بس! جنگ بند کرو۔ یوکرین کے مشرقی محاذ سے اٹھتی ہوئی آواز
یوکرین پر روس کے حملے کو تین برس گزر چکے ہیں۔ میدانِ جنگ میں پھر سے شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ کبھی یوکرین سرحد پار ڈرون اور میزائل حملے کر کے روسی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ تو کبھی روس بھرپور جوابی ضرب لگا کر اپنا پلڑا بھاری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روسی صدرولادیمیر پوٹن کے حالیہ بیانات میں بھی پہلے سے زیادہ سختی نظر آتی ہے۔ وہ بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ماسکو اپنی سرحدوں کے قریب کوئی خطرہ برداشت نہیں کرے گا۔ اس آنکھ مچولی نے لڑائی کو ایک ایسے ترازو میں بدل دیا ہے۔ جس کا ایک پلڑا کبھی ہلکا اور کبھی دوسرا بھاری ہو جاتا ہے۔ مگر توازن مستقل غیر یقینی ہی رہتا ہے۔
فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ نے اب تک دونوں ممالک کو انسانوں، معیشت اور بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ غیر جانبدار تجزیوں کے مطابق فوجی اور شہری ہلاکتیں ملا کر نقصانات کا تخمینہ لاکھوں تک پہنچ چکا ہے۔ یوکرین کے کئی شہر بار بار میزائل حملوں سے اجڑ چکے ہیں۔ جب کہ روس کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں نے مقامی آبادی کے لیے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ لاکھوں یوکرینی باشندے بیرونِ ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جبکہ روسی خاندانوں میں بھی وہ غم آہستہ آہستہ گھر کر گیا ہے جو ہر محاذی جنگ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
معاشی میدان میں، روس پر پابندیوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو مسلسل اضطراب میں رکھا ہے۔ اور یوکرین کی زرعی برآمدات رکنے سے اناج کی قیمتیں دنیا بھر میں اوپر گئی ہیں۔ انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور لاکھوں بے گھر افراد کی فلاحِ عامہ کے اخراجات مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے بجٹ پر بھاری بوجھ بنے رہیں گے۔ ماحولیاتی نقصان الگ ہے۔ جس میں تیل ڈپوؤں کی آگ اور صنعتی علاقوں پر حملوں سے کاربن اخراج اور مقامی آلودگی میں اضافہ شامل ہے۔
سماجی سطح پر طویل لڑائی نے ذہنی دباؤ اور نقل مکانی کے ایسے مسائل کو جنم دیا ہے جن کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ سابق فوجیوں میں جسمانی معذوری اور نفسیاتی صدمات عام ہیں۔ جب کہ بچوں کی ایک پوری نسل کو تعلیم کے بجائے بم پناہ گاہوں اور مہاجر کیمپوں کی فضا نے گھیر رکھا ہے۔ یہ اجتماعی زخم بھرنے میں برسوں نہیں بلکہ دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
یوکرین پر روس کے حملے کو تین برس سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ اَور اب جنگی تھکن خود روسی کمانڈروں کی زبان پر آ چکی ہے۔ حال ہی میں کورسک کے قریب متعین ایک روسی کمانڈر نے کھلے عام اعتراف کیا کہ ”یہ لڑائی اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی۔ جب تک ہم احمقانہ طریقے سے ایک دوسرے کو مار نہ ڈالیں۔ لہذا بس! اب بند کرو“ ۔ روسی کمانڈ نے خبردار کیا کہ بالآخر کوئی تیسری طاقت فائدہ اٹھا کر دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب سرکاری بیانیہ سخت ہوتا جا رہا ہے اور حملے تیز ہو رہے ہیں۔ کسی صف اول کے افسر کی یہ صاف گوئی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ محاذ کے اندر سے بھی جنگ پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس آواز کو سننا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر لڑائی اسی شدت سے جاری رہی تو پلڑے کا اتار چڑھاؤ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ایک دن یوکرین کا دعویٰ غالب آئے گا۔ تو اگلے دن روس پوری قوت سے حساب برابر کرے گا۔ مگر نتیجہ صرف مزید تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ ایسے میں پائیدار امن تک پہنچنے کے لیے پہلا قدم یہی ہو سکتا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں، قیدیوں اور شہریوں کے تحفظ کے فوری انتظامات کریں اور کسی غیر جانب دار پلیٹ فارم پر مذاکرات کے دروازے کھولیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کو آسان بنائے۔ لیکن اصل اشارہ انہی ملکوں کے اندر سے آنا چاہیے جن کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
بالآخر، لڑائی میں فتح اور شکست کے روایتی تصور بے معنی ہو چکے ہیں، کیونکہ جانی نقصان، معاشی بدحالی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ سبھی کو یکساں کمزور کر رہی ہے۔ جب صفِ اول کا ایک کمانڈر کہتا ہے ”بس، جنگ بند کرو!“ تو یہ کوئی نعرہ نہیں بلکہ تجربے سے جڑی ہوئی تلخ حقیقت ہے۔ اگر اس صدا پر کان نہ دھرے گئے تو یہ ترازو مزید لاشیں، تباہ شدہ شہر اور لٹکی ہوئی معیشتیں ہی تولتا رہے گا، اور حقیقی امن بدستور دور رہ جائے گا۔

