راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ
1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ
مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔ یہ تب سے آج تک مقبولیت کے لحاظ سے اُردو کے بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ راجہ گدھ پر اس کے موضوع سمیت کئی اعتبار سے کڑی تنقید بھی ہوتی ہے۔ ناول کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حرام رزق کھانے سے انسان کے ذہن اور خلیات میں تبدیلی (Mutation) واقع ہو جاتی ہے جو پاگل پن پر منتج ہوتی ہے۔
ناول میں دو متوازی کہانیاں ہیں اور دونوں کا تھیم ایک ہی ہے۔ پہلی انسانی کرداروں پر مشتمل ہے اور دوسری کہانی جنگل کے پس منظر میں پرندوں اور جانوروں کے کرداروں کے ساتھ علامتی انداز میں تحریر کی گئی ہے۔
کہانی کے اہم کرداروں میں گاؤں چندرا کا عبدالقیوم ہے (یہ پوری کہانی ہمیں عبدالقیوم کی زبانی سننے کو ملتی ہے )
سیمی شاہ۔ طبقہ اشرافیہ سے تعلق، ایک سینئر بیوروکریٹ کی بیٹی۔
آفتاب۔ کشمیری نژاد دیوتاؤں جیسے حسن کا مالک، ایک متمول خاندان کا چشم و چراغ
پروفیسر سہیل۔ کالج میں سوشیالوجی کا استاد
عابدہ۔ عبدالقیوم کی بھابھی کی کزن
امتل۔ ادھیڑ عمر طوائف جو ریڈیو پر کام کرتی ہے
روشن۔
یہ ناول ابتدا سے آخر تک چار حصوں یا چار ابواب میں تقسیم ہے :
1۔ شام سمے۔ عشق لاحاصل
2۔ دن ڈھلے۔ لا متناہی تجسس
3۔ دن چڑھے۔ رزق حرام
4۔ رات کے پچھلے پہر۔ موت کی آگاہی
کہانی کا خلاصہ:
قصہ شروع ہوتا ہے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے سوشیالوجی کی تعارفی کلاس سے، جہاں پروفیسر سہیل اپنے طلباء کے ساتھ پاگل پن کی اقسام اور وجوہات پر بحث میں مشغول ہے۔ آفتاب، سیمی اور کہانی کا راوی عبدالقیوم کلاس فیلوز ہیں۔ سیمی خوش رو، ذہین اور پر اعتماد ہے۔ ماڈرن اور اپنی مرضی اور خوشی کی بنیاد پر فیصلے کرنا جانتی ہے۔
آفتاب بھی خوب صورت، پر اعتماد اور ذہین ہے، اپر مڈل کلاس کے روایتی گھرانے سے ہے۔ دونوں پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو قبول کر لیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے محبت کی پینگیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر آفتاب سیمی کو چھوڑ دیتا ہے، کوئی واضح وجہ سامنے رکھے بنا، اور اپنے خاندان کی پسند سے زیبا سے شادی کر لیتا ہے۔ سیمی اس بے وفائی پر ذہنی اور جذباتی طور پر ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر پنڈی چلی جاتی ہے اور ایک ٹریول ایجنسی میں جاب کرنے لگتی ہے۔ جانے سے پہلے وہ قیوم سے اس کے ہاسٹل میں ملتی ہے، قیوم دیکھتا ہے کہ عشق کا عفریت بس اسے نگلنے ہی والا ہے۔ قیوم چاہتا ہے کہ وہ رک جائے، وہ اس پر اپنی یک طرفہ محبت آشکار کرنا چاہتا ہے مگر نہیں کر پاتا۔
آفتاب زیبا کے ساتھ لندن منتقل ہو جاتا ہے۔ سیمی جاب چھوڑ کر پنڈی سے واپس لاہور آ جاتی ہے۔ وہ قیوم سے وقتاً فوقتاً ملتی ہے اور کسی بھی گوڈے گوڈے عشق میں دھنسے شخص کی طرح اس سے آفتاب کی باتیں کرتی ہے۔ وہ دونوں بہت سا وقت ساتھ گزارتے ہیں، قیوم اس لیے کہ وہ سیمی سے محبت میں مبتلا تھا، اور سیمی کو ایک دوست اور جذباتی تعلق یا سہارے کی تلاش تھی۔ سیمی کی ذہنی اور نفسیاتی صحت نارمل دکھائی نہیں دیتی، اسے وژنز ہوتے ہیں۔ وہ بیٹھے بٹھائے کسی اور جگہ ہونے والے واقعات من و عن بیان کرنے لگتی ہے۔ قیوم حیران رہ جاتا ہے۔ جناح باغ میں بوڑھے برگد کے نیچے قیوم اور سیمی کئی شامیں بتا دیتے ہیں۔ ان کا تعلق محض دوستی تک محدود نہیں رہتا۔ اس سطح پر آ کر بھی قیوم اسے نہیں بتاتا کہ وہ اس سے طوفانی قسم کی محبت کرتا ہے۔
سیمی آفتاب کا غم غلط کرنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہو پاتی اور نیند کی گولیاں کھا کر خود کو ختم کر لیتی ہے۔ قیوم ہسپتال میں اس کی لاش پر آنسو بہاتا ہوا نکلتا ہے اور راجہ گدھ بننے کی باقی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔
