آرٹسٹ عبدالسلام سے ایک مختصر ملاقات


میں شہر کے مشہور چائے خانے ”نیشنل ٹی سٹال“ میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ وہ چائے خانہ بازار کے پر رونق مقام پر واقع تھا۔ دکان کے اندر بینچ اور ٹیبل لگے ہوئے تھے جہاں چائے کے متوالوں کو گرما گرم دودھ پتی پیش کی جاتی تھی۔ سٹال کے باہر بھی کچھ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں تاکہ جو گاہک چاہے سرعام چائے سے راز و نیاز کر لے۔ گو کہ وہ چائے خانہ میرے گھر سے تھوڑا فاصلے پر تھا، لیکن میں وہاں ہمیشہ پیدل آنا پسند کرتا تھا۔ اس طرح میں چائے کے ساتھ ساتھ واک کر کے مکمل تازہ دم ہو جاتا تھا۔ کبھی کبھی کسی کزن یا دوست کی رفاقت میسر آجاتی۔ لیکن زیادہ تر میں اکیلا ٹی سٹال پر آ جاتا اور چائے کی چسکیوں کے ساتھ ساتھ موبائل پر کوئی کتاب پڑھ لیتا، گانا سن لیتا یا محض سوشل میڈیا استعمال کر لیتا۔

اس روز بھی میں نیشنل ٹی سٹال میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ میرے آس پاس، دکان کے اندر اور باہر، بہت سے لوگ موجود تھے۔ گہما گہمی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ سب چائے پی رہے تھے۔ کوئی گپ شپ کرنے میں مصروف تھا تو کوئی اخبار پڑھنے میں مگن۔ کوئی سگریٹ کا دھواں اڑا رہا تھا تو کوئی موبائل کی سکرین میں غوطہ زن۔ سٹال میں داخل ہونے کے دو رستے تھے۔ باقی دو اطراف میں دیوار تھی۔ میں ایک کونے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ اور سامنے دیواروں پر بنیں دو بڑے سائز کی پینٹنگز کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔

وہ دو لینڈ اسکیپ تھے۔ ایک کے پس منظر میں آبشار بنی ہوئی تھی اور آگے ایک درخت پر ایک عقاب اڑان کے لیے پر تول رہا تھا۔ دوسری پینٹنگ میں ایک جنگل کا منظر تھا۔ دور بیک گراؤنڈ میں ایک پہاڑ کی چوٹی چمک رہی تھی اور آسمان پر بدلیاں منڈلا رہیں تھیں۔ ان دونوں لینڈ اسکیپ میں ایک چیز مشترک تھی۔ جو تڑپ آبشار سے گرتے پانی میں تھی، وہی بے چینی پہاڑ کی سلوٹوں میں تھی۔ جو اضطراب عقاب کے پروں میں تھا، وہی فغاں بادلوں کے گالوں میں تھا۔ وہ نظارے ایک سنسنی کی کیفیت پیدا کر رہے تھے۔ اور وہ سب اثرات پینٹر نے فقط برش کے اسٹروک سے پیدا کیے تھے۔

ایک پینٹنگ کے نیچے دستخط کیے ہوئے تھے : ”آرٹسٹ عبدالسلام۔“ ساتھ رابطہ نمبر بھی دیا ہوا تھا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا۔ میں سٹال سے باہر آیا اور اس نمبر پر کال ملا دی۔ دوسری طرف سے ’ہیلو‘ کی آواز آئی۔ میں نے بتایا کہ نیشنل ٹی سٹال میں ان کی پینٹنگز دیکھیں اور وہیں سے ان کا نمبر ملا۔ میں نے ملنے کی خواہش ظاہر کی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی اور مجھے گورنمنٹ ہائی سکول میں عصر کے وقت آنے کا کہا جہاں وہ ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔

میں دیواری آرٹ کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوا کہ اپنے تخیل میں مصور کی صورت گری کرنے لگا۔ کیسا ہو گا آرٹسٹ عبدالسلام؟ ایک قابل استاد جو شاگردوں کے جھرمٹ میں کام کر رہا ہو گا۔ میں نے ایک حلوائی کی دکان سے مٹھائی کا ڈبہ خریدا اور مقررہ وقت پر ہائی سکول پہنچ گیا۔ سیکیورٹی گارڈ نے مجھے ایک کلاس روم کی طرف جانے کا اشارہ کیا جہاں آرٹسٹ صاحب کام میں مصروف تھے۔

میں کمرے میں داخل ہوا تو ایک ضعیف شخص تن تنہا کام میں مگن تھا۔ وہ مجھے پر تپاک انداز سے ملے۔ جیسے میری آمد نے ان کی تنہائی کو کچھ گھٹا دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک دیوار اور کچھ الماریوں کے پینل بنانے کا کام ملا ہوا تھا جو تھوڑی دیر میں مکمل ہونے والا تھا۔ وہ صرف چار بنیادی رنگوں کی مدد سے پینٹنگ بناتے تھے۔ بیشتر وہ دیواریں ہی مصور کرتے تھے۔ ان کی کمائی کا کوئی باقاعدہ ذریعہ نہیں تھا۔ بس جس سکول یا دکاندار کو کوئی کام کرانا ہوتا تو انہیں بلا لیتے تھے۔

