۔ خیر یہ فضیلت بھی کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ اللہ اس کے اسٹاک میں برکت عطا فرمائے۔
یہاں سب سے زیادہ مشکلات میں فقہی معاملات کو لے کر احناف رہے ہیں، میرے ذاتی خیال فقہی معاملات میں غیر لچک کی صورتحال نے فقہ کے ماننے والوں کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے، ہمارے قیام کے اول دن سے مناسک کے آخری دن تک جو بحثیں غیر حل طلب تھی وہ درج ذیل ہیں۔
1۔ جمعہ کی نماز کا وقت غلط ہے۔
2۔ ظہر اور عصر ہم اپنے اوقات کار میں پڑھیں گے یہاں غلط وقت پہ ہو رہی ہیں۔
3۔ منیٰ و عرفات میں تو ہر نماز سے پہلے اس بات پہ 15 منٹ لگتے تھے کہ قصر پڑھنی ہے کہ پوری۔ پھر بحث کے بعد قصر والے اپنی الگ نماز کرواتے اور پوری نماز والے الگ۔ لیکن ہر خیمہ کے درو دیوار گواہ ہیں کہ 8 سے 12 ذی الحجہ تک یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا اور طرفین سے متشدد یہی کہتے رہے کہ نماز غلط ہوئی یعنی سوچیں قصر بھی غلط اور پوری بھی غلط۔
4۔ حلق و قصر پر بھی احناف دوست شاید ایک دن پہلے سب کے بال انگلی کے پوروں سے ناپ گئے تھے اس لیے اگلے دن جس جس کے بال ایک پور سے کم تھے اور اس نے حلق نہیں کروایا اسے 720 ریال کے دم کو یک دم ادا کرنے کے فتوے بتا رہے تھے میں نے تھوڑا غور سے فتویٰ پڑھا کہ اگر احرام کھول لیا تو دم دینا ہو گا اور اب سلے ہوئے کپڑے پہننے کا جب تک دم نہ دیا تو یہ مرتے دم تک قائم رہے گا اور بات وہیں آ کر ٹوٹی کہ ازدواجی تعلقات اور نکاح بھی۔ ایسا لگ رہا تھا خدا کو حساب الگ دینا ہے احناف کو الگ۔
حج کا سفر ہو اور مزدلفہ کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک یہی وہ جگہ ہے جسے ابھی ویسے کا ویسا ہی چھوڑا ہوا ہے یعنی کھلے آسمان تلے اور کھانے پینے اور رہائش کی سہولتوں سے ماورا یہاں آ کر حاجی الگ ہی پتہ چلتا ہے۔ ہمارا مزدلفہ میں جو قیام تھا اس کے آس پاس حد نگاہ تک بنگالی حجاج موجود تھے جب ان کے قافلے آئے تو یک دم جیسے وہ پورا حصہ انہی سے بھر گیا انہوں نے مغرب و عشا پڑھی اس کے بعد اچانک ہی 99۔ 99 فیصد بنگالی مرد نیم برہنہ حالت میں آ گئے ( یہ جو 100 فیصد نہیں ہو سکے وہ اس لیے کہ ایک بنگالی بزرگ شدید بیمار تھے انہیں باقاعدہ چادر سے ڈھانپا ہوا تھا، ویسے میں نے ان کے احباب سے یہی کہا کہ انہیں بھی نیم برہنہ کر دیں شاید یہی افاقے کا باعث ہو) اس قدر تعداد میں کھلے آسمان تلے حالت ننگ قابل دید تھی ایک لاہور سے آئے دوست نے کہا کہ یار اتنی جلدی نیم برہنگی تو بادشاہی مسجد کے برابر والی گلی میں بھی نہیں ہو پاتی۔
اس سفر میں میں جہاں بھی گیا اپنے دوستوں کو ضرور یاد رکھا تو بھلا جمرات پہ کیسے ممکن تھا کہ بھول جاؤں۔ میرے دوستوں میں کچھ دوست مجھ سے عمر میں چھوٹے کچھ کم و بیش میرے برابر اور کچھ مجھ سے بڑے ہیں تینوں جمرات پہ جاتے ہوئے میں نے دوستوں کو یاد کرنے کی ترتیب بھی یہی رکھی کہ چھوٹا شیطان، درمیانہ شیطان اور بڑا شیطان۔
دوست اس بات پہ مجھے معاف فرمائیں کہ اللہ آپ سب کو لے جائے، آپ مجھے اپنی ترتیب سے یاد رکھ لیجیے گا میں برا نہیں مانوں گا۔



آپ نے جو مصائب اور مسائل بیان کئے ان سب کا آسان حل موجود ہے مگر مذہب کے ٹھیکیدار کسی کی نہیں سنتے۔
محض حنفی کہہ کر زیادتی کی ہے۔ حج میں اہل احناف سے زیادہ مشکلات بریلوی حضرات کو پیش آتی ہیں۔ ان کی اکثریت تو اب کسی بھی سعودی امام کے پیچھے نماز ہی نہیں پڑھتی چاہے وہ مسجد الحرام کے امام ہوں یا مسجد نبوی کے۔
جب تک عام پڑھے لکھے لوگ بھی مسائل کے حل کے لئے ان نام نہاد مولویوں کا رخ کریں گے تب تک حلق اور قصر کے لئے اور نماز کے اوقات کے لئے لڑائیاں ہوتی رہیں گی۔
–