سوشیالوجی میں ایم اے کرنے کے بعد وہ ریڈیو پر ملازمت بھی حاصل کر لیتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کے گھر میں بالائی منزل کے کمرے میں رہتا ہے۔ اس کی صحت مخدوش ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اس کی ملاقات پروفیسر سہیل سے ہوتی ہے جو اسے یوگا کی ترغیب دیتے ہیں۔ قیوم باقی طالب علموں کی طرح ہی اپنے اس ٹیچر سے مرعوب تھا۔ وہ اس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔
عابدہ صولت بھابھی کی کزن اپنے شوہر سے لڑ کر وہیں رہنے آتی ہے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت قیوم کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے، سیمی کو گالیاں دیتے ہوئے گزارتی ہے۔ قیوم اور عابدہ بھی ایک حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں کیونکہ عابدہ کو اپنی بے اولادی کا دکھ زائل کرنا تھا۔ یہ تعلق بھی عارضی ثابت ہوتا ہے، عابدہ سسرال پلٹ جاتی ہے اور قیوم دوبارہ تنہا رہ جاتا ہے۔
قیوم کی زندگی میں آنے والی تیسری عورت امتل ہے، جس سے وہ ریڈیو اسٹیشن پر ملتا ہے۔ امتل کا تعلق بازار سے ہے۔ وہ زمانے کی ٹھکرائی اور انسانوں کی برتی ہوئی عورت تھی۔ اس کے پاس وہ سارا سیانا پن، فلسفہ اور عقل تھی جو عمر کے اس حصے میں ایسے انسان کے حصے میں آ جاتی ہے۔ امتل نے ایک بار شادی کر کے عزت دار زندگی گزارنی چاہی لیکن وہ شادی ٹوٹ گئی اور اسے ایک بیٹا دے گئی جس کا ذہنی توازن درست نہیں ہوتا۔ امتل بیٹے سمیت واپس اسی مقام پر آ گئی جس سے نکلنے کے جتن اس نے کیے تھے۔
قیوم وقتاً فوقتاً کئی قسم کے لوگوں سے ملتا ہے جن میں کُچھ جادوگر اور عامل بھی ہوتے ہیں جن سے وہ سیمی کی روح سے ایک ملاقات کروانے کا ملتجی ہوتا ہے۔ پروفیسر سہیل بھی اس سے اپنے فلسفے اور نظریے بیان کرتا ہے، رزق حرام سے ذہن کے خلیات پر پڑنے والے اثرات کو تھیوری بنا کر پیش کرتا ہے۔ جو اس کے خیال میں پاگل پن کی وجوہات کی نشاندہی میں کوئی معرکۃ الآرا پیش رفت تھی۔
ایک کلینک پر قیوم کو ایک سابقہ کلاس فیلو اتفاقیہ طور پر ملتی ہے جو اسے یہ بتاتی ہے کہ پروفیسر سہیل سیمی پر فریفتہ تھا اور غالباً سیمی اور آفتاب کے بریک اپ میں اسی کا ہاتھ تھا۔ قیوم یہ جان کر سُن ہو جاتا ہے۔
قیوم کام کے سلسلے میں امتل سے ملتا ہے تو امتل اصرار کر کے اسے اپنے ہاں ٹھہراتی ہے۔ ان کی ملاقاتیں طویل ہونے لگتی ہیں۔ امتل قیوم کو شادی کا مشورہ دیتی ہے، ایک باکرہ لڑکی سے شادی کا مشورہ۔ امتل اور قیوم کی ملاقاتیں شاید مزید طویل ہوتیں مگر ایسا نہ ہو سکا کیونکہ امتل کا بیٹا امتل کا خون کر دیتا ہے۔ امتل کی موت کے بعد قیوم صولت بھابھی سے اپنے لیے رشتہ ڈھونڈنے کا کہتا ہے اور بھابھی عین قیوم کی خواہش کے مطابق اندرون لاہور سے ایک باکرہ لڑکی کا رشتہ ڈھونڈ لاتی ہیں۔ رشتہ ہو جاتا ہے، شادی بھی ہو جاتی ہے لیکن شادی کے بعد روشن قیوم پر آشکار کرتی ہے کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے اور یہ شادی اس نے خاندان کے دباؤ میں آ کر کی ہے۔ قیوم کو ایک شدید شاک لگتا ہے مگر وہ روشن خیالی کا ثبوت دیتے ہوئے روشن سے کہتا ہے کہ تمہاری مرضی کے بنا قائم ہوئے رشتے کی کوئی اہمیت نہیں تم اپنے سابقہ کو خط لکھ کر بلا لو۔ جب تک وہ نہیں آتا تم یہاں سکون سے رہ لو۔ اس کے سعودیہ سے آنے کے بعد تم اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کر سکتی ہو۔ کچھ عرصہ بعد روشن کے بلانے پر وہ لڑکا آ جاتا ہے، قیوم اس سے روشن کی شادی کروا کر روانہ کر دیتا ہے۔
کہانی کے آخری منظر میں قیوم کی ملاقات آفتاب سے ہو جاتی ہے۔ وہ اسے اپنے کم عمر بیٹے افراہیم سے ملواتا ہے جس کا نفسیاتی علاج ہو رہا تھا۔ آفتاب اس کی حالت اور کیفیت سے پریشان اور دل گیر ہوتا ہے تو قیوم اسے تسلی دیتا ہے کہ تمہارا بیٹا ذہنی معذور نہیں ہے، بلکہ اسے عرفان حاصل ہے۔ اس کا پاگل پن مثبت والا ہے۔ (ساڈا کتا کتا، تواڈا کتا ٹومی) ۔
ختم شد۔
ناول کا اہم سبق اور تھیم رزق حرام بالخصوص جنسی حرام کاری سے پیدا ہونے والا پاگل پن یا دماغی انحراف ہے۔ جنگل میں جنم لینے والی پرندوں اور جانوروں کی کہانی کا بھی بنیادی نکتہ یہی تھا جس میں تمام پرندے گدھ کے خلاف مقدمہ دائر کر کے جرح کرتے ہیں کہ وہ انسان کی قربت میں آ کر پاگل پن کا شکار ہو چکا ہے اور یہی پاگل پن پرندہ برادری کے باقی خاندانوں میں سرایت کر جانے کا خدشہ ہے۔ طویل مقدمہ کی سماعت جاری رہتی ہے، گدھ ان سب الزامات کی تردید کرتا ہے مگر آخر میں یہ قبول کر لیتا ہے کہ اس نے مردار خوری کر لی تھی اور اس وجہ سے وہ چاندنی راتوں میں پاگل پن کی کیفیت سے نڈھال ہونے لگتا ہے۔
کہانی کا اسلوب کافی دلچسپ ہے۔
لیکن کہیں کہیں زبان اور جملے غیر مناسب و غیر نفیس ہیں، وہ نہ تو روزمرہ میں آتے ہیں اور نہ ہی اعلیٰ ادب میں، بلکہ مصنفہ کی ذاتی کائنات کی لغت معلوم ہوتے ہیں۔ صنفی امتیاز اور تعصب بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ کئی جگہوں پر کہانی اپنے چوکھٹے کے اندر ہی اپنے موقف سے منحرف ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ باریک بینی سے پڑھیں تو کئی تضاد بھی دکھائی دیتے ہیں۔
ناول اچھی منظر نگاری، کیفیات اور کرداروں کی نفسیات کے مضبوط اظہار سمیت، روایتی دانش سے لبریز ہے۔ مکالمے اور مناظر قدرے طویل ہیں مگر بے زار نہیں کرتے۔
موضوع اور زبان کے اعتبار سے دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناول کا مواد صرف سنجیدہ اور بالغ افراد کے لیے ہے۔ یہ کتاب اور ناول کے نئے قارئین اور غیر پختہ و کم سن ذہنوں کے لیے نہیں ہے۔
2۔ عورتوں کو روایتی چولے میں دکھانا، پدرشاہی کو گلوریفائی کرنا
راجہ گدھ پر جتنے پہلوؤں سے تنقید ہوتی ہے ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ عورتوں کو سماج کی طے شدہ حدود میں قید کر کے دکھاتا ہے اور جو کردار اپنے اندر اس حد کو عبور کرنے کا سپارک اور جذبہ رکھتا ہے، اسے اختتام تک نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔
مثلاً ناول کا سب سے اہم کردار سیمی شاہ ایک آزاد، خودمختار لڑکی ہے جو مرضی سے محبت کرتی ہے، کسی کے آگے جواب دہ نہیں ہے، معاشرے کے طے شدہ اصولوں کو چیلنج کرتی ہے۔ ناول کا بیانیہ اسے تنزلی، پاگل پن، اور موت تک لے جاتا ہے، اس کا انجام ایک ”سزا“ کی صورت میں دکھایا گیا۔ سیمی کے لیے مصنفہ نے موت کی وجہ عشق لا حاصل طے کی، جب کہ عام طور پر پسند کی شادی پر یا اپنی مرضی کا فیصلہ لینے پر خاندان خود آگے بڑھ کر ایسی لڑکیوں کی سانسیں کھینچ لیتا ہے۔ یہاں صرف ہتھیار کا فرق تھا، انجام وہی تھا۔ (یہ حسرت مصنفہ نے امتل کا انجام تحریر کرتے ہوئے پوری کر لی تھی)
عورت اگر خود مختاری مانگے، اپنی زندگی پر اپنا حق جتائے تو ناول اسے معاشرتی، روحانی اور فطری سزا کا حقدار قرار دیتا ہے۔ یہ صریح انداز میں پدرشاہی نظریہ کو تقدیس کے لبادے میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔
راجہ گدھ میں دکھائی جانے والی تمام عورتیں اخلاقی طور پر پست، کمزور اور گم راہ دکھائی گئی ہیں۔ سیمی تو سیمی قیوم کی ماں کا ماضی بھی یہ ہے کہ اس نے اپنے بھائی کا گھر چھوڑ کر مرضی سے قیوم کے باپ سے شادی کی۔ اس کے علاوہ خواہ عابدہ ہو، بازار سے منسلک امتل ہو یا بظاہر شریف خاندان کی پردہ دار روشن۔ سبھی کے ساتھ ایک کجی کو جوڑا گیا ہے۔ (یوں لگتا ہے ناول نگار کے اندر خلیل الرحمٰن قمر کی روح حلول کر گئی تھی جو اپنا غصہ عورت پر نکالتی رہی)
سیمی شاہ کے کردار کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ناول کی سب سے پیچیدہ اور متنازعہ کردار ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہے جس کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی آزادی سے سماج خائف ہے۔ یعنی اگر وہ ویسا کر لیتی، جو اس کی منشاء تھی اور ایک بھرپور زندگی گزارنے میں کامیاب ٹھہرتی تو سماج اسے اپنے لیے ایک تازیانۂ شکست سمجھتا۔ لہٰذا ضروری تھا کہ اسے محبت میں پاگل پن، اخلاقی دیوالیہ پن اور آخر میں موت کے پھندے سے جھولتا دکھایا جائے۔
سیمی ایک با اثر معاشرتی طبقے کی روشن خیال لڑکی ہے، وہ سوشیالوجی کی طالبہ ہے، ذہین ہے، خوبصورت ہے، اور جذبات رکھتی ہے۔ لیکن اس کی سب سے ”بڑی غلطی“ یہ ہے کہ وہ محبت کا انتخاب خود کرتی ہے۔ ناول اس کی خودمختاری کو اخلاقی انحراف بنا کر پیش کرتا ہے۔ وہ محبت میں ناکام ہوتی ہے۔ ذہنی مریض بن جاتی ہے۔ آخرکار موت اس کا مقدر بنتی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ناول کے ”اخلاقی بیانیے“ پر سوال اٹھتا ہے۔ اگر مرد ایسی محبت کرے تو ”رومان“ ہے، اگر عورت کرے تو ”سزا“ ، معاشرے کی نگاہ میں ”گناہ“ ؟
ناول کا ایک متنازعہ خیال یہ ہے کہ ”حرام رزق“ ذہنی انحراف پیدا کرتا ہے۔ بانو قدسیہ کو یہ بے اصل تھیوری پیش کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی جسے ثابت نہ کیا جا سکے؟ اللہ نے ایک حکم دے دیا ہے، اس کو اسی طرح مان لینا مناسب ہے، بجائے یہ کہ اس کے متعلق بھدی عقل سے ایسے نکتے پیش کریں جن پر ہنسی بھی آئے اور غصہ بھی۔ بنا ثبوت اور تحقیق ایسی چیزیں مذہب سے منسوب کریں جن کی کوئی سند نہیں ہے۔
سیمی کی ذہنی کیفیت کو بھی اس نظریے سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس خیال کو سادہ انداز میں یوں سمجھیے :
محبت، خواہش، آزادی = گناہ (رزق حرام)
گناہ = سزا
سزا = پاگل پن اور موت
یہی تصور نسوانی آزادی کو مذہبی اور اخلاقی حوالوں سے ناقابلِ قبول اور ناقابل برداشت بنا کر پدرشاہی کی تائید کرتا ہے۔
3۔ سیمی کی خودکشی سوشیو پولیٹیکل علامت
ایک اور نظر دیکھیں تو ناول میں جو کچھ سیمی کے ساتھ ہوتا ہے، آفتاب کی بے وفائی، سماج کی منافقت، اور اس کی آزادیِ انتخاب کو جرم بنا دینا، یہ وہ جگہ ہے جہاں راجہ گدھ کا بیانیہ، جسے اکثر لوگ محض مذہبی، روحانی اور اخلاقی سبق سمجھ کر پڑھتے ہیں، دراصل طاقتور سوشیو پولیٹیکل (سماجی و سیاسی) استعاراتی نظام کو ظاہر کرتا ہے۔
سیمی کی خودکشی کو سوشیو پولیٹیکل علامت کے طور پر یوں دیکھا جا سکتا ہے :
• پدرشاہی معاشرے کی عورت کے لیے ”No Win“ صورتِ حال
سیمی ایک تعلیم یافتہ، پرکشش اور محبت کرنے والی لڑکی ہے، جو اپنی پسند کے مرد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ لیکن وہ جس مرد (آفتاب) سے محبت کرتی ہے، وہ اسے صرف تفریحی، وقت گزاری کے دائرے میں رکھتا ہے۔ جب وہ محبت کے نام پر کیے گئے وعدوں کو ایفا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو ٹھکرا دی جاتی ہے۔ یہیں پدرشاہی معاشرہ عورت کو سزا دیتا ہے۔ وہ سزا جسے ہم اس واقعہ کے بعد لمحہ لمحہ کر کے سیمی پر نازل ہوتا دیکھتے ہیں۔
• اخلاقی معیار کی صنفی تقسیم
سیمی کی محبت کا انجام خودکشی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے جذبات کئی کسوٹیوں پر پرکھے جاتے ہیں۔ سماجی و مذہبی اصول اس کے خلاف ہتھیار بن جاتے ہیں۔
جبکہ آفتاب، جو جذباتی بزدلی دکھاتا ہے، وہ معاف ہو جاتا ہے اور صاف بچ نکلتا ہے۔ یہ اخلاقی معیار میں برتی گئی منافقت ہے کہ عورت کرے تو گناہ، مرد کرے تو کمزور لمحہ۔ کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ سیمی شاہ ایک روحانی پاکیزگی کا حامل کردار تھا لیکن جس انجام سے اسے دو چار کروایا گیا وہ ظالمانہ ہے۔ سیمی کی خودکشی کا واحد ذمہ دار آفتاب تھا اور وہ آخر تک کور کورا دکھائی دیا۔ سزا تو دور کی بات اسے رنج، پچھتاوا، افسوس، گلٹ جیسا کوئی جذبہ محسوس نہیں کروایا گیا۔
• سیمی کی خودکشی: خاموش احتجاج
سیمی کی خودکشی کو صرف روحانی خلا، نفسیاتی نتیجہ کہنا نا انصافی ہے۔ وہ خودکشی دراصل اس معاشرتی نظام کے خلاف ایک احتجاج ہے جو عورت کے انتخاب کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔ عورت کے کردار کو جنسی بنیاد پر تولتا ہے۔ مذہب اور سماج کو عورت کے خلاف متفق اور متحد کر دیتا ہے۔
سیمی اپنی زندگی ختم کر کے وہی کچھ کرتی ہے جو کافکا کے کرداروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ساتھ وہ مقدمہ بند کرتی ہے جس میں اسے کبھی صفائی کا حق دیا ہی نہیں گیا۔
• سیمی بطور استعارہ (یا عبرت)
سیمی صرف ایک کردار نہیں، وہ ہر اس عورت کی علامت ہے جو خود کو معاشرے کے ”چوراہے“ میں کھڑا پاتی ہے۔ جو محبت کرتی ہے، مگر معاشرہ اسے ”گم راہ“ عورت قرار دیتا ہے۔ جو اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے، لیکن تذلیل کا سامنا کرتی ہے۔
اس لیے سیمی کی خودکشی، محض ایک ذاتی المیہ (پرسنل ٹریجڈی) نہیں، بلکہ پدرشاہی معاشرت کا اخلاقی دیوالیہ پن ظاہر کرتی ہے۔
یہ اس سماج پر فردِ جرم ہے جو عورت کو محبت کا حق نہیں دیتا، اس کے کیے گئے فیصلوں پر اسے عبرت بنا کر دکھاتا ہے۔
اگر ہم یہ کہہ کر ناول کو رعایت دیں کہ بانو قدسیہ نے ایک ایسے وقت میں لکھا جب معاشرتی روایات کو چیلنج کرنا غیر فطری اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہ کہ ان کی تحریریں اپنے عہد کی عکاس تھیں تو پھر ان کی دیگر ہم عصر خواتین مصنفین مثلاً قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی جیسوں کی تخلیقات کو کس پیرائے میں پڑھا جائے گا؟ کیا یہ قدسیہ چٹھہ کی شعوری کوشش تھی کہ انہوں نے عورتوں کے ایسے کردار تخلیق کیے یا یہ کہانی کی ضرورت تھی؟ یا پھر انہیں ایک پدرسری سماج کے قارئین کی خوشنودی مطلوب تھی؟
4۔ ناول میں غلط کیا ہے؟
ناول کا بیانیہ ہے کہ رزق حرام انسانوں کو پاگل پن کی طرف لے جاتا ہے، رزق حرام یعنی ناجائز جنسی تعلق (relationships without wedlock) اور اگر یہ بالواسطہ کسی کو پاگل نہ بھی کرے تو پاگل پن کو آئندہ نسلوں میں منتقل کرنے کی وجہ ضرور ہے۔ اس پر میں نے پہلے بھی بیان کیا کہ جو مذہبی حکم دیا جائے، اس کی وجوہات اور مقاصد سمجھ نہ آئیں تو خاموشی سے مان لینا بہتر ہے بجائے یہ کہ اس کی ایسی ایسی تاویلیں پیش کی جائیں جو مضحکہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ متنازعہ بھی ہوں۔ مثلاً بانو قدسیہ نے پاگل پن کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے، ایک وہ جو خودکشی کی طرف لے جاتا ہے، معاشرے میں تباہی لاتا ہے، اور دوسرا وہ روحانی پاگل پن یا جنون جو انسان کو صوفی اور ولی بناتا ہے۔ عرفان عطا کرتا ہے۔
مصنفہ نے یہ تھیوری پیش تو کر دی مگر اسے ٹھیک طرح سے ناول کے کرداروں پر لاگو نہیں کر سکیں۔ وہ اپنی کہی ہوئی بات کی منکر نظر آئیں۔ ان کے موقف میں تناقض پایا جاتا ہے۔ قیوم اپنے والدین کی اولاد تھا اور ان کا کوئی افیئر نہیں تھا جو قیوم کو کسی کج روی کا شکار کرتا۔ قیوم اپنے فیصلوں کی وجہ سے راجہ گدھ بنا، اگر وہ رزق حرام میں مبتلا ہوا تو اسے پاگل پن کی کسی ظاہری علامت سے نہیں جوڑا گیا۔ آخر تک اسے بالکل ویسا ہی دکھایا گیا جیسا ناول کے پہلے حصے میں۔ جب کہ اسے پاگل خانے پہنچنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب سیمی کو عشق لا حاصل کا جوگ ملا اور وہ ذہنی انحراف کا شکار ہو گئی۔ کیا عشق پاگل کر دیتا ہے؟ (اگر عشق پاگل پن ہے تو سیانا پن کیا ہے؟ معاشرے کے طے شدہ اصولوں کے مطابق بنا سوچے سمجھے بھیڑ بکریوں والی زندگی گزارنا؟ آفتاب جیسی منافقانہ زندگی؟ ) سیمی کسی بھی اخلاقی لغزش کا شکار ہونے سے پہلے ہی آفتاب کی دھوکہ بازی کے نتیجے میں مر ہی چکی تھی۔ نیند کی گولیاں پھانکنے سے قبل ہی وہ موت کے منہ میں تھی۔ جب وہ آفتاب کی لندن روانگی کے بعد پنڈی سے لاہور آتی ہے اور قیوم کو اتفاقیہ برگد کے نیچے نیم جاں حالت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت اس کے متعلق کیا بیان ہوتا ہے ذرا ملاحظہ کریں :
”وہ چغتائی کی تصویروں میں بنی ہوئی غزال رو لڑکیوں کی طرح اس وقت عشق بہ لب تھی۔ اس کی روح کا ہر مالیکیول زخمی تھا اور وہ عشق کے پانی میں یوں اتر رہی تھی جیسے شہر سیلاب کے پانیوں میں غرق ہوتے ہیں۔“
(کیا اس حالت کے انسان کو کسی زاویے سے زندہ تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ )
اس نے تو کوئی حرام کاری نہیں کی پھر وہ اس حالت تک کیسے پہنچ گئی؟ اور اگر کسی کے لیے محض جذبات رکھنا ہی رزق حرام ہے تو پھر بانو آپا کی اپنی زندگی پر بھی سوال بنتا ہے کہ انہوں نے بھی تو اشفاق احمد سے پسند اور محبت کی شادی کی تھی، اور ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کتنی شوہر پرست خاتون تھیں۔ پھر حیرت انگیز طور پر انہوں نے اشفاق کے ساتھ بہت اچھی ازدواجی زندگی گزاری، جب کہ ان کی تھیوری کے مطابق تو عشق پاگل پن کو جنم دیتا ہے۔
سیمی راجہ گدھ کی خوراک بننے سے بہت پہلے ذہنی طور پر غیر متوازن تھی، اسے ہیلوسی نیشنز ہوتی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ اسے رزق حرام نے پاگل کیا ٹھیک طرح سے لاگو نہیں ہوتا۔ لاگو کریں تو لاگو کرنے والے خود اس زد میں آئیں گے۔
ناول میں دوسرا ذہنی انحراف امتل کے بیٹے کا ہے، وہ پیدائشی طور ایسے پیدا ہوا۔ مگر وہ تو اس کی اور اس کے شوہر کی اولاد تھا۔ جس سے امتل نے شادی کی تھی۔ پھر اس بچے کا پاگل پیدا ہونا بنتا ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آفتاب کا بیٹا ہے جس کے متعلق ناول نگار نے انتہائی ناقابل اعتبار کہانیاں پیش کی ہیں۔ اس کے ذہنی انحراف کی بھی کوئی معقول تاویل نہیں دی گئی۔ وہ آفتاب اور زیبا کی نکاح شدہ زندگی کا بچہ تھا۔ پھر وہ ایسا کیوں؟ آفتاب کو خدشہ تھا کہ سیمی کی بد دعا کے نتیجے میں افراہیم ایسا ہو گیا جب کہ قیوم اس کی تردید کر کے کہتا ہے کہ سیمی ایسی نہیں تھی۔
اور جہاں تک سوال ہے کہ پرکھوں کے کسی ظلم یا کرتوت سیاہ کے نتیجے میں افراہیم نارمل پیدا نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی! جو صریح نا انصافی ہے۔ جب کہ کائنات کا پورا نظام انصاف پر مبنی ہے۔ یہ کسی کے عمل کا حساب کسی اور سے نہیں لیتا۔ شریعت اور قانون میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ والدین یا آبا و اجداد کا گناہ کسی اور کے کھاتے میں ڈالا جائے گا، اس کو سزا دی جائے گی۔ یہ تو ایک لحاظ سے خدا پر بھی بہتان تراشی ہے کہ خدا کے سسٹم کو بے انصاف دکھایا گیا ہے۔
پھر اسی بے اصل اور بے ثبوت بات کو چھپانے اور سنبھالنے کی سعی میں ناول کا آخری مکالمہ لکھا جاتا ہے جس میں قیوم آفتاب کو کہتا ہے کہ تمہارا بیٹا پاگل ہے ہی نہیں یہ تو پہنچا ہوا ہے۔ مگر یہاں بھی فاش غلطی ہے کیوں کہ پہنچے ہوئے فرد کو نہ تو دورے پڑتے ہیں، نہ اس کا سر اس کے دھڑ سے بڑا ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا جسم کسی لحاظ سے ڈی شیپ ہوتا ہے۔ وہ بچہ بھی ہیلوسی نیشنز کا شکار تھا، ڈس ایبل تھا، بقول ڈاکٹرز Catatonic۔ مگر مصنفہ کو گم راہ کن صوفیانہ پن سے ذاتی لگاؤ ہے لہٰذا روحانی ترقی سے منور پاگل پن متعارف کروا دیا۔
قیوم کے باپ کو بھی پاگل دکھایا جاتا ہے لیکن اس پر بھی ناول نگار کی تیار کردہ تھیوری والی توجیہ لاگو ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
ساڑھے چار سو صفحات میں مصنفہ نے پڑھنے والے کو آخر میں محض یہ بتایا ہے کہ اگر ابنارمل ہونے کی کوئی بائیولوجیکل یا منطقی وجہ نہ ہو تو اسے سوپر نارمل کہہ کر دل کو تسلی دے لیں۔ روحانی پاگل پن کا تصور جو کہ مصنفہ کے صوفیانہ جھکاؤ کی پیداوار ہے، اسے فکشن میں اس سطح پر لانا کہ وہ بائیولوجیکل anomaly کا متبادل بن جائے ایک ادبی بلکہ فکری جعل سازی بن جاتا ہے۔ (ایسی بے سر و پا اور بے اصل تھیوریز کے نتیجے میں لوگ کم عمر ہینڈی کیپڈ بچوں تک کو زنجیروں سے باندھ کر درباروں، مزاروں پر چھوڑ آتے ہیں۔ وہاڑی کی تحصیل بوریوالا میں حضرت حاجی شیر کا مزار ایسے پاگل پن کے مریضوں کا ری ہیب سنٹر ہے جہاں کوئی نیورو سرجن، تھیراپسٹ یا سائیکاٹرسٹ ان کی مدد نہیں کرتا بلکہ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صاحب مزار کی کرامت سے تن درست ہو جائیں گے اور زنجیر تڑوا کر گھر پہنچ جائیں گے۔ وہاں ان بچوں اور ذہنی مریضوں کے ساتھ کیا کیا ہونا ممکن ہے اس کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ بس ہر بڑے چھوٹے، پڑھے لکھے جاہل کو روحانی چورن پھانکنے کی پڑی ہوئی ہے )
ناول کا ایک اور قابل اعتراض نکتہ ناول میں جنسیت کی انتہائی حد تک شمولیت ہے۔ اس سے کم اور محدود پیمانے کے مواد اور مناسب الفاظ کے ساتھ بھی ایک بہتر پیغام کی کہانی لکھی جا سکتی تھی لیکن شاید مصنفہ نے دو انتہاؤں کو خوش کرنا تھا، پہلے وہ جو عریانیت پسند ہیں، جنہیں تحریروں میں erotics درکار ہے، دوسرا وہ شاؤنسٹ اور مسوجنسٹ طبقہ، جنہیں بہر صورت عورت کو کم تر دیکھ کر اور پڑھ کر خوشی اور سکون ملتا ہے۔
ناول کی زبان میں جو صنفی امتیاز ہے وہ بے حد شدید ہے۔ ناول کے پہلے صفحے کے دوسرے پیرے میں ہی مصنفہ سیمی کے تعارف میں اسے ”نئی کار جیسی لڑکی“ کہہ دیتی ہیں۔ اس سے پہلے اسی منظر کی تمام لڑکیوں کو چولستانی ہرنیاں کہا۔ چولستانی ہرنی یا ایسی کسی تشبیہ کو ہم روایتی پیرایہ میں لے کر نظر انداز کر سکتے ہیں جس طرح قدیم کلاسیکی شاعری میں عورت کو ایسے ہی دیکھا اور لکھا جاتا تھا جیسے وہ کوئی با وقار برابر کے انسانی حقوق رکھنے والا انسان نہیں، صرف مرد کے دل بہلاوے کا سامان ہے۔ مگر اسے نئی کار سے ملانا صریحاً تذلیل ہے۔ وہ اس کے معاشرتی اور طبقاتی پس منظر کو بھی نفرینی انداز میں ”گلبرگی سماج کی پیداوار“ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔
پھر ”ڈبہ پیک“ جیسے الفاظ اور تصورات جن کو تصور کہنے سے اچھا ہے کہ ”بل شٹ“ کہہ لیا جائے۔ کیا عورت کوئی پراڈکٹ ہے؟ کوئی اوبجیکٹ ہے جس کی قیمت ادا کر کے اس کی ملکیت کوئی اپنے نام لکھوا لے گا؟ اور پھر اسے اوپنڈ، فرسٹ ہینڈ، سیکنڈ ہینڈ یا ٹچڈ اور ان ٹچڈ جیسی مرکنٹائل اور بازاری اصطلاحات سے بیان کیا جائے گا؟
دوسری طرف آفتاب تھا، اس کے لیے مصنفہ کے ذخیرہ الفاظ دیکھیں : ”مقدس، یونانی دیوتا، کنوارا، کشمیری حُسن، معصوم۔“ اسے بھی کہہ دیتیں نئی موٹر سائیکل جیسا، یا چلو جمبو جیٹ جیسا۔ مگر نہیں کہا۔ کیوں کہ کوئی بغض نہیں تھا۔
اس کے علاوہ مصنفہ نے ورکنگ ویمن کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ بھی ذلت اور نفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق انہوں نے لکھا: ”وہ مینڈکیاں ہیں جنہیں ہلکا ہلکا زکام ہو گیا تھا۔“ اندازہ کریں تہذیب نواز کے قلم کا۔ یہ خواتین کے خلاف بے جا تعصب اور نفرت نہیں ہے تو کیا ہے؟ ایسا کرنے کی شاید ایک تاریخی وجہ ہے اور وہ یہ کہ ناول ضیاء الحق کی آمریت میں لکھا گیا جہاں مذہب کو استعمال کر کے سیاسی مقاصد حاصل کیے گئے۔ وہ دور جہاں مذہب زدہ قوم پرستی قومی پالیسی کا حصہ تھی اور جہاں عورت کا صرف ایک ہی مقام تھا اور وہ تھا چولھا۔ اسی دور میں پی ٹی وی کے لیے سیریلز لکھنے والی حسینہ معین، فاطمہ ثریا بجیا اور دیگر کو سرکاری حکم نامہ دیا گیا کہ وہ ڈراموں میں خاتون یا ہیروئن کا کردار مضبوط اور خود مختار لڑکی کے طور پر نہ دکھائیں، بلکہ اسے پست، کمزور، بے بس اور اطاعت شعار بنا کر دکھائیں۔ [رائٹرز کے انٹرویوز موجود ہیں آپ تصدیق کر سکتے ہیں ] لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ بانو نے شعوری طور پر خواتین کرداروں کے لیے ہتک آمیز الفاظ تحریر کیے۔ اسے ہم ادبی دیانت داری تو نہیں کہہ سکتے۔ یا کہہ سکتے ہیں؟
آفتاب کا موقف اور اس کے لیے مصنفہ کا ہم دردانہ رویہ کئی الگ سوالات کھڑے کرتا ہے۔
آفتاب ایک بزدل اور دھوکے باز مرد تھا جس نے ایک لڑکی کو محبت کا جھانسا دے کر موت سے ہم کنار کر دیا۔ اس کے پاس سیمی کو چھوڑنے کی واحد وجہ یہ تھی کہ خاندان ناراض ہو گا اور وہ تمام آسائشیں اور نعمتیں جو اسے اتفاقیہ میسر ہیں، وہ اس سے چھن جائیں گی۔ وہ اپنی زندگی کو مشکل بنا لینے سے ڈر گیا۔ ملک التجار کا بچہ تھا نا! موروثی طور پر حسابی کتابی تھا۔ پھر بجائے یہ کہ وہ اپنی بزدلی، کم ہمتی اور کمینگی تسلیم کرتا اور سیمی سے معافی مانگتا وہ الٹا اپنے کیے کی ایسی وضاحتیں اور صراحتیں پیش کرتا ہے کہ کیا کہنے۔ وہ قیوم سے بات کرتے ہوئے طنزاً کہتا ہے کہ ”کچھ لوگوں کو محبت پائیدار کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے، خاص کر لڑکیوں کو، ایسے لوگوں کو وہم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ جوان رہیں گے، ہمیشہ محبت کر سکیں گے۔ ان لڑکیوں کے دماغ میں اس قدر بھوسا کیوں بھرا ہوتا ہے۔“
افسوس ہے سیمی کی پسند پر کہ اس نے آفتاب جیسے سے دل لگا لیا۔ جس میں خوش شکلی کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی۔ جس کی اپنی کوئی پسند یا نا پسند نہیں تھی، زندگی کے متعلق کوئی ٹھوس نظریہ نہیں تھا۔ جس کی قوت فیصلہ صفر تھی۔ جس نے تعلیم اس لیے چھوڑ دی کہ وہ جاب نہیں کرنا چاہتا تھا، اور جاب اس لیے نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ کوٹ ٹائی میں اوپرا اوپرا لگے گا۔ اس نے دوران کالج لندن جانا اس لیے چن لیا کہ ابا کے کاروبار کی لندن برانچ کا مینیجر استعفیٰ دے گیا تھا۔ وہ ڈگری مکمل کرنے کا انتظار کرتا تو پیر جمانے کا یہ موقع ہاتھ سے سرک جاتا ہے۔ اتنی ریاضی دانی! واہ۔
ناول کے اختتام سے بھی پورا انصاف نہیں کیا گیا۔ اسے کافی عجیب اور نامکمل انداز سے بند کیا گیا ہے۔ سوال پھر بھی پڑھنے والے سے ہی پوچھا گیا کہ انسان کو ابنارمل سے سوپر نارمل تک پہنچنے کے لیے جانے ابھی کس کس منزل سے گزرنا ہے۔ اول تو مصنفہ نے ابنارملٹی اور سوپر نارملٹی کی وجوہات الگ الگ بتا کر بھی انہیں آپس میں ملا دیا ہے۔ پھر سوپر نارملٹی کو منصّۂ شہود پر لانے کا انداز۔ اس پر تو میں کچھ نہ کہوں تو بہتر ہے۔
میرے اس تجزیے سے لگا ہو گا کہ مجھے یہ ناول برا لگا۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ مجھے یہ ناول پسند ہے، اور ساری کمیوں اور غلطیوں کے باوجود میں اسے پڑھ سکتی ہوں۔
غلطی کا امکان ہر جگہ ہوتا۔ ہمارا پسندیدہ مصنف بھی کچھ باتیں غلط کہہ اور لکھ سکتا ہے، اس پر ہمیں اس سے سوال کر لینا چاہیے۔ میں نے بھی یہی کیا ہے۔
اس ناول کا تجزیہ کرتے ہوئے جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھی کہ ہمارے جمالیاتی اور ادبی ذوق میں زیادہ فرق نہیں آیا۔ یہ ناول اسّی کی دہائی میں تحریر ہوا، اس کا مذہبی ٹچ شدید نوعیت کا تھا، اس کے باوجود یہ ناول مقبولیت کے ریکارڈ بنا گیا۔ آج چالیس سال بعد بھی اس معاشرے میں قارئین اسی طرز کے ناولز کے رسیا ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ انہوں نے اپنے ذہنوں کو بالغ نہیں ہونے دیا۔
میں اس ناول کو اس کی فکری خامیوں کے باوجود ایک بار ضرور پڑھنے کے لائق سمجھتی ہوں، مگر عقیدت کا چشمہ اتار کر، سوالوں کے ساتھ، بیدار مغزی کے ساتھ۔