تھوڑی دیر بعد اسکول انتظامیہ کا ایک کلرک ان کی اجرت دینے آیا تو معلوم ہوا کہ وہ مقررہ قیمت سے کچھ کم تھی۔ آرٹسٹ کے حق میں میں نے بھی صدائے احتجاج بلند کی۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کلرک نے بتایا کہ پرنسپل صاحبہ نے اتنے ہی پیسے دیے تھے۔ وہ اس میں ایک پیسے کا بھی اضافہ نہیں کر سکتا۔ پینٹر صاحب کو زیادہ مسئلہ ہے تو اگلی دفعہ کام نہ پکڑیں۔ آرٹسٹ عبدالسلام نے چار و ناچار پیسے رکھ لیے اور بتایا کہ ان کے لیے وہ ایک معمول کی بات تھی۔ رات کو ہم نے نیشنل ٹی سٹال پر پھر ملنے کا منصوبہ بنایا۔

میں مقررہ وقت پر نیشنل ٹی سٹال کے باہر پہنچ گیا۔ آرٹسٹ عبدالسلام کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ میں نے انہیں فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ چند قدم آگے ”لاہوری فش کارنر“ پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ مجھے بھی وہیں بلا لیا۔ تعجب کی بات کہ انہوں نے مجھے کھانے میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ لیکن مجھے برا نہیں لگا۔ میں نے سوچا کہ اجرت پوری نہ ملنے کی وجہ سے شاید وہ افورڈ نہیں کر سکتے ہوں گے۔ لیکن انہوں نے کسی قسم کی پشیمانی کا اظہار نہ کیا۔ وہ تلی ہوئی مچھلی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے کھیل رہے تھے۔ ان کا موڈ خوشگوار تھا۔ گویا کام کی تکمیل پر خود کو ٹریٹ دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا گھرانا چار افراد پر مشتمل تھا۔ وہ، ان کی بیوی اور دو کم سن بچے۔ گھر میں کمانے والے وہ واحد شخص تھے۔ آمدنی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا۔ لیکن روٹی کا آخری نوالہ دیر تک چباتے ہوئے وہ اپنی زندگی سے مطمئن نظر آئے۔

اس کے بعد ہم نیشنل ٹی سٹال پر چائے پینے آ گئے۔ وہاں لگیں ان کی پینٹنگز موضوع گفتگو تھیں۔ ایک لینڈ اسکیپ کی طرف دیکھ کر لا ابالی انداز سے بولے کہ وہ ابھی ادھوری تھی۔ مجھے تعجب ہوا کہ وہ تصویر کیسے ادھوری تھی؟ جبکہ میں اس تصویر کو مکمل سمجھتا تھا۔ اور آخر انہوں نے اس تصویر کو ادھورا کیوں چھوڑا؟ اور اس کی تکمیل میں کیا امر مانع تھا؟ میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے انہیں اجرت پوری نہ ملی ہو سو انہوں نے اس تصویر کو ادھورا چھوڑ دیا اور وہ بھی اس انداز سے کہ عام دیکھنے والے کو محسوس نہ ہو۔ صرف اس کے بنانے والے کو معلوم تھا کہ اس کی تخلیق میں کیا کجی تھی۔

میں کچھ روز بعد نیشنل ٹی سٹال چائے پینے گیا تو وہی رونق اور گہما گہمی تھی۔ میں ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا اور آرٹسٹ عبدالسلام کے بنائے شاہکار دیکھنے لگا۔ اس نظارے میں لیکن اب وہ لطف نہیں تھا، وہ جوش نہیں تھا۔ پینٹنگ کے نیچے دیے گئے نمبر پر کال کے بعد معاملات مختلف ہو گئے تھے، سنجیدہ ہو گئے تھے، سادہ نہ رہے تھے۔ اب جب میں نے آبشار، پہاڑ، عقاب اور بادلوں کی طرف دیکھا تو کسی اور طرح کی کشمکش، بے چینی، اضطراب اور فغاں نظر آیا۔ لینڈ اسکیپ کے روپ میں آرٹسٹ کی زندگی کا پورٹریٹ نظر آیا جس میں آرٹ کی بے قدری، حالات کا جبر اور معاشی تنگ دستی کے رنگ بھرے ہوئے تھے۔

مجھے آرٹسٹ عبدالسلام کی وہ بات یاد آئی کہ ایک پینٹنگ ادھوری تھی۔ کیا انہوں نے وہ بات محض استعارتاً کی تھی؟ جو پینٹنگ کو ظاہراً دیکھے گا اسے اس کی صرف خوشنمائی نظر آئے گی۔ تصویر کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر کال کرنے کی ضرورت تھی۔ تاکہ آپ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔ جو کہ ایک تلخ حقیقت تھی، صریح اذیت تھی۔ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایک کے بغیر دوسرا ادھورا تھا۔ لیکن نیشنل ٹی سٹال میں چائے پینے والے بیشتر حضرات اس تصویر کے صرف دلفریب روپ سے واقف تھے۔ مجھ جیسے بس کچھ لوگ اس کے کرب کے پہلو سے آشنا ہوں گے جنہوں نے نیچے دیے گئے نمبر پر کال کی جسارت کی ہو گی۔

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid